جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود فوجی ملٹری کورٹ کیس کے بنچ سے علیحدہ ہوگئے

  • جمعرات 22 / جون / 2023

فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے مقدمات کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بینچ سے جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود علیحدہ ہوگئے۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے 7 رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔

فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف دائر 4 درخواستوں پر آج چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی زیرسربراہی 9 رکنی بینچ نے سماعت کا آغاز کیا تھا۔ نو رکنی لارجر بینچ جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل تھا۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ عدالتوں کو سماعت کا دائرہ اختیار آئین کی شق 175 دیتا ہے۔ صرف آئین عدالت کو دائرہ سماعت کا اختیار دیتا ہے، ہر جج نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تحت سماعت کرے گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کو قانون بننے سے پہلے 8 رکنی بنچ نے روک دیا تھا۔ اس قانون کا فیصلہ نہیں ہوا اس لیے اُس پر رائے نہیں دوں گا۔ اس سے پہلے ایک تین رکنی بینچ جس کی صدرات میں کررہا تھا نے 5 مارچ کو فیصلہ دیا تھا۔

5 مارچ والے فیصلے کو 31 مارچ کو ایک سرکولر کے ذریعے فیصلے ختم کردیا جاتا ہے، ایک عدالتی فیصلے کو رجسٹرار کی جانب سے نظر انداز کیا گیا، یہ عدالت کے ایک فیصلے کی وقعت ہے۔ پہلے اس سرکولر کی تصدیق کی جاتی ہے پھر اس سرکولر کو واپس لیا جاتا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا اس پر 8 اپریل کو میں نے نوٹ لکھا جو ویب سائیٹ پر لگا پھر ہٹا دیا گیا۔ قوانین میں ایک قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر بھی ہے، اس قانون کے مطابق بینچ کی تشکیل ایک میٹنگ سے ہونی ہے۔ اس قانون کو بل کی سطح پر ہی روک دیا گیا، اس پر معزز چیف جسٹس نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا چیمبر ورک کرنا چاہتا ہوں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ اس 6 رکنی بینچ میں اگرنظرثانی تھی تومرکزی کیس کا کوئی جج شامل کیوں نہیں تھا؟ میں اس بینچ کو ’بینچ‘ تصور نہیں کرتا۔ میں اس وقت تک کسی بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ میں معذرت چاہتا ہوں، ججز کو زحمت دی، میں اس بینچ سے اٹھ رہا ہوں لیکن سماعت سے انکار نہیں کررہا۔ میں اس پر مزید بحث نہیں سن سکتا۔

جسٹس طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ میں قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں۔ ہم ان درخواستوں پر فیصلہ کریں گے، پہلے ان درخوستوں کو سنا جائے، اگر اس کیس میں فیصلہ حق میں آتا ہے تو اس کیس کی اپیل 8 جج کیسے سنیں گے؟

سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ معاملہ 25 کروڑ عوام کا ہے۔ اس پر جسٹس طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ جب آئے گا تو دیکھ لیں گے۔ ایڈووکیٹ اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کیس نہیں سنیں گے تو 25 کروڑ عوام کا کیا ہوگا۔ ہم چاہتے تھے کہ ایک گھر کی طرح مسائل سائیڈ پر رکھ کر سماعت کی جائے۔ جواب میں جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کسی کا گھر نہیں ہے، عدالت ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق کی جانب سے خود کو 9 رکنی بینچ سے علیحدہ کرنے کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہمارے 2 ججز نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی بنیاد پر اعتراض کیا ہے۔ لیکن ان کو یہ معلوم نہیں کہ اس کیس میں اٹارنی جنرل نے وقت لیا ہے۔ کیا پتا اس میں اسٹے ختم ہو، ہوسکتا ہے اس کیس میں مخلوق خدا کے حق میں فیصلہ ہو۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کے بینچ میں نہ بیٹھنے کے باوجود چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس نے 7 رکنی بینچ تشکیل دیا جو ڈیڑھ بجے کیس کی سماعت کرے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف دائر 4 درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے اپنی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، معروف قانون دان اعتزاز احسن اور سول سائٹی کی جانب سے عام شہریوں مقدمات آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔