کیا عدالت شہری حقوق کا تحفظ کرسکے گی؟

سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف   حکم امتناع دینے سے انکار کردیا ہے۔ یہ استدعا  اعتزاز احسن کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کی تھی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہر معاملہ میں  ’سٹے آرڈر‘ نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ  پوری صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے  عدالت عظمی نے 9 مئی کے بعد گرفتار ہونے والے تمام افراد کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں اور استفسار کیا ہے کہ  ان میں کون سے لوگ سویلین حکام کی تحویل میں ہیں اور کن لوگوں کو فوج کے حوالے کیا گیا ہے۔

تحریک انصاف اور  اعتزاز احسن کے بعد سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی  پٹیشن سامنے آنے پر چیف جسٹس نے  اس معاملہ کی سماعت کے لئے  9 رکنی بنچ   مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ حیرت انگیز طور پر   جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود  بھی اس بنچ کا حصہ بنائے گئے تھے۔  چیف جسٹس اس سے پہلے کسی بھی اہم معاملہ میں ان دونوں ججوں کو شامل کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے سپریم کورٹ میں گروہ بندی کے بارے میں مباحث سامنے آتے رہے ہیں۔  اس بار دونوں سینئر ترین ججوں کو شامل کرنے سے  امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات سننے جیسے اہم مگر حساس معاملہ کی سماعت کے سوال پر سپریم کورٹ کے ذی وقار جج باہمی اختلافات اور چپقلش بھلا کر  انصاف کی فراہمی  کے لئے مل کر  کوئی ٹھوس فیصلہ دے سکیں گے۔   لیکن دو ججوں کی معذرت سے یہ خواہش پوری نہیں ہوسکی۔

سانحہ 9 مئی کے حوالے سے  فوج کی طرف سے بار بار اعلان کیا جا چکا ہے کہ  عسکری تنصیبات پر حملے کرنے والے اور ان کی اعانت و رہنمائی کرنے والے تمام لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ان کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمے قائم ہوں گے۔   ان دفعات کے تحت  ملزم قرار دیے گئے لوگوں  کو فوجی عدالتوں میں مقدموں کا سامنا کرنا پڑے گا۔   وفاقی کابینہ  متفقہ طور سے   فوج کے اس فیصلہ کی توثیق کرچکی ہے اور قومی اسمبلی  نے بھی عسکری تنصیبات پر حملے کرنے والوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے کی حمایت میں قرار داد  منظور کی ہے۔ بعد میں فوج نے اپنے مؤقف میں  سختی پیدا کرنے کے لئے فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں بھی ایسے ملزموں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمے چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔

سانحہ 9 مئی  میں ملوث شہریوں کے  خلاف  فوجی عدالتوں میں  مقدمے چلانے کی تجویز بنیادی طور سے فوج کی کور کمانڈر کانفرنس کی طرف سے آئی تھی۔ حکومت اور پارلیمنٹ  فوج کے اس مؤقف   کو تبدیل کروانے کے لئے کردار ادا کرسکتی تھیں لیکن سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے حکمران سیاسی پارٹیوں نے   فوج کے مؤقف کی تائد و حمایت کرنے میں ہی   عافیت سمجھی۔ تاہم اس اقدام سے آئین کے تحت  ملک کے شہریوں کو  ’فئیر ٹرائل‘  کے حق سے محروم کردیا گیا۔  سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے رضا ربانی اور بعض دیگر سینیٹرز  نے ضرور فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمے بھیجنے کی مخالفت کی لیکن سرکاری طور سے  اس مؤقف کو کوئی پذیرائی نصیب نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملہ  میں  سپریم کورٹ  آئینی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم ترین فورم کے طور  پر  باقی  بچا ہے۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال نے   سانحہ 9 مئی کے حوالے سے  تفصیلی معلومات سامنے آنے، سخت حکومتی اقدامات اور شہریوں  کے ساتھ ہونے والی مبینہ ذیادتیوں کے سوال پر کوئی اقدام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ چیف جسٹس کے پاس  آئین کی شق 184 (3) بنیادی حقوق کی کسی سنگین خلاف ورزی کے سوال پر  نوٹس لینے اور اس کے تدارک کا استحقاق موجود ہے ۔ موجودہ چیف جسٹس حال ہی میں پنجاب میں انتخابات کے سوال پر اس استحقاق کو استعمال بھی کرچکے ہیں۔ حالانکہ صوبائی انتخابات کا سوال شہریوں کے ساتھ ذیادتیوں سے زیادہ سیاسی پارٹیوں کی  باہمی چپقلش سے متعلق تھا۔ تاہم   کسی قومی سانحہ کے بعد شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات کا معاملہ  شہریوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے اہم ہے اور اس کی صراحت بھی ضروری ہے۔  آرمی ایکٹ اگرچہ پاکستانی قوانین کا حصہ ہے اور اسے پارلیمنٹ سے ہی منظور کیا گیا ہے لیکن    سانحہ 9 مئی میں ملوث افراد کے خلاف اسے استعمال کرنے سے متعلق اختلاف رائے سامنے آیا ہے۔

فوج کے علاوہ  حکومت کا مؤقف ہے کہ   فوج کو للکارنے والے اور  عسکری تنصیبات پر حملے کرنے والے لوگوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانا مسلمہ عالمی قوانین کے عین مطابق ہے۔ اس مؤقف کی مخالفت میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ  فوجی عدالت میں شواہد سے زیادہ ایک خاص مقصد حاصل کرنے کے لئے سزائیں دی جاتی ہیں۔ اس طرح ملزموں کو اپنے دفاع کا موقع نہیں ملتا اور بعد میں اپیل کا حق بھی محدود ہوتا ہے۔  سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے سردار لطیف کھوسہ نے یہی اصول سامنے لانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں یہ طے کرلیا گیا ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف ٹھوس شواہد و ثبوت موجود ہیں۔ اب ان الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کے مقدمات اگر کسی فوجی عدالت میں  زیر غور آئیں گے تو اس عدالت کا سربراہ کوئی کرنل یا بریگیڈئیر ہوگا۔ یہ افسر فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے مؤقف کے  خلاف کیوں کر کسی شخص کو انصاف دے سکے گا۔

 لطیف کھوسہ کی دلیل اس لحاظ  سے ناقص تھی کہ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس نے وقوعہ کے شواہد اور ثبوتوں کی بات کی ہے، یہ قرار نہیں دیا کہ کون شخص اس میں ملوث تھا۔  کوئی فوجی یا سویلین عدالت جب اس معاملہ پر غور کرے گی تو اسے بہر صورت یہ تو دیکھنا ہوگا کہ متعلقہ شخص واقعی اس جرم میں ملوث تھا اور کیا استغاثہ اس کے خلاف مناسب شواہد فراہم کررہا ہے۔ اسی طرح لطیف کھوسہ  اور اعتزاز احسن  کا  یہ طرز استدلال بھی  مناسب نہیں ہے کہ یہ پاکستان کے پچیس کروڑ لوگوں کے بنیاد ی حقوق کا معاملہ ہے۔ کیوں کہ سانحہ 9 مئی میں  ملوث چند درجن افراد  کے معاملات فوجی عدالتوں کے حوالے کرنے  کی بات کی جارہی ہے۔ البتہ یہ کسی بھی شہری کو آئین کے تحت ملنے والے  حقوق کے حوالے سے بنیادی  نوعیت کا اصولی معاملہ ضرور ہے ۔ عوام کو رجھانے کے لئے کسی اصول کو پاکستان کی کل آبادی کے مفاد کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا  ، مناسب نہیں ۔

 کسی  بھی مہذب عدالت میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی اقدام سے تمام شہری متاثر ہورہے ہیں   یا نہیں  بلکہ یہ اصول اہم ہوتا ہے کہ کیا متعلقہ لوگوں کو خواہ ان کی تعداد کتنی ہی کم کیوں نہ ہو، آئین و قانون کے تحت ملنے والے حقوق فراہم کئے جارہے ہیں ۔ یعنی ریاست  کسی  بھی شہری کے  ساتھ غیر قانونی اور غیر انسانی  سلوک روا نہ رکھے۔  اس تناظر میں فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف مقدمات کی سماعت خواہ ملک بھر کی کل آبادی کا مسئلہ نہ بھی ہو اور اس قسم کے کسی فیصلے سے اگر ایک شہری بھی نامناسب ریاستی  عتاب کا شکار ہوتا ہے تو ملکی عدالتی نظام کو اسے انصاف فراہم کرنا چاہئے۔  اسی لئے ضروری ہے کہ سپریم کورٹ اس مسئلہ کو اصولی،  قانونی و آئینی سوال  کے طور پر دیکھے اور وکلا بھی اسی حوالے سے دلائل پیش کریں۔ اگر صورت حال کو سیاسی دلائل سے آلودہ کیا جائے گا تو شاید اصول قانون واضح نہیں ہوسکے گا اور مملکت پاکستان میں یہ طے نہیں کیا جاسکے گا کہ  ملکی آئین کے تحت  دیے گئے حقوق ،  ہر شہری کو  حاصل ہونے چاہئیں۔

بدقسمتی سے  سیاسی طرز عمل صرف وکلا کے دلائل ہی میں عیاں نہیں ہے بلکہ سپریم کورٹ میں ججوں کے رویہ میں بھی اس کا اظہار    ہوتاہے۔  چیف جسٹس نے پہلے  اس اہم معاملہ پر  درخواستوں پر غور کے لئے 9 رکنی بنچ بنایا تھا۔  یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اقدام  کسی ادارہ جاتی مصلحت کی وجہ سے کیا گیا تھا یا چیف جسٹس عمر عطا بندیال خاص ججوں پر مشتمل بنچ بنانے کے تاثر کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ البتہ اس بنچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود کو بھی شامل کرلیا  گیا۔  یہ دونوں چیف جسٹس  سے مختلف قانونی رائے رکھنے کے لئے  مشہور ہیں ۔لیکن وہ جسٹس عمر عطابندیال کے بعد عدالت عظمیٰ کے سینئر ترین جج بھی ہیں ۔  البتہ پہلی ہی سماعت میں ان دونوں ججوں نے مقدمہ سننے سے انکار کردیا جس کے سبب  9رکنی بنچ ٹوٹ گیا اور چیف جسٹس کو  باقی ججوں پر مشتمل 7 رکنی بنچ قائم کرکے مقدمہ کی سماعت کرنا پڑی۔

اس صورت حال سے  البتہ یہ تاثر ضرور قائم ہوگیا کہ سپریم کورٹ کے ججوں میں اختلافات موجود ہیں اور چیف جسٹس بنیادی انتظامی معاملات میں بھی اپنے  ساتھی ججوں کا اعتماد حاصل کرنے  میں کامیاب نہیں ہیں۔ پنجاب  میں انتخابات سے متعلق قائم ہونے والے بنچ   کے بعد بھی ایسی ہی صورت حال دیکھنے میں آئی تھی جب ایک کے بعد دوسرے جج نے سماعت سے معذرت کرلی اور آخر میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی جس میں تین ججوں نے ایسا حکم جاری کیا جو مسلسل تنازعہ کا سبب بنا ہؤا ہے۔ اس تجربہ کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو  یہ یقینی بنانا چاہئے تھا کہ جب شہریوں کے حقوق سے متعلق ایک اہم معاملہ  پر غور مطلوب ہے  تو وہ بنچ کا تعین کرتے  ہوئے ان ججوں کو پہلے سے ہی اعتماد میں  لے لیتے  جن کا نام بنچ میں شامل کیا  جارہا تھا تاکہ بعد میں  بدمزگی سے بچا جاسکے۔ چیف جسٹس اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ گویا مختصر مدت میں دوسری مرتبہ چیف جسٹس نے اہم آئینی معاملہ پر ایسا بنچ تشکیل دیا ہے جس کے ارکان اس بنچ کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔  یہ چیف جسٹس کی بڑی انتظامی ناکامی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مقدمہ  کی سماعت سے  انکار کرتے ہوئے  حال ہی میں منظور کئے گئے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا حوالہ دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے ابھی تک اس قانون پر فیصلہ نہیں سنایا لیکن اسے معطل کیا ہؤا  ہے۔ اس قانون میں تجویز کیا گیا ہے کہ  بنچ سازی کا حق چیف جسٹس  کی بجائے تین سینئر ترین ججوں کو ہوگا۔  ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت میں کسی بنچ کی  کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے ، اس لئے وہ اپنے حلف کے تحت ایسے کسی بنچ میں شامل ہوکر مقدمہ کی سماعت نہیں کرسکتے۔ جسٹس طارق مسعود نے ان سے اتفاق کیا۔   تاہم یہ دونوں فاضل جج اس نکتہ پر غور کرنے میں  ناکام رہے کہ  فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کا فیصلہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کے بارے میں ہے۔ اس عمل سے خود کو دور کرکے  انہوں نے فوج کے مقابلے میں  سپریم کورٹ کو ’کمزور‘ کرنے  میں  کردار ادا کیا ہے۔

سانحہ 9 مئی کے بعض ملزموں کے مقدموں کو فوجی عدالتوں میں بھیجنے کا سوال درحقیقت اب ملک کے تین اہم ترین اداروں  میں طاقت کے توازن کا سوال بن کر سامنے آیا ہے۔ فوج نے اپنا مؤقف واضح کردیا ہے۔ حکومت اور پارلیمنٹ فوج کا ساتھ دینے کا اعلان کرچکی ہیں۔ اب سپریم کورٹ کو طے کرنا ہے کہ  کیا وہ ملکی معاملات میں فوجی اختیار کی حدود مقرر کرنے کا حوصلہ کرسکتی  ہے۔ اگر سپریم کورٹ اس معاملہ میں کوئی ٹھوس اور دوٹوک حکم جاری کرنے میں ناکام رہی تو  خلق خدا کی زبان پر آئی ہوئی اس بات  کی تصدیق ہوجائے گی کہ ملک میں اصل قوت صرف ایک ہی ہے۔