قومی اسمبلی نے ترمیم شدہ قومی بجٹ منظور کرلیا

  • اتوار 25 / جون / 2023

عالمی مالیاتی فنڈ سے معاہدہ کی وکوشش میں حکومت نے ٹیکس کے ہدف میں 215 ارب روپے اضافے کے ساتھ نیا قومی بجٹ منظور کرلیا ہے۔ وفاقی بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

خیال رہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدہ  کے لئے 9 جون کو پیش کردہ وفاقی بجٹ میں متعدد تبدیلیاں کی تھیں جن کے بارے میں گزشتہ روز وزیر خزانہ نے ایوان کو آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کے محصولات کی وصولی کے ہدف کو 94 کھرب 15 ارب تک لے جایا گیا ہے اور مجموعی اخراجات کا ہدف 144 کھرب 80 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ صوبوں کا حصہ 52 کھرب 80 ارب روپے سے بڑھا کر 53 کھرب 90 ارب روپے کردیا گیا ہے۔

آج  قومی اسمبلی میں فنانس بل کی منظوری کے لیے اجلاس منعقد کیا گیا۔ اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت اجلاس کے دوران فنانس بل میں کُل 9 ترامیم کی گئی ہیں۔ ان میں سے 8 ترامیم حکومت، ایک اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔

ٹیکس وصولیوں کا ہدف 9 ہزار 200 سے بڑھا کر 9 ہزار 415 ارب مقرر کردیا گیا ہے۔ پنشن ادائیگی 761 ارب سے بڑھا کر 801 ارب کر دی گئی ہے۔ این ایف سی کے تحت صوبوں کو 5 ہزار 276 ارب کے بجائے 5 ہزار 390 ارب ملیں گے۔

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو اسلامی پیمانے پر جانچنے کے لیے بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم عبدالاکبر چترالی کے سوا تمام حکومتی و اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی نے فنانس بل میں سود شامل ہونے کی وجہ سے اس پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینے کی مخالفت کی۔

البتہ مولانا عبدالاکبر چترالی کی جانب سے پیش کی گئی ترمیم منظور کر لی گئی جس کے تحت چیئرمین قائمہ کمیٹی کو 1200 سی سی گاڑی استعمال کرنے کا اختیار ہوگا۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے 1300 سی سی سے 1600 سی سی گاڑی استعمال کرنے کی اجازت تھی۔

وزیر خزانہ نے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی آرڈیننس میں ترمیم پیش کی جو کہ قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے ترمیم منظور کرلی۔ ترمیم کے تحت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی حد 50 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 60 روپے فی لیٹر کردی گئی، وفاقی حکومت کو 60 روپے فی لیٹر تک لیوی عائد کرنے کا اختیار ہوگا۔

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے فنانس بل کی شق 3 میں ترمیم پیش کی جو کہ قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کرلی۔ ترمیم کے مطابق 3200 ارب روپے کے زیر التوا 62 ہزار کیسز سمیت تنازعات کے حل کے لیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، کمیٹی کے فیصلے کے خلاف ایف بی آر اپیل دائر نہیں کرسکے گا، متاثرہ فریق کو عدالت سے رجوع کرنے کا اختیار ہوگا۔

پرانی ٹیکنالوجی کے حامل پنکھوں اور بلبوں پر اضافی ٹیکسوں کی ترمیم بھی منظور کرلی گئی۔ پرانی ٹیکنالوجی کے حامل پنکھوں پر یکم جنوری سے 2 ہزار روپے ٹیکس ہوگا جبکہ پرانے بلبوں پر یکم جنوری سے 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

فنانس بل میں مزید ترامیم کے تحت 215 ارب کے نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں۔  قومی اسمبلی نے فنانس بل 2023 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔ اجلاس کے دوران ایوان نے مالی سال 22-2021، مالی سال 23-2022 کی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دے دی۔