یونان کشتی حادثہ کا شکار 82 افراد کی لاشیں پاکستان پہنچی ہیں: وزیر داخلہ
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بتایا ہے کہ یونان میں کشتی کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے 82 پاکستانی افراد کی لاشیں مل چکی ہیں۔ ان کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں اور نادرا کے ذریعے شناخت کا جاری عمل جاری ہے۔
قومی اسمبلی میں رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ 10 جون کو ایک کشتی 700 افراد کو لے جا رہی تھی جو یونان کے ساحل کے قریب سمندر میں حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس میں سوار پاکستانیوں کی تعداد 350 تھی۔ کشتی میں سوار 104 افراد زندہ بچے ہیں۔ ان میں صرف 12 پاکستانی ہیں۔ یہ انسانی جانوں کا بہت بڑا نقصان ہے۔ اموات بہت زیادہ ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک 82 پاکستانی شہریوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔ ان کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں اور فرانزک لیبارٹری اور نادرا کے ذریعے سے ان کی شناخت کی کوشش کی جارہی ہے۔ ابھی تک پاکستان میں 281 فیملیز نے رابطہ کرکے بتایا ہے کہ ان کے پیارے اس حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تمام فیمیلز کے ساتھ رابطہ قائم کیا جاچکا ہے، ان کے ڈی این ایز حاصل کر لیے گئے ہیں۔ بھرپور کوشش ہور ہی ہے کہ جیسے جیسے شناخت کا عمل مکمل ہو تو ان افراد کے جسد خاکی کو لایا جاسکے۔
اب تک 193 کے قریب ڈی این اے کے نمونے حاصل کرچکے ہیں۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی وزیر اعظم نے مقرر کی ہے۔ تاکہ جو لوگ انسانی اسمگلنگ کے اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اور سخت سزاؤں کے لئے قانون سازی کی جائے۔
گزشتہ ہفتے یونان کے قریب بحیرہ روم میں تقریباً 400 پاکستانیوں سمیت 800 تارکین وطن پر مشتمل کشتی ڈوب گئی تھی جن میں سے محض 104 افراد کو زندہ بچایا جاسکا ہے۔ سینکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔