دنیا میں مساوات قائم کروانےسے پہلے پاکستان کی طبقاتی تقسیم ختم کیجئے!

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے دنیا کو معاشی تقسیم  کے خطرات سے  متنبہ کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیل سے ہونے والی تباہی اور اقتصادی عدم توازن ختم کرنے کی  ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ  ایک طرف  جنگوں پر اربوں ڈالر صرف کئے جاتے ہیں لیکن دوسری طرف سیلاب جیسی تباہی کا شکار ہونے والے پاکستان جیسے ملک   مہنگے قرض لینے پر مجبور   ہیں۔

شہباز شریف  نے یہ باتیں  ’نئے  عالمی معاشی  پیکٹ‘  کے لئے  فرانس کے صدر میخوئیل میکرون کی بلائی ہوئی  عالمی سربراہی کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔   یہ حقیقت  بھی دلچپسی کا سبب ہے کہ اسی وقت بھارتی وزیر اعظم  نریندر مودی کا واشنگٹن میں پرتپاک خیر مقدم کیا جارہا تھا۔ صدر  جو بائیڈن نے وہائٹ ہاؤس میں اکیس توپوں کی سلامی سے ان کا استقبال کیا اور  مودی کے احترام میں اس سرکاری دورے پر دی گئی ضیافت میں پیش کئے گئے تمام کھانے سبزیوں پر مشتمل تھے۔  دونوں سربراہوں کی ملاقات کے بعد امریکہ اور بھارت کے مشترکہ اعلامیہ میں  پاکستان کو ’فراموش‘ نہیں کیا گیا۔  اعلامیے میں  ’سرحد پار دہشتگردی اور  پراکسی گروہوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین دہشتگرد حملوں کے لیے استعمال نہ کی جائے‘۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے ابھی تک اس اعلامیہ پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا  تاہم جب بھی یہ  بیان جاری ہؤا تو  یہ روٹین کی کارروائی ہوگا۔

دنیا سے  امداد کی خواہش رکھنے والے وزیر اعظم   ایک طرف امریکہ اور یورپی ملکوں کو یوکرین جنگ پر اربوں ڈالر صرف کرنے اور پاکستان کو نظر انداز کرنے کا ’طعنہ‘ دے رہے تھے تو دوسری طرف نریندر مودی  نے امریکی کانگرس و سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  بدستور یوکرین پر روسی حملے کی مذمت سے  گریز کیا  اور صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ  یہ تنازعہ جنگ کو یورپ میں لے آیا ہے۔ تاہم  روس کے حوالے سے  بھارتی لیڈر کی نرم خوئی  بھی ،  واشنگٹن میں ان کے لئے خیر سگالی کے جذبات  کم نہیں کرسکی۔  یہ درست ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اقلیتوں کے ساتھ روا  رکھے جانے والے سلوک  کے خلاف  امریکی دارالحکومت میں ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا اور کانگرس کے بعض ارکان نے مودی کی تقریر کا بائیکاٹ بھی کیا لیکن اس سے  بائیڈن انتظامیہ اور مودی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتوں پر کوئی اثر دکھائی نہیں پڑا۔ حتی کہ سرکاری اعلامیہ میں بھارتی  اقلیتوں کی صورت  حال  اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے ایک لفظ بھی موجود نہیں ہے۔

 اسے امریکہ  کی مجبوری سمجھا جائے یا بھارت کی سفارتی کامیابی لیکن یہ واضح ہے کہ عالمی  منظر نامہ میں  پاکستان  کو ایک مجبور  ضرورت مند   ملک  سمجھا جاتا ہے جبکہ بھارت کو  برابری کا درجہ دیا جاتا ہے۔  پاکستان  میں سیاسی انحطاط، معاشی بدحالی اور تنازعات کی وجہ سے سفارتی سطح پر  ان دونوں روائیتی  دشمن ملکوں کے درمیان   فرق  دن بدن واضح ہورہا ہے۔ پاکستان خود کو بھارت کے برابر کھڑا کرنے کی جتنی بھی کوشش کرلے لیکن ناکامی مسلسل اس کا  مقدر بنی ہوئی ہے۔ اس  صورت حال کی متعدد وجوہات پر گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن بنیادی وجہ پاکستان کی سخت گیر پالیسیاں اور بدلتے ہوئے عالمی  و علاقائی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں  ناکامی ہے۔  پاکستان اب تک یہ باور کرنے پر آمادہ نہیں ہے کہ   ہمسایہ ملک کے ساتھ  کسی تنازعہ  میں جنگ ، دھمکیوں و نعروں سے  کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔  بلکہ اس کے لئے بہتر سفارت کاری،  ملکی سطح پر حالات میں تبدیلی، عوام  کی ضروریات پوری کرنے کے لئے قابل عمل منصوبے اور معاشی ترقی کے لئے یک سوئی بنیادی حیثیت رکھتے  ہیں۔ اس پہلوؤں سے قومی حکمت عملی  تیار کی جائے تو سب سے پہلے بھارت کے ساتھ براہ راست تنازعہ اور تصادم کی پالیسی ختم کرکے   یگانگت و   دوستی کا ماحول پیدا کیا جائے۔  جنگ کی بجائے امن کی بات کی جائے اور پابندیوں  کی بجائے علاقائی  تعاون کو فروغ دیا جائے  تاکہ  ملک کے تجارتی اور معاشی حالات بہتر ہوسکیں۔

دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت معاشی احیا کا جو بھی نیا منصوبہ سامنے لاتی ہے اس میں علاقائی تعاون کا کوئی پہلو نمایاں نہیں ہوتا۔ پاکستانی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ جو ملک مسلسل حالت جنگ میں ہو اور اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقت ور ملک کے ساتھ پنجہ آزمائی  کو قومی حکمت عملی  اور سوچ کی بنیاد بنائے ہوئے ہو،  وہاں  کون سا   ملک   یا سرمایہ دار طویل المدت منصوبے شروع کرنے میں دلچسپی  لے  گا؟  پاکستان مسلسل  ایسا سماجی مزاج، معاشرتی اقدار اور انفرا اسٹرکچر  قائم کرنے میں ناکام ہے جو  قومی یا عالمی سرمایہ کاری کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ شہباز شریف نے عالمی برادری کو ضرور ’طعنہ‘ دیاہے کہ  ایک طرف جنگوں  میں  اربوں ڈالر جھونکے جارہے ہیں تو دوسری طرف سیلاب زدہ  پاکستان کو مہنگے قرض لینے کی پیش کش کی جاتی ہے۔ درحقیقت پاکستانی وزیر اعظم کا یہ بیان بھی حقیقی صورت حال کی عکاسی نہیں کرتا۔  سچ تو یہ ہے کہ پاکستان مزید قرض کے لئے  دربدر صدائیں دے رہا ہے لیکن کوئی عالمی ادارہ یا ملک اسے قرض دینے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔  آئی ایم ایف سے طے شدہ پروگرام کی ایک قسط لینے کے لئے  معاشی  کاوشوں میں ناکامی کے بعد اب پاکستانی حکومت سفارتی  دباؤ استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔  لیکن   موجودہ ملکی حالات میں حکومت کے پاس ایسی رعایت حاصل کرنے  کا امکان  بھی نہیں ہے۔  دنیا  جمہوریت اور انسانی اقدار پر استوار معاشرے مستحکم کرنا چاہتی ہے اور پاکستان ان دونوں شعبوں میں الٹے قدموں کا سفر کرنے پر مصر ہے۔

اس پر مستزاد پاکستانی لیڈروں کا طرز عمل اور سفارتی نزاکتوں سے   ناشناسائی  ملک کے بارے میں پیدا ہونے والے خیر سگالی کے جذبات کو ختم کرنے کا سبب بنتی ہے۔ شہباز شریف بڑے جوش و خروش سے پاکستان کا مقدمہ لڑنے پیرس گئے تھے لیکن  مغربی ممالک کو جنگوں کا طعنہ دے کر خود اپنا مقدمہ کمزور کرنے کا سبب بنے۔ یوکرین کی جنگ  نے پورے یورپ کو متاثر کیا ہے ۔ اس براعظم میں آباد تمام ممالک سکیورٹی اندیشوں کے علاوہ اس جنگ کے سبب شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔  روس سے انرجی کی سپلائی محدود ہونے کے باعث پیداواری صلاحیت متاثر  ہورہی ہے اور  بنیادی اشیائے صرف مہنگی ہیں۔  ان حالات میں پاکستانی وزیر اعظم یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ یوکرین جنگ  بیشتر یورپی ملکوں  میں  بقا کی جنگ  سمجھی جارہی ہے اور عوامی سطح پر ایک جذباتی مسئلہ ہے۔  اس جنگ  کو  طعنہ بنا کر پاکستان کوئی بڑا سفارتی مقصد حاصل نہیں کرسکتا۔

فرانسیسی صدر نے  نئے عالمی معاشی پیکٹ پر بات چیت کے لئے جو سربراہی کانفرنس بلائی تھی، وہ ان عالمی مباحث کا تسلسل ہے جن میں غریب ملکوں  پر قرضوں کے  بڑھتے ہوئے بوجھ  کے سبب پیدا ہونے والے عدم توازن سے دنیا  کی سلامتی و خوشحالی کو لاحق خطرات پر بات  کی جاتی ہے تاکہ  مل جل کر کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جاسکے کہ  ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک میں   تفادت کم ہوسکے اور  باہمی  ہم آہنگی   و  قبولیت میں اضافہ ہو۔ ماحولیاتی تبدیلیاں بھی اس بحث کا ایک اہم پہلو ہے۔ دنیا میں ہزاروں تنظیمیں اور محققین اس بحث میں حصہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔  موجودہ پیرس کانفرنس کے دوران بھی اس حوالے سے ٹھوس اور حقائق کی بنیاد پر متعدد پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا لیکن کسی دوسرے ملک کو جنگ کرنے یا اربوں ڈالر جنگ میں  ضائع کرنے کا طعنہ نہیں دیا گیا۔   پاکستانی وزیر اعظم کی تقریر کسی ہوم ورک کے بغیر اور بنیادی  ’پیغام‘ سے عاری تھی۔ عالمی معاشی عدم توازن پر بات کرتے ہوئے آپ صرف اپنی بدحالی اور مسائل کی کہانی نہیں سناتے بلکہ وسیع تر تناظر  پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  اس حوالے سے شہباز شریف   کی باتیں  کھوکھلی ، سطحی اور جذباتی نعروں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔ حالانکہ   ضرورت مند  ملکوں اور  دنیا کی غریب آبادیوں کا  مقدمہ پیش کرنے کے لئے یہ ایک مناسب عالمی فورم تھا۔ پاکستان اس فورم پر قائدانہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔

یوں بھی جب کوئی ملک دنیا  کے امیر اور باوسیلہ ممالک سے عالمی معاشی مساوات  کے لئے کام کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو  سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ  وہ ملک خود اپنے ہاں معاشی مساوات کے لئے کون سے اقدامات کرنے میں  کامیاب ہؤا ہے۔ شہباز شریف کی  طرف سے جنگ پر وسائل صرف کرنے کا طعنہ اس صورت میں  تو قابل فہم ہوسکتا تھا اگر پاکستان جنگ مخالف بیانیہ آگے بڑھانے کی بات کرتا ہو اور اپنی سرحدوں پر کشیدگی کم کرنے کے کسی منصوبہ پر کام کررہا ہو۔ ابتر اقتصادی  حالات میں بھی اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنے والی حکومت کیوں کر  مغرب کو جنگوں میں ملوث ہونے کا طعنہ دے سکتی ہے؟

آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے موجودہ تنازعہ کی بنیاد بھی یہی اصول  ہے کہ حکومت اپنے امیر طبقہ سے ٹیکس وصول کرنے  میں ناکام ہے۔  یعنی پاکستان  کی معاشی پالیسی مسلسل طبقاتی تقسیم کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ بجٹ میں امیروں کو مراعات اور غریبوں  کو  بے نظیر  انکم سپورٹ   کے نام پر خیرات دینے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جب کوئی ملک اپنی آمدنی  بڑھانے میں مسلسل ناکام ہو تو وہ اپنی مشکلات کے لئے کیسے دوسروں کو ذمہ دار قرار دے سکتا ہے؟ حال ہی میں رونما ہونے  والے  ایک سانحہ کے بعد  ریاست پاکستان نے ملک کی سب سے بڑی اور  مقبول سیاسی پارٹی کو تباہ  کرکے اپنی طاقت اور عزم کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ یہی ریاست ملک کے مفاد یافتہ طبقات سے ٹیکس وصول کرنے کے لئے کیوں اپنی طاقت بروئے کار نہیں لاتی؟ 

ملکی  اشرافیہ    قومی آمدنی میں اضافہ کا سبب بننے کی بجائے کسی نوآبادیاتی طاقت کی  طرح غریب طبقات کے مفادات پر ڈاکہ ڈالنے کا سبب بنی ہوئی ہے۔  لیکن ریاست اس محدود ٹولے کو چیلنج کرنے میں ناکام ہے۔ دنیا میں معاشی مساوات سے پہلے شہباز شریف اور تمام پاکستانی لیڈروں کو ملک میں طاقت ور  اور باوسیلہ  طبقات کو قومی خزانے میں حصہ ڈالنے پر مجبور کرنا ہوگا۔ یہ  اقدام  نہ کیا گیا تو  دنیا  سے نہ تو مدد ملے گی اور نہ قرض مہیا ہوسکیں گے۔