کیا حکومت اور سپریم کورٹ ایک پیج پر آرہے ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 24 / جون / 2023
چیف جسٹس عمر عطابندیال نے اسلام آباد میں ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں قابل اعتبار اور تسلسل رکھنے والی مالی پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک تاجر اور سرمایہ دار محفوظ محسوس نہیں کریں گے، معیشت ترقی نہیں کرسکتی۔ یہ خیالات اس حکمت عملی سے ملتے جلتے ہیں جس کا اعلان حکومت نے حال ہی میں سرمایہ کاری میں اضافہ اور معاشی بحالی کے لئے کیا تھا۔ اس پالیسی کو آرمی چیف کی حمایت بھی حاصل ہے۔
تقریر میں جسٹس عمر عطا بندیال نے کسی ماہر معاشیات کی طرح معاشی بحالی کے لئے بعض رہنما اصولوں کی طرف اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ریگولیٹری اتھارٹیز کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ ملک میں تاجروں اور سرمایہ داروں کے لئے قابل اعتبار اور حوصلہ افزا ماحول پیدا ہو۔ ملک میں تجارتی فروغ کے لئے تاجروں کو حیران نہیں کرنا چاہئے۔ خاص طور سے ٹیکس کے حوالے سے قابل اعتبار تسلسل ہونا چاہئے۔ کیوں کہ اگر آپ کسی درخت کا پھل کھانا چاہتے ہو تو اسی کو نہیں کاٹتے۔ چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے لئے یکساں سہولت فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ مثلاً اجارہ داری رکھنے والی صنعتیں مقابلے کی فضا ختم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں ، اس کی نگرانی ضروری ہے ۔ اسی طرح کمپنیوں میں بڑے حصہ داروں کی طرح چھوٹے شئیر ہولڈرز کو بھی احساس تحفظ فراہم ہونا چاہئے‘۔
چیف جسٹس نے اس موقع پر ریگولیٹری اور آئینی اداروں کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے انہیں ملکی ترقی کے لئے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے آڈیٹر جنرل کے علاوہ خاص طور سے الیکشن کمیشن کی آئینی حیثیت کا حوالہ دیا اور کہا کہ عدلیہ کو اسے تحفظ فراہم کرنا چاہئے۔ چیف جسٹس کی گفتگو کا یہ پہلو اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ حال ہی میں پنجاب انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ الیکشن کمیشن پر برہمی کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اس وقت بھی 90 دن میں انتخابات کروانے کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظر ثانی اپیل پر فیصلہ آنا باقی ہے۔ اس اہم مقدمہ کی کارروائی کے دوران میں چیف جسٹس اصرار کرتے رہے تھے کہ مقررہ مدت میں صوبائی انتخابات کروانے سے متعلق عدالت عظمی کا حکم ہی حتمی ہے۔ البتہ نظر ثانی اپیل کی وجہ سے اس معاملہ پر عمل درآمد پر اصرار نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر نظر ثانی اپیل پر سماعت مکمل ہونے کے کئی روز بعد بھی حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
اس مقدمہ کا حوالہ یوں بھی اہم ہے کہ پنجاب انتخابات کے حوالے سے چیف جسٹس نے از خود نوٹس کے تحت کارروائی کی تھی حالانکہ بنچ میں شامل چار ججوں نے اس معاملہ پر سوموٹو نوٹس لینے کے طریقہ کو غلط قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود چیف جسٹس نے اپنے ہم خیال ججوں کے ساتھ پنجاب میں 14 مئی تک انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا اور الیکشن کمیشن کی اس عرضداشت کو قابل غور نہیں سمجھا تھا کہ قلیل مدت میں پنجاب میں انتخابات کا اہتمام کرنا ممکن نہیں ہے۔ خاص طور سے اس مقدمہ کی کارروائی کے دوران چیف جسٹس سمیت ججوں کے ریمارکس سے تو یہی تاثر عام ہؤا تھا کہ الیکشن کمیشن کی کوئی خود مختار حیثیت نہیں ہے اور وہ اپنے کسی بھی فیصلہ کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت و رہنمائی کا محتاج ہے۔ اگرچہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو ہر معاملہ میں حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے اور یہ آئین و قانون کے عین مطابق بھی ہے لیکن عام طور سے سپریم کورٹ اپنی اتھارٹی استعمال کرتے ہوئے دیگر آئینی اداروں کی خود مختاری کا لحاظ کرتی ہے۔ تاہم چیف جسٹس بندیال کی نگرانی میں سپریم کورٹ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران میں خود کو الیکشن کمیشن ہی نہیں بلکہ حکومت اور پارلیمنٹ سے بھی بالادست قرار دینے کی کوشش کی ہے۔
اسی قسم کے ایک اقدام کی وجہ سے دو روز قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کے خلاف پٹیشنز کی سماعت کرنے والے 9 رکنی بنچ کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور اس میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔ ان دونوں ججوں کا مؤقف تھا کہ پارلیمنٹ نے بنچ بنانے کا اختیار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی بجائے تین سینئر ترین ججوں کو دیا ہے۔ اس قانون کو سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے معطل کیا ہؤا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے منظور کئے ہوئے کسی قانون کو مسترد تو کرسکتی ہے لیکن اسے معطل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل مجریہ 2023‘ پر فیصلہ کیا جائے۔ اس کے بعد ہی وہ کسی بنچ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ تاہم چیف جسٹس نے اس درخواست پر غور کرنے کی بجائے ، 9 رکنی بنچ ٹوٹ جانے کے بعد فوری طور سے 7 رکنی بنچ قائم کردیا جس نے جمعرات کو ان درخواستوں پر سماعت کا آغاز بھی کردیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ روز 9 رکنی بنچ سے علیحدگی کے وقت بیان کیا گیا مؤقف ایک نوٹ کی صورت میں سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا تھا لیکن تھوڑی دیر بعد ہی اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
اس پس منظر میں آج اسلام آباد سمپوزیم میں چیف جسٹس کی تقریر ان کے عدالتی طرز عمل سے مختلف تھی۔ انہوں نے ملکی معیشت کی بحالی کو اہم ترین مسئلہ قرار دیتے ہوئے تجاویز پیش کیں اور عدالت کی طرف سے تصادم کی بجائے تعاون اور سرپرستی کا رویہ اختیار کرنے کا اشارہ بھی دیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ گفتگو ایک ایسے وقت کی ہے جب ان کی نگرانی میں 7 رکنی بنچ فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کی سماعت کے خلاف درخواستوں پر غور کررہا ہے۔ یہ درخواستیں فوج اور حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کرتی ہیں کہ سانحہ 9 مئی کے دوران میں جن عناصر نے عسکری تنصیبات پر حملے کئے تھے، ان کے معاملات پر فوجی عدالتوں ہی میں فیصلے ہونے چاہئیں۔ درخواست گزروں میں سول سوسائیٹی کے علاوہ مشہور وکیل اعتزاز احسن اور سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ بھی شامل ہیں۔ اب سپریم کورٹ سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ اس ہم معاملہ پر فوج کے اختیار پر کچھ حدود مقرر کرے گی۔ تاہم چیف جسٹس نے ابتدائی طور سے شہریوں کو فوج کے حوالے کرنے اور فوجی عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمے چلانے کے معاملہ پر حکم امتناع دینے سے انکار کردیا تھا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس کے بعض ریمارکس کی تشریح یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ سپریم کورٹ شاید اس معاملہ میں درخواست گزاروں کی خواہش کے مطابق کوئی دوٹوک حکم جاری کرنے سے گریز کرے۔ ایسا عدالتی رویہ شہریوں کے آئینی حقوق کے حوالے سے افسوسناک ہوگا۔
سانحہ9 مئی سے پہلے چیف جسٹس بعض معاملات میں حکومت کو پسپا کرنے میں سرگرم دکھائی دیتے تھے۔ پنجاب میں انتخابات کے مقدمہ میں جاری ہونے والے احکامات اور ججوں کے ریمارکس سے یہی تاثر ملتا تھا کہ سپریم کورٹ کسی بھی طرح حکومتی سیاسی منصوبوں کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ اس کے بعد سوموٹو مقدمات میں اپیل کا حق دینے کے علاوہ چیف جسٹس کی بجائے تین سینئر ججوں کو بنچ بنانے کا اختیار دینے کے بل کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے معطل کرکے درحقیقت حکومت کو یہی پیغام دیا گیا تھا کہ وہ اپنی حدود میں رہے اور سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کی جرات نہ کرے۔ اسی مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اس معاملہ پر پارلیمنٹ کی کارورائی کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا جس پر بعض پارلیمنٹیرین کی طرف سے صدائے احتجاج بھی سننے میں آئی تھی۔
چیف جسٹس نے آج ملکی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے یکسوئی، تسلسل اور خیرسگالی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کیوں کہ ان کا کہنا تھا کہ’ انسان جس درخت سے پھل لیتا ہے، اسے تو نہیں کاٹتا‘۔ جسٹس عمر عطابندیال کے ان ارشادات سے اتفاق کرتے ہوئے بھی اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ملکی معاشی حالات 9 مئی کے بعد تو دگرگوں نہیں ہوئے۔ یہ حالات تو اس وقت بھی خراب تھے جب آئینی شق 63 اے کی من مانی توجیہ کی جارہی تھی اور اس وقت بھی حالات خراب ہی تھی جب حمزہ شہباز کی حکومت کی بجائے پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنوانے کے لئے عدالتی اختیار استعمال کیا گیا تھا۔ پھر پنجاب انتخاب کے سوال پر سیاسی پارٹیوں کو مذاکرات کرنے اور حل نکالنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ بصورت دیگر سپریم کورٹ حکم جاری کرے گی۔ بدقسمتی سے ان میں سے کوئی بھی کام پورا نہیں ہؤا۔
9 مئی کے تناظر میں چیف جسٹس کا مفاہمانہ طرز عمل اگر اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور ورکنگ ریلیشن شپ کا خوشگوار اشارہ ہے تو اس سے یہ تاثر بھی نمایاں ہوتا ہے کہ حکومت، پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کی طرح سپریم کورٹ بھی فوج کی مقرر کردہ ’ریڈ لائن‘ کا احترام کرے گی۔ یہ تاثر بنیادی شہری حقوق اور جمہوری نظام میں عدلیہ کے کردار کی کمزوری کا ثبوت ہوگا۔