شفاف انتخابات کے لیے آرٹیکل 62 کا خاتمہ ضروری ہے
- تحریر آصف محمود
- سوموار 26 / جون / 2023
اگر ہم واقعی شفاف انتخابات چاہتے ہیں تو ہمیں جان لینا چاہیے کہ اس کے لیے آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 کا خاتمہ یا اس میں بامعنی ترمیم بہت ضروری ہے۔
یاد رہے کہ شفاف انتخابات کے باب میں یہ پہلا قدم ہو گا، آخری نہیں۔ کیونکہ صرف آئین کا آرٹیکل 62 نہیں، الیکشن ایکٹ کا سارا فلسفہ ہی نظر ثانی کا طالب ہے۔ جب تک یہ ناقص انتخابی قوانین موجود ہیں، انتخابی عمل سے کوئی خیر بر آمد نہیں ہو سکتی۔ یہ قوانین بحران اور انتشار پیدا تو کر سکتے ہیں، ختم نہیں کر سکتے۔
آرٹیکل 62 میں امیدوار کی اہلیت کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:
1۔ امیدوار اچھے کردار کا مالک ہو۔
2۔ اس کی عمومی شہرت ایک ایسے شخص کی نہ ہو، جو احکام اسلامی سے انحراف کرتا ہو۔
3۔ وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو۔
4۔ اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند ہو۔
5۔ گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتا ہو۔
6۔ سمجھ دار ہو۔
7۔ پارسا ہو۔
8۔ فاسق نہ ہو۔
9۔ ایماندار ہو۔
10۔ امین ہو۔
آئین میں امیدوار کی اہلیت کی جو شرائط دی گئی ہیں، ان کی شرح بیان نہیں کی گئی۔ اصطلاحات تو استعمال کر لی گئی ییں لیکن کہیں وضاحت نہیں کی گئی کہ ان کا مطلب کیا ہو گا۔ یہ تو کہہ دیا گیا کہ امیدوار اچھے کردار کا مالک ہونا چاہیے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اچھے کردار سے کیا مراد ہے؟
اس بات کا تعین کون کرے گا کہ امیدوار کا کردار اچھا ہے یا برا؟ کیا امیدوار کو پولیس سٹیشن سے اچھے کردار کا سرٹیفیکیٹ لینا چاہیے یا کوئی اور ادارہ موجود ہے، جہاں سے یہ سند جاری ہوتی ہے کہ امیدوار اچھے کردار کا حامل ہے یا نہیں؟
انتخابات میں اگر کوئی شخص کامیاب ہو جاتا ہے تو کیا یہ اس کے اچھے کردار پر عوامی شہادت سمجھی جا سکتی ہے یا خلق خدا کی اس گواہی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اورامیدوار کو الگ سے یہ ثبوت ڈھونڈ کر لانا ہو گا کہ وہ اچھے کردار کا حامل ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ حصول اقتدار کی حریفانہ کشمکش میں، کسی کے اچھے کردار پر حلقے میں اتفاق رائے پایا جا سکے؟
اسی طرح یہ تو طے پایا کہ امیدوار کی عمومی شہرت ایک ایسے شخص کی نہ ہو، جو احکام اسلامی سے انحراف کرتا ہو لیکن یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ عمومی شہرت سے کیا مراد ہو گی؟ وہ کون سا پیمانہ ہو گا، جس سے کسی کی عمومی شہرت کو جانچا جائے گا؟ کتنے افراد کی گواہی عمومی شہرت کا تعین کرے گی؟
فرض کریں کسی حلقے کے دو ہزار ووٹر الیکشن کمیشن کو یا ریٹرننگ افسر کو تحریری طور پر اطلاع کر دیں کہ فلاں امیدوار احکام اسلامی سے انحراف کرتا ہے تو کیا یہ گواہی یا بیان عمومی شہرت تصور کیا جائے گا اور اس امیدوار کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا جائے گا؟ نیز یہ کہ قانون کا تعلق عمومی شہرت سے ہوتا ہے یا امر واقعہ سے؟ عمومی شہرت کی بنیاد پر ہی اگر فیصلہ کرنا ہے تو اہل سیاست ایک دوسرے کی بابت جو کچھ کہتے پھرتے ہیں اس کے بعد کس کی عمومی شہرت ایسی ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لے سکے؟
یہ شرط تو رکھ دی گئی کہ وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو لیکن کہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ خاطر خواہ علم کا مطلب کیا ہو گا؟ اسلام کا کتنا علم، خاطر خواہ علم کہلائے گا؟ کہیں کوئی نصاب مقرر نہیں کیا گیا کہ کوئی امتحان لیا جاتا اور پھر طے کر لیا جاتا کہ فلاں امیدوار اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہے یا نہیں۔ کوئی اصول وضع نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر تعین کیا جا سکے کہ امیدوار ان اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہے یا نہیں۔
حتیٰ کہ لفظ خاطر خواہ کے معنی بھی بیان نہیں کیے گئے۔ اب یہ تعین کون کرے گا، کیسے کرے گا اور کس بنیاد پر کرے گا کہ کس امیدوار کا اسلامی تعلیمات کا علم خاطر خواہ ہے یا نہیں؟
اسی طرح یہ تو کہہ دیا گیا کہ سمجھ دار ہو، پارسا ہو اور فاسق نہ ہو لیکن یہ کہیں نہیں بتایا گیا کہ ان اصطلاحات کے معنی کیا ہوں گے؟ جب قانون ہی واضح نہیں تو اس قانون کا اطلاق کیسے ہو گا؟ یعنی جب کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد امیدواروں کی سکروٹنی کا عمل شروع ہو گا تو کیسے معلوم ہو گا کہ کوئی امیدوار اچھے کردار کا مالک ہے یا نہیں۔ دین کا خاطر خواہ علم رکھتا ہے کہ نہیں، فاسق تو نہیں اور سمجھ دار، پارسا اور امین ہے یا نہیں؟
کیا الیکشن کمیشن کے پاس کوئی پیمانہ ہے جس سے کسی امیدوار کی یہ اہلیت جانچی جا سکے؟ کیا کوئی نصاب یا سوالنامہ موجود ہے؟ کیا الیکشن کمیشن ہمیں بتا سکتا ہے کہ ریٹرننگ افسران جب کسی امیدوار کی اہلیت کو ان اصولوں پر جانچتے ہیں تو ان کے پاس اس جانچ کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے؟ کوئی مربوط طریقہ ہے تو بتا دیجیے؟
یعنی انتخابی عمل کے پہلے مرحلے میں ہی قانون اور اس کا اطلاق دونوں غیر واضح ہیں۔ اگر آئین اور اس کے اطلاق میں یہ ابہام ہے تو اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ آگے الیکشن ایکٹ میں جو مقامات آہ و فغاں ہیں، ان کا عالم کیا ہو گا!
(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)