لاکھوں مسلمان فریضہ حج ادا کررہے ہیں
لاکھوں عازمین حج کا رُکنِ اعظم وقوفِ عرفہ ادا کرنے کے لیے میدانِ عرفات میں جمع ہیں۔ مسجدِ نمرہ میں سعودی علما کونسل کے اہم رکن شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد نے خطبۂ حج دیا۔
شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد نے مسجدِ نمرہ میں خطبۂ حج میں فرمایا کہ اے ایمان والو! دنیا اور آخرت کے معاملات میں اللّٰہ کے حکم کو پورا کرو، اللّٰہ تعالیٰ نے تفرقہ ڈالنے سے منع کیا ہے، توحید کی دعوت تمام نبیوں میں مشترک رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللّٰہ ایک ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اللّٰہ کے سوا تمام چیزوں کو ہلاک ہو جانا ہے۔ نماز ادا کی جائے، زکوٰۃ دی جائے، اسلام میں غریبوں کی مدد کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ حج بھی ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن ہے، اللّٰہ کی عبادت ایسے کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
ان کا خطبۂ حج میں کہنا ہے کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل نہیں، جس طرح اس مہینے کی حرمت ہے اسی طرح جان و مال کی حرمت بھی ہے۔ دن رات کا آنا جانا اللّٰہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اللّٰہ کی حدود کی حفاظت کا مطلب ہے کہ ہم صرف اللّٰہ کی عبادت کریں۔
خطبۂ حج میں انہوں نے فرمایا کہ ہر نبی علیہ السلام نے یہی دعوت دی کہ ایک اللّٰہ کی عبادت کرو۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کا حکم اللّٰہ نے دیا ہے۔ اللّٰہ عظیم ہے اور حکمت والا ہے۔ اللّٰہ رب العزت نے تفرقے سے منع فرمایا ہے۔ قرآن میں اتحاد کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے، اتحاد میں ہی دین و دنیا کے معاملات میں فلاح ہے۔ مسلمانوں کا آپس میں مل کر رہنا ضروری ہے۔
اللّٰہ نے فرمایا ہے کہ جس نے کتاب میں اختلاف کیا وہ ہدایت سے دور ہیں، مسلمانوں کا آپس میں جُڑ کر رہنا ضروری ہے، ہمیں حکم دیا گیا کہ اختلاف ہو جائے تو قرآن اور سنت کی طرف جائیں، قرآنِ کریم میں مسلمانوں کے لیے جُڑ کر رہنے کا حکم ہے۔ اچھے اخلاق سے دوسروں کے دل میں جگہ پیدا ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ اچھے اخلاق رکھیں، شریعتِ مطہرہ کا مقصد ہے کہ مسلمان آپس میں جُڑ جائیں، ارشاد ہوتا ہے کہ شرک نہ کرنا، والدین سے حسنِ سلوک کرو، گناہ کے کاموں میں تعاون نہ کرو، تقویٰ میں تعاون کرو۔
شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد نے کہا کہ تمام مسلمانوں کے لیے حج کے دن دعائیں کرنا لازم ہے۔ کوئی تم سے نیکی کرے تو اس کے ساتھ بھی نیکی کر۔، اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مل جل کر رہنے میں برکت ہے، آپس میں اتحاد و اتفاق قائم کرو۔
خطبۂ حج کے بعد مسجدِ نمرہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی گئیں۔ صدر عارف علوی اور وزیرِ مذہبی امور طلحہٰ محمود بھی لاکھوں عازمین کے ہمراہ وقوفِ عرفہ کے لیے میدانِ عرفات میں موجود ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق میدانِ عرفات میں درجۂ حرارت 44 ڈگری سیٹنی گریڈ ہے۔ خطبۂ حج سے قبل میدانِ عرفات اور جبلِ رحمت کی فضا ’لبیک اللّٰھم لبیک‘ کی تکبیر سے گونجتی رہی۔
لاکھوں عازمینِ حج نے مسجدِ نمرہ اور میدانِ عرفات میں خطبۂ حج سنا۔ عازمینِ حج منی سے میدانِ عرفات پہنچے ہیں۔ خطبۂ حج کے بعد حجاج کرام غروبِ آفتاب تک وقوفِ عرفہ کریں گے۔
غروبِ آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہو جائیں گے، مزدلفہ میں حجاج کرام مغرب اور عشا کی نماز ایک ساتھ ادا کریں گے۔ حجاج کرام مزدلفہ میں آرام کریں گے اور کنکریاں جمع کریں گے۔
حجاج وقوفِ مزدلفہ کے بعد 10 ذی الحج کو رمی جمرات کریں گے۔