فوج میں احتساب اور بعض سچائیوں کا سامنا کرنے کی ضرورت
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 26 / جون / 2023
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائیریکٹر جنرل میجر جنرل احمد شریف نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین اعلیٰ فوجی افسروں کو عہدوں سے برطرف کردیا گیا۔ اس کے علاوہ 15 فوجی افسروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی گئی ہے۔ ان میں 3 میجر جنرل اور 7 بریگیڈئیر شامل ہیں۔
انہوں نے سانحہ 9 میں ملوث لوگوں کو سخت سزائیں دلوانے کے عزم کا اظہارکیا اور کہا کہ ’سانحہ 9 مئی اس وقت تک انصاف کا منتظر رہے گا جب تک اس کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کل کوئی اور سیاسی گروہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے اس واقعے کو دہرائے گا ۔ اس طرح ہر فرد کی جان مال اور آبرو کے تحفظ پر سوالیہ نشان رہے گا‘۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے اس تفصیلی پریس کانفرنس میں سانحہ 9 مئی کے حوالے سے فوج کا مؤقف بھرپور طریقے سے پیش کیا۔ فوج اس دن ہونے والے حملوں میں ملوث کسی بھی شخص کو معاف کرنے پر تیار نہیں ہے۔ اسی لئے پاک فوج کے ترجمان نے خاص طور سے فوج کے اندرونی احتسابی عمل کا حوالہ دیا اور بتایا کہ کیسے اس روز کوتاہی کا ارتکاب کرنے والے متعدد اعلیٰ افسروں کو بھی سزا دی گئی ہے اور بعض اعلیٰ افسروں کےاہل خانہ کو سنگین الزامات کا سامنا ہے۔
میجر جنرل احمد شریف نے فوجی عدالتوں کے بارے میں بھی فوج کا مؤقف واضح کیا اور کہا کہ ’اس وقت ملک بھر میں 17 اسٹینڈنگ کورٹس کام کر رہی ہیں۔ یہ فوجی عدالتیں 9 مئی کے بعد معرض وجود میں نہیں آئیں بلکہ ایکٹ کے تحت پہلے سے فعال اور موجود تھیں‘۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث 102 افراد کے خلاف پہلے سے قائم فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائےجارہے ہیں۔ ان لوگوں کو سول عدالتوں نے تمام شواہد اور ثبوت دیکھنے کے بعد ہی فوج کے حوالے کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامناکرنے والے لوگوں کو سول وکیل کرنے کا حق حاصل ہے اور فوجی عدالت کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں اپیل کی جاسکتی ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے سانحہ9 مئی کے بارے میں فوج کی حساسیت اور فوجی عدالتوں کی شفافیت کے بارے میں اپنا مقدمہ ایک ایسے موقع پر قومی میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا ہے جب کہ سپریم کورٹ فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کے حوالے سے متعدد درخواستوں پر غور کررہی ہے۔ اگرچہ آج کی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ پر حکومت کے اعتراض کے بعد ایک بار پھر بنچ ٹوٹ گیا تھا اور اب6 رکنی بنچ نے سماعت کا آغاز کیا ہے۔ لیکن چیف جسٹس کے ریمارکس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ جلد اس اہم آئینی مقدمہ کا فیصلہ سنانا چاہتے ہیں۔ اسی تناظرمیں پاک فوج کے ترجمان نے اپنا مؤقف پیش کردیا ہے۔ پاک فوج کو اس معاملہ میں فریق نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کوئی وکیل پاک فوج کا نقطہ نظرپیش کرنے کے لئے عدالت میں موجود ہے۔ شاید اسی لئے آئی ایس پی آر کی طرف سے سانحہ 9 مئی کی سنگینی پر تفصیلی پریس کانفرنس کرکے یہ بتایا گیا کہ کیوں اس دن ہونے والے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی بے حد ضروری ہے۔ فوجی عدالتوں میں سول وکیل لے جانے اور ان فیصلوں کے خلاف ملکی نظام انصاف میں اپیل کرنے کے حق کا حوالہ دینے کا مقصد بھی شاید یہی تھا کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے انسانی حقوق کی دہائی دینا غیر ضروری ہے۔
تاہم آئی ایس پی آر کے سربراہ کی طرف سے ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین اعلیٰ افسروں کی برطرفی اور پندرہ اعلیٰ افسروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی معلومات سے اس روز رونما ہونے والے واقعات کی سنگینی اور فوج پر بطور ادارہ اس کے اثرات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ میجر جنرل احمد شریف نے واضح کیا ہے کہ کسی افسر کے خلاف کسی سیاسی پارٹی سے تعلق کی بنا پر کارروائی نہیں کی گئی کیوں کہ فوج کے ہر اہل کار کی بنیادی وفاداری اپنے ادارے کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ تاہم جیسے متعدد اعلیٰ افسروں کے خلاف کارروائی کرنے اور احتساب کا عمل پورا کرنے کی معلومات فراہم کی گئی ہیں، ان سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اس روز فوج کے اندر بعض عناصر کی ہمدردیاں تحریک انصاف کے احتجاج کے ساتھ تھیں اور وہ عسکری تنصیبات پر حملوں میں بالواسطہ یا براہ راست ملوث تھے۔ ان افسروں کے بارے میں چونکہ تفصیلی معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا گیا ہے ، اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ کس افسر کو کس جرم کی سزا ملی ہے لیکن فوج کی ناراضی اور سخت کارروائی سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ 9 مئی کے واقعات کو فوج میں ’بغاوت‘ کی ناکام کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ اسی لئے فوج اس واقعہ میں ملوث کسی شخص کو معاف کرنے پر تیار نہیں ہے اور 9 مئی کو پاکستان کے خلاف سازش اور ملکی تاریخ کا المناک باب قرار دیاجارہا ہے۔
ملک میں طویل عرصہ سے یہ بحث کی جارہی ہے کہ فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت سے باز رہنا چاہئے۔ اس بحث سے قطع نظر اس سچائی کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ فوج ایک مسلح ادارہ ہے جو ملکی سرحدوں کی حفاظت اور قومی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔ فوج اور سیاست کے حوالے سے ہونے والے تمام مباحث سے قطع نظر اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ بعض سیاسی عناصر فوج کے بعض افسروں کو اکسا کر کسی سیاسی ایجنڈے کے لئے استعمال کریں۔ سانحہ9 مئی اسی افسوسناک طرز عمل کا آئینہ دار ہے۔ اس لئے صرف چند سو افراد کے خلاف 9 مئی کے واقعہ میں ملوث ہونے کی کارروائی کرکے، آگے بڑھنا عاقبت نااندیشی ہوگی۔ سیاسی پارٹیوں اور پاک فوج کو ان تمام عوامل کا جائزہ لے کر ایسی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی کہ آئیندہ کسی سیاسی تنازعہ میں فوج کو ملوث نہ کیا جائے۔ پاک فوج کو اب سنجیدگی سے معاملہ کے اس پہلو پر غور کرنا چاہئے کہ اسے سیاست میں فوج کی بڑھتی ہوئی اور مسلسل دخل اندازی کی وجہ سے 9 مئی دیکھنا پڑا۔ اس لئے اب قومی سیاسی معاملات سے علیحدہ رہنا صرف ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ ہی کے لئے ضروری نہیں ہے بلکہ فوج میں یک جہتی، ڈسپلن اور وفاداری کو مستحکم کرنے کے لئے بھی فوجی قیادت کو سیاسی معاملات سے دست کش ہونا پڑے گا۔
اس پس منظر میں دو باتیں بے حد اہم ہیں:
ایک: جن اعلیٰ فوجی افسروں کو سانحہ9 مئی میں ملوث پایا گیا ہے، انہیں محض عہدوں سے برطرف کرکے یا دیگر تادیبی کارروائی کے بعد ’معاف‘ نہ کردیا جائے۔ بلکہ ان میں شامل ہر فرد کے جرم کی نوعیت کے مطابق اسے بھی فوجی عدالت کے سامنے پیش کرکے اس کے قصور کی قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔ ایسا کوئی اقدام فوج کے اپنے دعوے اور خواہش کے مطابق فوج میں احتساب کے نظام کو مؤثر کرے گا۔ یہ فوجی افسر عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں ، اس لئے انہیں بھی اپنے جرم کے مطابق قید کی سزا ملنی چاہئے۔ فوجی عہدیدار کے طور پر حاصل ہونے والی مراعات واپس لی جائیں اور انہیں سخت سزا دلوانے کا اہتمام کیا جائے۔ فوج کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر 9 مئی کے بلوائیوں کی اعانت کرنے والے کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں۔
دوئم: یہ واضح ہے کہ سانحہ 9 مئی کو ملکی سیاست کی گزشتہ ایک دہائی سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ سانحہ درحقیقت بعض فوجی لیڈروں کی اس حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس کے تحت انہوں نے ایک خاص سیاسی پارٹی کو دوسری سیاسی پارٹیوں کو کمزور کرنے اور ملک پر سیاسی غلبے کے لئے استعمال کیا۔ اس لئے اگر 9 مئی کے تمام ’قصور واروں ‘ کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے تو کم از کم فوج کے ان دو ریٹائرڈ جرنیلوں کی باز پرس بھی ہونی چاہئے جنہوں نے غیر معمولی جوش و جذبے سے ہر روایت اور اصول کو پس پشت ڈال کر عمران خان کے ہاتھ مضبوط کئے اور انہیں اقتدار میں لانے میں کردار ادا کیا۔ اس مقصد سے ملک کے سیاسی و انتظامی نظام کے علاوہ عدالتوں کو بھی من پسند فیصلے دینے پر مجبور کیا گیا۔
اب بھی فوج اگر سابق آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ کو تحفظ فراہم کرتی رہے گی تو احتساب کا عمل نامکمل رہے گا ۔ سیاست اور فوج کے دائرہ کار کے حوالے سے کوئی حد فاصل بھی قائم نہیں ہوسکے گی۔ میجر جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ قومی حالات درست کرنے کے لئے ’ جھوٹ کی کرنسی ختم کردی جائے اور سچ چاہے کتنا بھی کڑوا ہو ، اسے ہضم کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے‘۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کی جواب دہی کے بغیر فوج خود کچھ سچائیوں سے گریز کرتی دکھائی دے گی۔