صحافت کی کالی بھیڑیں کون ہیں؟

پاکستان میں ایک بار پھر آزادی  اظہار اور  صحافتی اقدار کے حوالے سے گفتگو ہورہی ہے۔   پاکستان  کی زندگی کے 75 سال مکمل ہونے کے حوالے سے  اس مدت میں پاکستانی صحافت کی خدمات، کارکردگی، ترقی اور  کردار پر بھی مجالس سجائی جارہی ہیں۔ تاہم اس دوران  پاکستانی صحافت کے حوالے سے  سب سے اہم بیان ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دو عالمی صحافی تنظیموں کی جانب سے سامنے آیا ہے جس میں پاکستان میں  صحافیوں کو مقدمات میں ملوث کرنے کی کارروائیوں کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔

تاہم  اہل پاکستان کے لئے صحافیوں یا میڈیا کے خلاف سرکاری کارروائی اور  ان کی آواز دبانے کے طریقے کوئی نئی بات نہیں ہے۔  البتہ اس پر حیرت و اچنبھا ضرور ہوتا ہے کہ   مواصلت میں ترقی، سوشل میڈیا کی سرعت اور ٹیکنالوجی کی تبدیلی کے باوجود پاکستان میں حکام کسی تنقیدی آواز کو دبانے کے لئے وہی دہائیوں پرانے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں۔ کہ  یا تو انہیں جعلی مقدمات میں الجھا دیا جائے، نوکری سے نکلوا دیا جائے یا پھر  ضرورت محسوس ہو تو آسان ترین راستہ یہی ہے کہ کسی بھی صحافی کو غائب کردیا جائے۔ تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔  پاکستانی   باشندے اس بات کے گواہ  ہیں کہ  شہریوں کے اچانک لاپتہ  ہونے پر عدالتیں بھی عام شہریوں کی طرح ’شور مچانے‘ سے زیادہ کچھ کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔

اس پس منظر میں پاکستان میں صحافت کے حوالے سے بات کرنے سے قبل یہ دیکھناا ضروری ہے کہ  ملکی تاریخ  کے پچھتر سال کے دوران    رائے یا خبر، تنقید یا توصیف اور  فرد  یا  اصول کے پہلو سے ملکی صحافیوں  کی استعداد میں کتنا اضافہ ہؤا ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ  پاکستانی میڈیا تکنیکی ترقی کے حوالے سے دنیاکے کسی بھی میڈیا کا مقابلہ کررہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی  یوٹیوبرز، ٹوئٹر  یا ٹک ٹاک کا استعمال  کرنے والے بھی بزعم خویش ’تازہ بہ تازہ اور اندر کی خبر‘  سامنے لانے اور عوام کو ’پورے سچ ‘ سے آگاہ رکھنے کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔  یہاں ایک لمحہ کے لئے یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی معلومات چونکہ  کسی ادارتی عمل سے نہیں گزرتیں،  اس لئے انہیں سو فیصد صحافتی سرگرمی کہنا ممکن نہیں ۔

لیکن دوسری طرف پاکستان میں خبروں یا ’اندر کی خبر‘ کے حصول کے لئے سوشل میڈیا پر انحصار میں مسلسل اضافہ ہؤا ہے۔ اس صورت حال میں سوشل میڈیا پر بعض نامور صحافیوں نے دھوم مچائی ہے یا سوشل میڈیا کے استعمال سے انہوں نے خود کو اہم ’صحافی‘ کے طور پر تسلیم کروایا ہے۔  یوں تو دنیا بھر میں ہی سوشل  میڈیا مواصلت کا اہم ترین ذریعہ  بن چکا ہے لیکن ملکی سیاست اور اہم پالیسی معاملات کے حوالے سے پاکستان میں سوشل میڈیا کو غیر معمولی  اہمیت  و مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں اب بھی سوشل میڈیا پر کی جانے والی باتوں کو   غیر مصدقہ سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں یہی پوزیشن مین اسٹریم میڈیا کو حاصل ہوچکی ہے۔ اب لوگ ٹی وی پر نشر  یا اخبار میں چھپنے والی خبر کو قابل اعتبار نہیں سمجھتے بلکہ سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی   ’اندر کی خبروں‘ کو قابل اعتبار سمجھتے ہیں۔   کیوں کے سننے والے وہی سننا چاہتے ہیں جو ان کے دل میں ہوتا ہے اور  ان خواہشات کو  ’خبر‘ بنا کر پیش کرنے والے ’صحافی‘ کسی خاص طبقہ میں  قبولیت کی سند پاتے ہیں۔

اس صورت حال نے ملکی صحافت اور صحافیوں  کے  لئے ایک  نئے چیلنج کی حیثیت اختیار کرلی ہے لیکن  فی الوقت  صحافیوں یا میڈیا ہاؤسز میں کوئی ایسی سرگرمی دکھائی نہیں دیتی جس سے  ادارتی کنٹرول سے گزرنے والے میڈیا اور کسی نگرانی کے بغیر خبریں پھیلانے والے سوشل میڈیا کے درمیان قابل قبول تخصیص کی جاسکے اور عوام تک اس فرق کو پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ ان حالات میں یہ سوال اہم ہے کہ  کیا پاکستانی میڈیا اس چیلنج کا مقابلہ کرسکے گا اور کیا سوشل میڈیا کو اہم ترین اور قابل اعتبار  متبادل ’سورس‘ کے طور پر تسلیم کرنے کا رویہ محض عبوری نوعیت کا ہے۔ یا اب ملک میں صرف افواہوں یا خواہشات ہی کو  ’خبر‘ کا درجہ حاصل ہوگا۔  

گزشتہ نصف دہائی میں پاکستان میں   میڈیا کی تعلیم کو بے حد عروج حاصل ہؤا ہے۔ بلامبالغہ ملک کی  درجنوں یونیورسٹیوں سے   ہر سال سینکڑوں  طالب علم صحافت کی تعلیم حاصل کرکے میڈیا میں پاؤں جمانے کے لئے سامنے آتے ہیں۔  لیکن کیا ان یونیورسٹیوں کا نصاب  طالب علموں کو واقعی صحافت کی اقدار سمجھنے اور سماجی ذمہ داری سے آگاہ کرنے کا فرض ادا کررہا ہے۔ یا   یہ تدریس محض  تکنیکی اور تھیوری کی تعلیم دینے تک محدود  کی جاچکی ہے۔ یوں ملکی   صحافت کو ایسے نوجوان فراہم کئے جارہے ہیں جو  درحقیقت  کسی دفتری اہلکار کے طور پر کام کرنے  کو ہی  صحافت سمجھتے ہیں۔  اگر پاکستانی یونیورسٹیوں میں ماس میڈیا کی ڈگریوں کے ذریعے  صحافت کے علاوہ ملکی تاریخ و ثقافت کے بارے میں ایک خاص فریم کے مطابق  ذہن سازی کا کام کیا جارہا ہے تو پھر  ’صحافیوں‘ کی یہ پوری نسل کبھی بھی ان چیلنجز کا مقابلہ نہیں کرسکے گی جس کا   ادارتی نظام کے تحت کام کرنے والے میڈیا کو  مکمل طور سے ’آزاد‘ میڈیا کی طرف سے سامنا ہے۔ اس لئے اس امر پر حیران نہیں ہونا چاہئے کہ اگر بعض ہوشیار نوجوان میڈیا ہاؤسز کا رخ کرنے کی بجائے  براہ راست کوئی یوٹیوب چینل شروع کرکے یا وی لاگ  کے ذریعے شہرت اوردولت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

شہرت اور دولت دو ایسی اصلاحات ہیں جن سے پاکستانی صحافت  کی پوری تصویر سامنے  آجاتی ہے کیوں کہ ملکی صحافت انہی دو مقاصد کے لئے کام کرتی ہے۔  میڈیا ہاؤسز کا مطمح نظر بھی  منافع حاصل کرنا  ہوتا ہے ، اسی لئے صحافی بھی  کوشش کرتے ہیں کہ  وہ بھی  اپنی حیثیت کو شہرت حاصل کرنے اور دولت کمانے کے لئے استعمال کریں۔ بدقسمتی سے اس مرحلے پر یہ فراموش کردیا جاتا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان تاجر ہیں اور  اخبار نکالنے یا ٹی وی  چینل  شروع کرتے ہوئے ان کا مقصد منافع حاصل کرنا ہی ہوتا ہے۔  اس کے برعکس اگرچہ صحافی بھی روزگار کے حصول کے لئے اس پیشہ میں داخل ہوتا ہے لیکن اس پر اپنے سامعین  یا  قارئین کی طرف سے  بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ اگر مالکان اور صحافی اپنے اپنے طور پر دولت و شہرت کے چکر میں رہیں گے تو  صحافت تو موجود نہیں رہے گی لیکن اس کے نام پر استحصال ، بلیک میلنگ، منافع خوری اور  تعلق داری کا سلسلہ ضرور شروع ہوجائے گا۔

دنیا بھر میں   مالکان اور صحافیوں کے درمیان منافع اور  خبر کی ترسیل کے اصول میں حد فاصل  قائم کرنے کے لئے ایڈیٹر کو اہم ترین حیثیت دی جاتی ہے۔ پاکستانی میڈیا  ہاؤسز میں مالکان نے نہایت چالاکی سے کام لیتے ہوئے  اس اہم عہدہ  تک  عامل صحافیوں کو رسائی دینے کی بجائے خود ہی اسے ہتھیا لیا ہے تاکہ کوئی بھی صحافی،  صحافتی ذمہ داری کے دوران  اڑچن پیدا نہ کرسکے۔ جب کوئی صحافی  اخبار یا ٹی وی کے مالک کی خواہش پوری کرنے سے معذوری ظاہر کرتا ہے  تو وہی   مالک،  ایڈیٹر کی ٹوپی پہن کر  صحافی کی اس  مجبوری  کو اس کی پروفیشنل ذمہ داری قرار دیتا ہے۔  یعنی جب کوئی ایڈیٹر ایک فیصلہ کرلے تو عامل صحافی اسے ماننے کا پابند ہے۔  بدقسمتی سے پاکستانی صحافی مالکان کے اس استحصال کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ حالانکہ یہ فطری سی بات ہے کہ  منافع کے لئے کوئی صحافتی ادارہ چلانے والا تاجر کیوں کر ایک ایڈیٹر کا رول ادا کرنے قاہل ہوتا ہے۔ یہی وجہ  ہے کہ مغربی میڈیا  میں  تو ایڈیٹر اخبار کی پالیسی کے خلاف کسی اشتہار کی اشاعت بھی روک لیتا ہے لیکن  پاکستانی میڈیا میں  ایڈیٹروں کے بھیس میں چھپے مالکان نے   اشتہارات لانے والے منیجروں  کو صحافیوں  سے زیادہ اہمیت دی ہوئی  ہے۔  ایسے میں خبر کی حرمت، تجزیے  میں  توازن، رائے اور  وقوعہ میں فرق جیسے  امور پس منظر میں چلے گئے ہیں اور مالکان اور صحافی اپنے اپنے طور پر شہرت و دولت کے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔

دیکھا جائے تو اس نظام میں کسی حقیقی صحافی کا کام کرنا یا حقیقی خبر کی اشاعت و ترسیل کے لئے رسوخ حاصل کرلینا  تقریباً ناممکن ہے۔ ایک طرف مالکان اپنے میڈیا  ہاؤسز کو سرکار کی خوشنودی حاصل کرنے،  اشتہارات کی صورت میں  دولت بٹورنے اور اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ تو دوسری طرف اپنے بنیادی  فرض سے محروم ہونے کے بعد  عامل صحافی بھی  اس ٹائیٹل کو کسی اعزاز کی طرح گلے  سے  لٹکا کر اپنی بساط کے مطابق شہرت حاصل کرنے یا مفاد لینے کی تگ و دو کرتا ہے۔ پاکستان  میں گاڑیوں یا موٹر سائیکلوں  پر  ’پریس‘   کی تختی لگانے کی روایت دراصل  شہرت حاصل کرنے کی ایسی ہی ناجائز   خواہش و کوشش کا نتیجہ ہے۔  کسی مغربی ملک میں آپ کو کہیں کوئی ایسی گاڑی دکھائی نہیں دے گی جس کی نمبر پلیٹ پر  میڈیا سے تعلق ہونے کا اعلان کرکے ٹریفک پولیس یاشہریوں سے  امتیازی سلوک کی  کوشش کی جائے۔

دنیا بھر میں صحافیوں کو پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے’ پریس کارڈ‘ جاری ہوتے ہیں۔ تاکہ  انہیں  شناخت کروانے میں آسانی ہو اور   کسی وقوعہ کی رپورٹنگ میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔  یہ شناختی کارڈ عام طور سے صحافی تنظیموں کی طرف سے جاری ہوتے ہیں۔  اس بات کا یقین کرنے کے بعد  ہی کسی  کو صحافی تنظیم کا رکن بنایا جاتا ہے کہ متعلقہ شخص کی  سالانہ آمدنی کا کم از کم نصف بطور صحافی  حاصل کیا گیا ہو۔ اب اس اصول  کی روشنی میں پاکستان میں  ’پریس کارڈ‘ کے اجرا یا اس کے جائز و ناجائز استعمال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔    مغربی ممالک میں مروج طریقے سے یہ اصول طے ہوتا ہے کہ کسی  ایسے فرد کو پریس کارڈ جاری نہ ہو جو مستقل طور سے اس پیشے سے وابستہ نہیں ہے ۔ دوسرے  یہ طریقہ صحافی تنظیموں کی قدر  و قیمت اور اتھارٹی کو واضح کرتا ہے۔ کسی ملک کے صحافی اسی وقت بے باک اور اصولوں کے لئے  کھڑے ہوسکتے ہیں جب ان کی تنظیم طاقت ور ہو اور کسی مشکل میں حکومت یا کسی  بااثر لابی کے خلاف ان کا دفاع کرسکے۔ یہی صحافی تنظیمیں ایسی کمیٹیاں بھی قائم کرتی ہیں جو صحافیوں کے خلاف شہریوں کی شکایات   پر فیصلے کرتی ہیں۔ پاکستان میں یہ سب کام آجروں اور حکومت کے حوالے کئے گئے ہیں۔  کیوں کہ  صحافی تنظیمیں بھی سرکار سے مراعات لینے کے لئے تگ و دو ہی کو صحافت و صحافی کی سب سے بڑی خدمت سمجھتی ہیں۔

پاکستانی صحافت کے حوالے سے سب سے پریشان کن پہلو البتہ یہ ہے کہ عام طور سے صحافی  ذاتی پسند و ناپسند اور واقعاتی تجزیے میں فرق نہیں کرپاتے ۔ اسی طرح  خبریں بھی بیشتر اوقات ذاتی  خواہشات کا  پرتو ہوتی ہیں اور انہیں حقائق  و شواہد کے ساتھ پرکھ کر سامعین یا قارئین تک پہنچانے کی  کوشش نہیں  کی جاتی ۔ بیشتر صورتوں  میں  کسی خاص ایجنڈے  کی بنیاد پر  بے بنیاد باتوں کو پھیلانا ہی خبر یا اسکوپ کہلاتا ہے۔ ایسے میں پاکستانی میڈیا میں کالی بھیڑوں کو تلاش کرنا آسان نہیں ہے کیوں کہ مالکان  کی طرح بیشتر صحافی بھی ذاتی مفادات یا خواہشات کے اسیر ہیں۔