عالمی قرضوں کا بوجھ، سرکاری اخراجات اور اثاثہ جات

بجٹ2023-24کے مندرجات کے مطابق حکومت پاکستان اپنے مجموعی اخراجات کا  55فیصد قرضوں پر طے شدہ سود کی ادائیگی پر خرچ کرے گی جبکہ مجموعی اخراجات کا14فیصد دفاعی امور کے لئے مختص کیا گیا ہے۔

 گویا ہمارے کل اخراجات کا 69فیصد ان دو مدات پر اٹھ جائے گا،ان میں کسی طور بھی کمی بیشی نہیں کی جا سکتی ہے۔ہمارے ہاں اس حوالے سے خوب پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ اتنا قرض اور اس پر اتنا سود اور فوج پر اتنے زیادہ اخراجات کئے جا رہے ہیں اسی لئے ملک ترقی نہیں کر رہا ہے۔ ہم قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔کہا جاتا ہے کہ ایسے ہی اخراجات کی وجہ سے مسائل بڑے ہوئے ہیں اور ہم ترقی نہیں کر پا رہے۔

یہ باتیں مجموعی طور پر درست بھی ہیں اور درست نہیں بھی ہیں۔معاملہ گلاس آدھا بھرا ہوا ہے گلاس آدھا خالی ہے،دونوں باتیں درست ہیں۔یہ دیکھنے کا انداز ہے جو حقیقت کو دو مختلف رنگوں میں دکھاتا ہے۔

ہمارے ہاں سرکاری اخراجات کے بارے میں بہت زیادہ منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سرکاری افسر ملک لوٹ کر کھا رہے ہیں، ان کی شاہانہ مراعات و اخراجات نے ہماری معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔انہیں لگام ڈالنی چاہئے، قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا چاہئے تاکہ ہم ترقی کر سکیں وغیرہ وغیرہ۔حال ہی میں سینیٹ کے چیئرمینوں (موجودہ و سابقہ) کے لئے مراعات پیکیج منظور کیا گیا تو اس کے مندرجات کی تفاصیل پڑھ کر افسوس ہوا اور احساس ہونے لگا کہ سرکاری افسروں کی مراعات و عیاشیوں کے بارے میں جو کچھ کہا اور سنا جاتا ہے وہ اپنی جگہ درست ہی ہو گا کیونکہ سرکار کو چلانے والے خود جس انداز میں مراعات لے رہے ہیں،انہیں جان کر احساس ہوتا ہے کہ بات بگڑ چکی ہے اور اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔

گزشتہ دِنوں سرکار کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد اور ان پر اٹھنے والے اخراجات کا واویلا کیا گیا اور مثال برطانیہ عظمیٰ کی سرکاری گاڑیوں کی قلیل تعداد بیان کر کے اپنی حکومت کے اخراجات  پر خوب تنقید کی گئی۔بات کافی حد تک درست بھی تھی کہ ہمارے ہاں سرکاری افسرو اہلکار سرکاری گاڑیوں کے استعمال کے دلدادہ ہیں۔سرکاری پٹرول پانی کی طرح پھونکا جاتا ہے،100روپے کی سبزی کی خریداری کے لئے سرکار کا1000روپے کا پٹرول اڑا دینا حق تصور کیا جاتا ہے۔سرکاری گاڑیوں کا زیادہ تر استعمال ذاتی مقاصد  کے لئے کیا جاتا ہے۔ کئی افسر ٹرانسپورٹ الاؤنس لینے کے ساتھ ساتھ پول کی گاڑیوں کا استعمال بھی جائز تصور کرتے ہیں۔

یہ سب باتیں کسی نہ کسی حد تک درست بھی ہوں گی لیکن یاد رہے بجٹ2023-24 میں سرکاری اخراجات، مجموعی اخراجات کے پانچ فیصد کے برابر ہیں،یعنی کارِ سرکار چلانے کے لئے پانچ فیصد خرچ کیا جاتا ہے جو کسی طور بھی عیاشی یا بے جا اسراف کے زمرے میں نہیں آتا۔ 25کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل آبادی کو منظم کرنے اور رکھنے کے لئے پانچ فیصد زیادہ نہیں ہے،  اس لئے ایسے شاہانہ خرچ کم کرنے کے لئے ہر وقت تنقید کرتے رہنا درست نہیں ہے۔

امریکی ادارے کی طرف سے جاری ایک تازہ ترین رپورٹ کے مندرجات کے مطابق 15جون2023 تک امریکہ کا قرض32ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے جس پر روزانہ دو ارب ڈالر سود کی شکل میں ادا کیا جاتا ہےیعنی سالانہ 730 ارب ڈالر سود کی مد میں ادا کیا جاتا ہے۔حجم کے اعتبار سے امریکی قرض، دنیا میں سب سے زیادہ ملکی قرض ہے۔ یہ ایک برہنہ حقیقت ہے لیکن دوسری طرف امریکہ دنیا کی سب سے زیادہ  قومی پیداوار  رکھنے والی مملکت ہے۔24ہزار ارب ڈالر کی قومی پیداوار رکھنے والا ملک اگر32ہزار ارب کا مقروض ہے اور730 ارب ڈالر سالانہ سود ادا کر رہا ہے تو کوئی بات نہیں ہے۔ امریکی بجٹ یعنی سالانہ اخراجات 6400 ارب ڈالر ہے ان اخراجات کے ساتھ امریکی حکومت اپنے32 کروڑ عوام کے لئے بہترین سہولیات کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کام بھی کر رہی ہے۔ اربوں ڈالر سائنسی و فنی تحقیق پر بھی خرچ کئے جاتے ہیں،دنیا بھر میں پھیلے درجنوں امریکی فوجی اڈوں کی دیکھ بھال بھی کی جاتی ہے اور اربوں ڈالر کے اخراجات کر کے امریکی حکومت، امریکی قومی مفادات کی حفاظت بھی کرتی ہے۔آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ جیسے قوی الجثہ اداروں کو چلانے میں بھی معاونت فراہم کرتی ہے۔امریکہ نہ صرف اپنی خارجہ پالیسی بلکہ اپنی تہذیب بھی دوسروں پر لاگو کرنے میں مصروف رہتا ہے۔کھربوں ڈالر کا قومی قرضہ، امریکی حکومت کو سب کچھ کرنے سے ہر گز نہیں روکتا۔امریکی حکومت، قرض دار ہونے کے باوجود قومی معاملات کو احسن طریقے سے چلا رہی ہے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں قرض اور سرکاری اخراجات کے بھاری بھر کم ہونے کا واویلا کیوں مچایا جاتا ہے اور انہیں تعمیر و ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جاتا ہے؟ دراصل ہمارے ہاں اکثریت کو جاری نظام معیشت و سیاست کی جزئیات اور کلیات کے بارے میں علم ہی نہیں ہے۔  بہت پڑھے لکھے افراد بھی سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے انہیں آگے بڑھانے اور پھیلاتے ہیں۔ہماری معیشت عالمی نظام معیشت اور ہماری سیاست، عالمی سیاسی نظام کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ہم ایک عالمی نظام کا حصہ ہیں یہ عالمی نظام امریکہ چلا رہا ہےبلکہ امریکہ میں بیٹھے ’یہودی اور صیہونی ‘چلا رہے ہیں۔امریکہ سپر طاقت کے طور پر پوری دنیا پر غالب اور برتر ہے۔عالی نظام زر کی جان و روح،سود اور قرض میں پوشیدہ ہے۔ نظام سیاست، جمہوریت یعنی فرد کی آزاد منشی پر چلتا ہے، نظام معیشت بھی صارف کی ضروریات اور خواہشات کے تابع ہے لیکن یہودیوں و صہیونیوں نے صارف کی ضرورت اور خواہش کو اپنے ترتیب کردہ نظام پیداوار اور نظام زر کے تابع کر لیا ہے۔

ہماری جمہوریت بظاہر شہری کی خواہش اور مرضی کی بالادستی کے نظریے پر قائم ہے۔ لیکن عملاً فرد کی آزادی، نظام زر نے کچھ اس طرح سلب کر لی ہے کہ وہ برضا و مرضی اسی نظام زر کے تابع مہمل کے طور پر جدوجہد کر کے خوش ہے۔پاکستان نے عالمی قرضوں کے ذریعے ہی قومی اثاثے بنائے ہیں۔یہ موٹرویز، یہ ایئر پورٹس، یہ فری اکنامک زونز اور اسی طرح کے دیگر پراجیکٹس قرضوں کے ذریعے ہی پورے کیے گئے ہیں۔موٹروے کو دیکھ لیں ،پہلی موٹروے آمدنی کے ذریعے، قرض چکانے کے بعد، قومی آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔عالمی نظام زر میں ایسا ہوتا ہے۔ ہمارے دانشور  اور ناقدین قرضوں کے بوجھ کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن ان قرضوں سے جو اثاثہ جات  بنے ہیں، ان کی بات نہیں کرتے۔

 وہ سرکاری اخراجات کا واویلا ضرور کرتے ہیں لیکن سرکاری مشینری اور اس سے جڑے ادارے نظام کو چلانے کے لئے جو خدمات سرانجام دیتے ہیں، ان کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔بات انصاف کی اور انصاف سے کرنی چاہئے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)