انتخابات سے پہلے اقتدار کی بندربانٹ کا تماشہ
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 27 / جون / 2023
صدر مملکت اپنے اہل خانہ و دیگر سرکاری زعما کے ساتھ ایک خصوصی طیارے میں حج کے لئے سعودی عرب پہنچے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سیاسی مذاکرات اور اہل خاندان کے ساتھ عید منانے کے لئے دبئی میں جمع ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کے لیڈروں کا حال ہے جو اپنے قومی بجٹ کی ضروریات پوری کرنے اور دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لئے عالمی مالیاتی فنڈ کے ’رحم و کرم‘ کا محتاج ہے۔
وزیر خزانہ نے بجٹ میں ترامیم پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ سعودی حکام سے اعلیٰ پاکستانی قیادت کو حج پر لےجانے کے لئے ایک خصوصی پرواز کی اجازت حاصل کی گئی ہے۔ اس اعلان کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ حکمران اتحاد میں شامل ہمنواؤں کو مفت سرکاری حج کی صورت میں ’رشوت ‘ پیش کی جائے۔ یعنی ملک کا سب سے زیادہ مراعات یافتہ طبقہ بھی ملک کی ساکھ اور وسائل کو داؤ پر لگا کر خود پر عائد دینی فرض ادا کرنے میں مضائقہ نہیں سمجھتا۔
اس اجازت سے استفادہ کرنے والوں میں البتہ صدر عارف علوی سر فہرست ہیں جو تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے ’صدارتی اختیار‘ کو پارلیمنٹ کی مرضی و منشا مسترد کرنے کے لئے استعمال کرنے کے ہتھکنڈے تلاش کرتے رہے ہیں لیکن 9 مئی کو رونما ہونے والے وقعات کے بعد وہ ایوان صدر میں باقی ماندہ مدت ’جذبہ خیر سگالی‘ سے گزارنے کے اشارے دے رہے ہیں۔ اس کا سب سے اہم اشارہ اڑھائی ماہ قبل ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ملک کا نیا چیف جسٹس مقرر کرنے کے حکم کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
ایک طرف عوام کے نمائیندے ’سرکاری حج‘ کے لئے خصوصی پرواز میں مکہ معظمہ پہنچے ہیں تو دوسری طرف ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں کے لیڈر دبئی میں جمع ہیں جہاں ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگرچہ کہا سنا تو یہی جاتا ہے کہ کسی جمہوری ملک میں انتخابات ہی سیاسی مستقبل کا تعین کرتے ہیں لیکن پاکستان کا باوا آدم نرالا ہے ۔ یہاں جو کام بعد میں ہونا چاہئے وہ پہلے نمٹا کر ’اطمینان ‘ سے انتخابات کے بارے میں سوچا جائے گا۔ خبروں کے مطابق دبئی میں نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوں گی۔ ان ملاقاتوں میں انتخابات کے شیڈول، نگران حکومت کے ناموں کا فیصلہ اور انتخابات میں دونوں بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملات زیر غور آئیں گے۔
روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق دونوں پارٹیوں نے طے کیا ہے کہ دوسرے درجے کی قیادت کے ذریعے مذاکرات کی بجائے نواز شریف اور آصف زرداری براہ راست بات چیت کریں اور تمام اہم و اختلافی معاملات پر کسی نتیجہ پر پہنچیں۔ یہ مذاکرات مسلم لیگ (ن) اور پیلز پارٹی کے اس گمان کی عکاسی بھی کرتے ہیں کہ ملک میں ہونے والے آئیندہ انتخابات میں ان ہی دو بڑی پارٹیوں کو ہی فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوگی۔ اس لئے اب مل بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ’کامیابی‘ کے بعد کس پارٹی کو اقتدار میں کتنا حصہ مل سکتا ہے۔ انتخابات سے پہلے اقتدار کی بندربانٹ کا یہ طریقہ پوری دنیا سے الگ ہے۔ عام طور سے سیاسی پارٹیاں پہلے انتخابات میں پنجہ آزمائی کرتی ہیں ۔ پھر اپنی مقبولیت اور سیاسی نمائیندگی کے حوالے سے کسی مخلوط حکومت کا نقشہ تیار کیاجاتا ہے۔ البتہ پاکستان میں گھوڑا گاڑی نہیں کھینچتا بلکہ گاڑی گھوڑے کے آگے باندھی جاتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بڑے یہ طے کرنا چاہتے ہیں کہ جیسے گزشتہ ایک سال کے دوران مل جل کر حکومت کی جاتی رہی ہے ، قوم و ملک کی ’بہتری ‘کے لئے آئیندہ پانچ سال کے دوران بھی ایسا ہی کوئی انتظام کرلیا جائے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سانحہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف کو ’ٹھکانے‘ لگانے کے بعد ، فوج بڑی سیاسی پارٹیوں سے ’بڑے پن‘ کی توقع کررہی ہے اور ان سے کہا جارہا ہے کہ مل جل کر کام کرنے میں ہی سب کی بھلائی ہے۔ البتہ حیرت انگیز طور ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں کسی سیاسی اصول، معاشی پروگرام یا فلاحی منصوبے پر اپنے اپنے منشور کے مطابق کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی بات نہیں کررہیں بلکہ سیٹ ایڈجسٹ منٹ کے ذریعے سیاسی قوت کو مستحکم کرنے اور سیاسی حریفوں کو میدان سے باہر رکھنے کی حکمت عملی پر کام کرنے کا اشارہ دے رہی ہیں۔
اسی لئے آصف زرداری ان حلقوں کی ایک فہرست نوازشریف کو پیش کریں گے جن پر پیپلز پارٹی اپنے امید واروں کے لئے مسلم لیگ (ن) کی حمایت کا تقاضہ کرے گی۔ اگرچہ یہ غیر واضح ہے کہ آصف زرداری جیسا سیاست دان اس تائد و حمایت کے بدلے میں مسلم لیگ (ن) کو کیا پیش کش کرے گا۔ ہوسکتا ہے کہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کی حکومتوں میں حصہ داری کا کوئی طریقہ طے کیا جائے کیوں کہ پیپلز پارٹی سندھ کے اقتدار میں تو شراکت پر راضی نہیں ہوگی۔ البتہ دوسرے دونوں صوبوں میں حکومت سازی کے لئے موجودہ حکومتی اتحاد کی تیسری اہم فریق جمیعت علمائے اسلام (ف) بھی امیدوار ہوگی۔ مولانا فضل الرحمان اگرچہ خود دبئی نہیں گئے لیکن کہا جارہا ہے کہ ابتدائی معاملات طے ہوجانے کے بعد فائینل راؤنڈ میں ٹیلی کانفرنس کے ذریعے مولانا کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے گا۔
یہ سیاسی جوڑ توڑ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ملک میں سیاسی و معاشی بحران اپنے عروج پر ہے۔ اگرچہ یہی تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملکی معیشت سے نمٹنے کے لئے بڑی سیاسی پارٹیاں مل جل کر کوئی حکمت عملی بنانا چاہتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے دبئی میں ہونے والی ملاقاتوں کا اولین مقصد مستقبل کے اقتدار میں اپنا حصہ ’پکا‘کرنے کوشش ہے۔ اگر کسی وجہ سے اعلیٰ قیادت تقسیم اقتدار کے کسی قابل قبول فارمولے پر متفق نہ ہوسکی تو نواز شریف اور زرداری یہ بھانپنے کی کوشش کریں گے کہ انتخابات میں وہ کیسے ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر خود اپنی پوزیشن بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس طرح ان مذاکرات کو متوقع انتخابات کی حکمت عملی تیار کرنے کے لئے ہوم ورک کی حیثیت حاصل ہوسکتی ہے۔
سیاسی رہنماؤں کے درمیان بات چیت تو بہر صورت خوش آئیند ہے لیکن حیرت ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری ان امور پر غور کرنے کے لئے ملاقاتیں کررہے ہیں جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں۔ مثلاً انتخابات کے انعقاد کا معاملہ آئین نے طے کررکھا ہے۔ یہ کوئی ایسا موضوع نہیں ہے جس پر سیاسی افہام و تفہیم کے ذریعے ٹال مٹول کی جاسکے۔ اسی طرح نگران حکومتوں کے ناموں کا اعلان وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ بالترتیب وفاقی اور صوبائی اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ مشاورت میں طے کرنے کے پابند ہیں۔ لیکن اس معاملہ پر بھی نواز ۔ زرداری ملاقات میں اتفاق رائے کا اشارہ دیا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ دونوں پارٹیاں تو اقتدار میں شریک ہیں۔ آئینی طور سے ان کی باہمی مشاورت سے تو نگران حکومتوں کا تعین نہیں ہوسکتا۔
حیرت انگیز طور پر یہ قیاس کرلیا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت یا انتخابی سیاست ختم ہوچکی ہے۔ اسی طرح باقی سیاسی گروہ بھی ان دونوں بڑی پارٹیوں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔ دریں حالات یہ سیاسی خوش فہمی تو ہوسکتی ہے لیکن حقیقی صورت حال تو انتخابات کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔ اس لئے ابھی سیاسی مذاکرات کرنے کی بجائے بہتر ہوتا کہ انتخابات کا اعلان کیا جاتا پھر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سیٹوں کی ایڈجسٹمنٹ کے لئے بات چیت کرلیتے۔ یہ طریقہ جمہوری اصولوں سے زیادہ قریب ہوتا اور ان دونوں بڑی پارٹیوں پر ایک بار پھر اسٹبلشمنٹ سے ساز باز کرنے کا الزام بھی عائد نہ ہوتا۔
البتہ بن السطور جو بات سامنے آرہی ہے، اس کے مطابق نواز شریف خود چوتھی بار وزیر عظم بننے کی تگ و دو کررہے ہیں جبکہ آصف زرداری اپنی زندگی میں بلاول بھٹو زرداری کو ملک کا وزیر اعظم بنتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ دونوں پارٹیوں سے ملنے والے اشاروں سے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ دونوں لیڈر اس حوالے سے اسٹبلشمنٹ کے کردار کو اہم سمجھتے ہیں۔ سیاسی بازی گری میں کچھ ایسی گیم جمانے کی کوشش ہورہی ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی تائد حاصل ہوجائے۔ جو فریق اس حوالے سے ٹھوس اشارہ دلوانے میں کامیاب ہوجائے گا، اسے دوسرے پر برتری ملنے کا امکان ہے۔ یادش بخیر ان میں سے ایک لیڈر ’ووٹ کو عزت دو‘ کے داعی رہے ہیں اور دوسرے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اقتدار عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو منتقل کرنے کا سہرا اپنے سر باندھنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتے۔ تو کیا اب نواز شریف اور آصف زرادری اپنے اپنے طور پر فوج کو یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ دوسرے کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتبار ہے؟
موجودہ ملکی صورت حال اور سیاسی افراتفری کے ماحول کا تقاضہ ہے کہ ملک میں آئینی جمہوری انتظام کے بارے میں شبہات پیدا نہ کئے جائیں اور انتخابات میں سب سیاسی پارٹیوں کو یکساں احترام اور موقع فراہم ہو۔ اگر درون خانہ گٹھ جوڑ سے اس اصول کو مسترد کیا گیا اور اسٹبلشمنٹ کی حمایت کے لئے جمہوری طریقوں کوپامال کرنے کا کوئی نیا راستہ تلاش کیا گیا تو شاید کسی ایک پارٹی یا گروہ کو وقتی فائدہ تو حاصل ہوجائے لیکن ملک کو بحران سے نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔ ’ایک پیج‘ کی سیاست سے پیدا ہونے والی خرابی سے سبق سیکھنے کی بجائے اسے دہرانے پر اصرار ، ایک نئے المیہ کی طرف پیش قدمی ہوگی۔