انتخابات کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے، یہ قوم پر احسان نہیں

طویل  بے یقینی کے بعد اب وفاقی وزیر خرم دستگیر نے  کہا ہے  کہ پاکستانی عوام 10 نومبر تک انتخابات کی توقع کرسکتے ہیں۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے 2023 کو انتخابات کا سال قرار دیا۔ اس دوران  مسلم لیگ (ن) نے   وزیر اعظم شہباز شریف کو ایک بار پھر چار کے لئے اپنا صدر منتخب کرلیا ہے۔ اس  موقع پرخطاب کرتے ہوئے  وزیر اعظم نے اسحاق ڈار پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ایسے لوگوں کے لئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس دوران  وزیر خزانہ   ایک روز پہلے آئی ایم ایف کے مقابلے میں  ’ملکی خودمختاری‘ کی دہائی دینے کے بعد   آج یہ اقرار کررہے  ہیں کہ حکومت  آئی ایم  ایف کی ’شکایات‘ دور کرنے  کے لئے کوئی بھی قدم اٹھانے کے لئے تیار ہے۔

ملک کے تین طاقت ور اور ذمہ دار  سیاسی لیڈروں  کی  ایک دوسرے سے متضاد اور عامیانہ باتیں یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ حکومت کے پاس نہ کوئی منصوبہ ہے، نہ  وہ معاشی و سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ  ہی  وہ نیک نیتی سے انتخابات کی طرف جانے کے لئے تیار ہے۔ آج سینیٹ میں   منظور ہونے والی انتخابی ایکٹ میں ترامیم بھی حکومت  کی کمزوری اور انتخابات کے حوالے سے  غیر سنجیدگی کا اظہار ہیں۔ ان ترامیم کے تحت ایک تو الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے  کہ وہ جب چاہے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے۔ اسے صدر یا گورنر سے  مشاورت اور رہنمائی کی  ضرورت نہیں ہے۔ دوسرے ایک نئی ترمیم کے تحت  پارلیمنٹ سے نااہلی کی مدت کو پانچ سال مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے قانون میں غیر معینہ نااہلی کی کوئی صراحت موجود نہیں تھی۔ اسی لئے سپریم کورٹ نے جب آئینی شق 62، 63 کے تحت   نواز شریف  کو نااہل کیا تو اسے تاحیات نااہلی قرار دیا گیا تھا۔ نئی ترمیم نواز شریف کو ایک بار پر انتخابات کا اہل قرار دینے کی طرف ایک  قدم ہے۔

شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے  نواز شریف کو ہی اصل لیڈر قرار دیا۔ اس سے پہلے پارٹی لیڈر اور وزرا یہ بیان دیتے رہتے ہیں کہ  نواز شریف واپس آکر ملک کو تمام مسائل سے نجات دلائیں گے۔  اب شہباز شریف کے کہا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کی پابندیوں کی وجہ سے پارٹی انتخابات کرواکے یہ عہدہ  قبول کیا ہے ورنہ اس  کے اصل حقدار نواز شریف ہیں۔  ان باتوں کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو سادہ سا سوال تو یہی ہے کہ کیا وجہ ہے کہ  اپنی حکومت قائم ہونے کے باوجود نواز شریف وطن واپسی کا   ’خطرہ‘ لینے  پر تیا ر نہیں ہیں۔ کیوں کہ  وہ ایک سزا یافتہ مجرم کے طور پر عدالت کی خصوصی اجازت سے چند ہفتوں کے لئے ملک سے گئے تھے۔  اسی لئے انہیں عدالتوں نے مفرور قرار دے رکھا ہے ۔ ابھی تک قانون میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے جس کے تحت  ایک مقدمے میں سزا یافتہ شخص کو کسی عذر کے بغیر ضمانت دے دی جائے۔   اسی لئے نواز شریف مسلسل لندن میں مقیم ہیں اور کسی ایسے موقع کا انتظار کررہے ہیں کہ شہباز حکومت  قانون سازی کے ذریعے انہیں جیل جانے سے  استثنی دلوا سکے۔ اس کے علاوہ انہیں اعلیٰ عدالتوں کے بعض خود مختارانہ رائے رکھنے والے یا تحریک انصاف کے ہمدرد ہونے کی شہرت  رکھنے والے ججوں سے بھی اندیشہ ہے کہ   وہ واپسی پر انہیں جیل بھیجنے پر اصرار کریں گے  اور انہیں قانون سے استثنی نہیں دیاجائے گا۔

شہباز حکومت نے سانحہ 9 مئی کا سہارا لے کر کسی حد تک عدالت عظمی کو دفاعی پوزیشن پر کھڑا کیا ہے لیکن جب تک موجودہ چیف جسٹس اپنے عہدے پر موجود ہیں، حکومت کو اپنے ارادوں کے بارے میں اندیشے لاحق رہیں گے۔  ملک  میں قانون سازی اور عدالتی نظام کو خالص سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی یہ روایت نئی تو نہیں ہے لیکن اس سے پہلے اتنے بھونڈے انداز میں اس کا اظہار دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ ایک طرف فوج کی چاپلوسی میں ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے   سے  پسپائی  تو دوسری طرف   سپریم کورٹ کو نیچا دکھانے کے لئے بیان بازی کے علاوہ نت نئی قانون سازی سے ایسا ماحول پیدا کیا جاچکا ہے جس میں ملک کا نظام عدل  ناکارہ ہوتا جارہا ہے۔ ان حالات میں تحریک انصاف کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں اور سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کو ہراساں کرنے کے  ہتھکنڈے سیاسی آزادی اور  میڈیا کی خود مختاری  کو متاثر کررہے ہیں۔

شہباز شریف نے نواز شریف کو  ملک کا معمار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’نواز شریف اور ہماری پارٹی نے اپنا سیاسی سرمایہ جھونک دیا۔ ہم نے  سیاست نہیں کی ، ریاست کو بچایا ۔  اتنے مشکل حالات میں یہ کوئی  آسان فیصلہ نہیں تھا۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی کیونکہ دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی تھیں‘۔ یوں تو شہباز شریف کی سب باتیں ہی نرالی ہیں ۔  حیرت ہوتی ہے کہ سیاسی و معاشی امور میں ایسی استعداد رکھنے والا شخص ملک کا وزیر اعظم اور سب سے بڑی پارٹی کا  صدر ہے۔ ان  کی باتوںمیں نہ کوئی نیا پن ہے، نہ مسائل کا حل ہے اور نہ ہی وہ حقیقی مسائل  بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاکہ عوام حکومت کی مشکلات سے آگاہ ہوسکیں ۔ لیکن یہ باور کروانے پر مصر ہیں کہ نواز شریف کا کوئی متبادل   نہیں ہے۔ پاکستان پچیس کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ اگر اس ملک میں ایک سیاسی لیڈر ہی ناگزیر ہے تو پھر کیا  ایسے ملک کے بارے میں  خاکم بدہن بدخواہوں کے یہ دعوے درست  ثابت نہیں  ہوجاتے  کہ ایسے ملک کو زندہ رہنے کا کیا حق حاصل ہے۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف اور عمران خان بھی اسی نعرے کا پرچار کرتے ہیں کہ عمران خان کے علاوہ  کوئی اس ملک کو مشکلات سے نہیں نکال سکتا۔ اب مسلم لیگ (ن) بھی اسی پروپگنڈے کے زور پر کسی بھی طرح نواز شریف کی واپسی کو آسان بنانا چاہتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) جیسی بڑی پارٹی کو کسی ایک لیڈر کا محتاج ہونے کی بجائے  رہنماؤں کی  پوری پلٹن سامنے لانی چاہئے تھی لیکن سیاسی پارٹیوں  کو فیملی انٹر پرائز بنا کر ملکی سیاست میں عام سیاسی کارکنوں کی دلچسپی اور سرگرمی کو محدود کردیاگیا ہے۔ سیاسی کارکن جانتا ہے کہ وہ جتنی بھی محنت  کرلے ، اسے کبھی پارٹی کی صدارت  نہیں مل سکتی کیوں کہ اس کے لئے وراثت کا سرٹیفکیٹ ضروری ہے۔ اس لئے وہ نعرے تو لگا سکتا ہے لیکن سیاسی پارٹی کا ڈھانچہ مضبوط کرنے اور اصولوں پر ملکی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کاوش نہیں کرتا۔ درحقیقت   سوجھ بوجھ   کے ساتھ   مسائل  اور ان کے  حل  کی رائے  رکھنے والے نوجوان سیاسی طور سے متحرک ہی نہیں ہوتے۔  ملک  کی اہم سیاسی پارٹیوں کی اسی ثقافت کی  وجہ سے نوجوان ووٹروں  کی ایک بہت بڑی تعداد عمران خان کی حامی ہوگئی تھی اور انہیں ہی تمام مسائل کا حل سمجھنے لگی تھی۔ لیکن مسلم لیگ (ن) سمیت کسی بھی سیاسی پارٹی نے ملکی سیاست میں برپا ہونے والے اس بحران  سے کوئی سبق  نہیں سیکھا۔ ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کا صدر بننے کے بعد شہباز شریف کی تقریر اس افسوسناک حقیقت کا برملا اظہار ہے۔

یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ عسکری اداروں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ’عمران پروجیکٹ‘ لانچ کرنے اور  عمران خان  کو اقتدار میں لانے کے لئے  سیاسی معاملات میں مداخلت کی ۔ نواز شریف کو سیاست سے بے دخل کروانے کا اہتمام کیا گیا اور  عمران خان سے سب امیدیں باندھ لی گئیں۔ یہ امیدیں کچھ تو گزشتہ سال تحریک عدم اعتماد کے بعد رونما ہونے والے حالات میں ختم ہوگئیں اور رہی سہی  سانحہ 9 مئی کے  بعد دم توڑ گئیں۔  لیکن سیاسیات کو کوئی بھی طالب علم ان عوامل کے باوجود عمران خان  کے لئے ایک پوری نسل کی وارفتگی کا    جواب تلاش کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ تب  و ہ  ملک کی  بڑی سیاسی پارٹیوں کی ناقص  تنظیم سازی، فرسودہ نعروں، نااہل قیادت اور مورثیت  جیسے پہلوؤں کو بھی ان وجوہات میں شامل کرے گا جن کی وجہ سے ملکی سیاست  میں عمران خان کے نام سے ایک ایسا بحران پیدا ہؤا جس سے نمٹنے کے  لئے پوری ریاستی طاقت بھی کم پڑ رہی ہے۔

آئی ایم ایف اور اسحاق ڈار کے حوالے سے شہباز شریف کی تقریر کے جو جملے رپورٹ ہوئے ہیں ، وہ ایک  بے بصر اور کم ہمت لیڈر کی  تصویر سامنے لاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو راضی کرنے کے لئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دن رات محنت کی۔ ہم اس کی شرائط تسلیم کرنے کے لیے الٹے سیدھے ہوگئے ۔تا کہ کم وقت میں ہم آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرکے ملک کو ترقی کے طرف لے جائیں‘ ۔  شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’ آئی ایم ایف میں آج بھی ہمارے سینگ پھنسے ہوئے ہیں۔  دن رات کوشش ہو رہی ہے۔ جو لوگ اسحاق ڈار کی ٹانگیں کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ان کو پارٹی میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے پاگلوں کی طرح  محنت کرکے اپنی صحت خراب کرلی اور اب ان پر باتیں کی جارہی ہیں‘۔

وزیر اعظم   نے نواز شریف کے بعد اسحاق ڈار کو ناگزیر قرار دینے پر زور بیان صرف کیا۔ حالانکہ ملکی اور عالمی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ آئی ایم ایف کے حوالے سے اس وقت پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے، اس کی بنیادی وجہ اسحاق ڈار کی کم عقلی، معاشی  مسائل سے ناشناسائی اور ملکی معیشت  کے بارے میں جھوٹ بولنے اور باور کرنے کا رویہ ہے۔ اسحاق ڈار متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ’  یہ ملک اللہ نے بنایا تھا، وہی اس کی حفاظت کرے گا‘۔ گویا وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی معیشت کو لاحق مسائل حل کرنا ان کے بس میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ ملک کی وزارت خزانہ پر قابض رہنا اپنا خاندانی استحقاق سمجھتے ہیں۔

آئی ایم ایف اور قومی معیشت   کے مسائل حل کرنے کے لئے ملک میں انتخابات منعقد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسی قابل اعتبار اور مضبوط حکومت قائم ہوسکے جو متوازن انداز میں مسائل کا جائزہ لے  اور عالمی اداروں سے باہمی اعتماد پر مبنی تعلق استوار کرسکے۔  لیکن وزیر   توانائی خرم دستگیر نے   قوم پر احسان کرتے ہوئے نوید دی ہے کہ نومبر تک انتخابات ممکن ہیں۔ انتخابی عمل کے بارے میں موجودہ حکومت کا  ناجائز ، غیر سیاسی، غیر جمہوری اور کسی حد تک ماورائے آئین رویہ ہی درحقیقت مسائل   کی جڑ ہے۔ جب تک ملک  اس بحران سے باہر نہیں نکلے گا، بہتری کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے گی۔  انتخابات منعقد  کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ایسا اقدام کرکے وہ عوام پر احسان نہیں کرے گی۔