معاشی بحالی کا قومی پلان

ریاست کا ایک بنیادی مسئلہ قومی معیشت کی بحالی ہے۔ اس وقت معیشت کے معاملات نہ صرف کمزور ہیں بلکہ مجموعی طور پر ایک بڑے قومی بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔

سیاست ، معیشت اور سیکیورٹی سے جڑے ماہرین ، ریاستی اور حکومتی کردار سر جوڑ کر معیشت کی بحالی کے مختلف منصوبے بناتے ہیں یا ان کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔  معیشت کی بحالی سے جڑے معاملات کا کوئی حل سیاسی تنہائی میں نہ ممکن ہے اور نہ ہی ان کا کوئی حل محض معیشت کے فریم ورک سے جوڑ کر نکالا جاسکتا ہے ۔ بہت سے سیاسی اور معاشی ماہرین یہ منطق دیتے ہیں کہ ہمیں سیاست کو پس پشت ڈال کر معیشت کی بحالی کے منصوبہ کو حتمی شکل دینی چاہیے ۔ حالانکہ ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ دنیا کی سیاست معیشت پر غالب ہے کہ معیشت کی مضبوطی اور خود مختاری کا براہ راست تعلق مضبوط سیاسی ، خود مختار اور مربوط نظام سے جڑا ہوتا ہے۔

Advertisement

اب ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کی مشاورت سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں موجود رکاوٹیں دور کرنے کے لیے قومی سطح پر ’ اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کونسل کے چار اہم مقاصد بیان کیے گئے ہیں ۔

اول، ملک کو درپیش معاشی مسائل اور بحرانوں سے نجات دلانا ۔ دوئم، مقامی پیداوار صلاحیت اور دوست ممالک سے سرمایہ کاری کو بڑھانا۔ سوئم، آئی ٹی ، زراعت، مائننگ، لائیو اسٹاک ، توانائی کے شعبوں پر ترجیح دینا۔ چہارم، غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ، سہولیات کی فراہمی اور اس میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا شامل ہے۔

اسی طرح 2035 تک اقتصادی بحالی منصوبہ گیم چینجر کی مدد سے پاکستان کو دس کھرب ڈالر کی معیشت بنایا جاسکتا ہے ۔ اس منصوبے کی تکمیل میں جو اپیکس کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس میں وزیر اعظم ، چاروں وزرائے اعلی ، آرمی چیف سمیت پانچ میجر جنرلز ان منصوبوں پر عمل کرائیں گے۔ حکومت کے بقول حکومتوں کے بدلنے پر بھی منصوبوں کے تسلسل کو یقینی بنانا ، پانچ برس تک ایک کروڑ تک لوگوں کے لیے نوکریاں اور برآمدات 100ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں ۔

ماضی میں بھی ہماری سیاسی یا غیر سیاسی حکومتیں مختلف منصوبوں یا مختلف طرز کی کمیٹیوں یا کمیشن کی مدد سے قومی معیشت کی بحالی کے لیے کچھ نہ کچھ کرتی رہی ہیں ۔ لیکن ماضی کے ان تمام تر اقدامات کے باوجود ہم اپنی معیشت کی بحالی کے قومی اہداف حاصل نہیں کرسکے ۔ حکومت کی یہ کونسل ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب خود اس حکومت کے پاس محض دو ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے اور انتخابات کی صورت میں جو بھی نئی حکومت آتی ہے، اس کی ترجیحات میں یہ کونسل کہاں کھڑی ہوگی خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ ہمیں قومی سطح پر تمام فریقین کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرکے ’ میثاق معیشت ‘ کو قومی ترجیح کا بڑا درجہ دینا ہوگا تاکہ ہم معاشی بحالی کی طرف بڑی پیش رفت کرسکیں ۔

یہ سب کچھ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب ہم آئی ایم ایف سے معاہدہ کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہیں اور دنیا سے سفارتی سطح پر کوشش کررہے ہیں کہ وہ ہمیں اس معاہدہ کو یقینی بنانے میں مدد کرے ۔ جب کہ آئی ایم ایف اس حکومت سے زیادہ اب نئی حکومت کے ساتھ مل کر معاہدہ کرنا چاہتا ہے ۔ بقول اسحاق ڈار کے آئی ایم ایف ہمیں سیاسی طور پر بلیک میل کررہا ہے اور ہم پر سیاسی دباؤ ڈال کر امریکی ایجنڈے کی تکمیل میں معاونت کروانا چاہتا ہے۔ دوسری طرف جیو اسٹرٹیجک مسائل کی وجہ سے ہمیں مشکل کا سامنا ہے۔

اس لیے جو ہم کو معاشی صورتحال میں خرابی نظر آرہی ہے حکمران طبقہ کے بقول اس کی وجہ امریکا یا آئی ایم ایف بھی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں حکومتی سطح سے یہ بتایا جارہا ہے کہ ہمارے پاس آئی ایم ایف کے مقابلے میں ایک متبادل پلان بی بھی ہے مگر وہ کیا ہے اس کا فی الحال کسی کو کوئی اندازہ ہی نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی خاکہ سامنے آیا ہے ۔ اس حکومت کی مکمل تجربہ کاری ، صلاحیت کا ہونا ، معاشی روڈ میپ کی موجودگی ، آئی ایم ایف سے بہتری کے دعوے، دنیا اور سرمایہ کاروں کی حمایت سے بھی قومی معیشت کی بحالی کے تمام تر دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں ۔

بدقسمتی یہ ہے کہ  قومی معیشت کی بحالی کا سارا ایجنڈا آئی ایم ایف سے معاہدہ، برادر اسلامی ممالک کی طرف سے امداد یا قرضہ ، چین  سے معاشی معاونت یا غیر ملکی سرمایہ کاری سے جڑا ہوا ہے ۔ اس کے برعکس داخلی محاذ پر  ہم نے معیشت کی بحالی کے لیے سیاسی ، قانونی ، انتظامی ، عدالتی اور معاشی اصلاحات کی جو کڑوی گولیاں کھانی ہیں، اس کے لیے کوئی بھی حکومت بڑے فیصلے کرنے سے گریز کرتی ہے ۔ اس حکومت نے بھی حالیہ اکنامک سروے آف پاکستان کے بقول جو بھی معاشی اہداف پچھلے برس کے لیے طے کیے تھے۔ اس میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

لیکن ہم مسلسل داخلی محاذ پر کیوں  ناکام ہورہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ معیشت کی بحالی کے حوالے سے جو بھی سنجیدگی یا دعوے نظر آنے چاہیے تھے ، اس کی کوئی جھلَک نظر نہیں آتی ۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے اپنے ملک میں موجود سرمایہ کار کیوں باہر کی طرف جارہے ہیں اور وہ اپنے ہی ملک پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ جو حکمرانی کا نظام یہاں موجود ہے وہ کسی بھی صورت میں کسی بھی حکومت کو بڑی معاشی اصلاحات کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں جو ان کو کسی قانون کی حکمرانی کے دائر ہ کار میں لائے۔ اسی بنیاد پر حکومتی یا ریاستی محاذ پر ہمیں  سمجھوتوں کی کہانی غالب نظر آتی ہے ۔

اس وقت پاکستان نے ایک بار پھر امریکا سے مدد مانگی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو یقینی بنانے میں ہماری مدد کرے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ امریکا بھی ان معاملات میں بہت زیادہ گرم جوش نہیں اور اس کی ایک وجہ پاکستان کا چین پر بڑھتا ہوا انحصار ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں ہمارے پاس کیا متبادل پلان ہے اور اس متبادل پلان پر دنیا یا چین کیسے ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا۔ بنیادی بحران عام آدمی کے تناظر میں یہ ہے کہ اس وقت قومی سطح پر افراد یا خاندان میں آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا عدم توازن ہے ۔

اسی عدم توازن کی وجہ سے واضح طور پر معاشی بدحالی کے معاملات کو دیکھا جاسکتا ہے۔ حکومت کی یہ ہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ روزمرہ سے جڑے معاشی معاملات پر توجہ دے کر اس کا کوئی حل نکالے ۔ لیکن مستقل بنیادوں پر لانگ ٹرم ، مڈٹرم یا شارٹ ٹرم معاشی پالیسیوں کا فقدان واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اصل مسئلہ  معاشی ڈھانچوں میں موجود خرابیاں ہیں اور ان کو دور کرنے کے لیے ہمیں ایک مضبوط سیاسی نظام اور حکومت درکار ہے۔ لیکن یہاں جو سیاسی ماڈل چل رہا ہے چاہے وہ ہائبرڈ سیاسی نظام ہو یا کمزور بنیادوں پر تشکیل دی جانے والی مخلوط حکومت کا، وہ مسئلہ کا حل نہیں۔ کیونکہ کمزور اور واضح مینڈیٹ کے بغیر حکومت سے ہمیں کوئی بڑی سیاسی اور معاشی سطح پر اصلاحات کی توقعات نہیں لگانی چاہیے۔

پاکستان کے معاشی اور سیاسی حالات غیر معمولی ہیں اور ان حالات میں فرسودہ اور روائتی سطح کے اقدامات کی بجائے ہمیں عملی بنیادوں پر غیر معمولی سطح کے اقدامات درکار ہیں ۔ یہ ہی ہماری ترجیح ہونی چاہیے ۔