پولیس فائرنگ سے نوجوان کی ہلاک بعد ملک بھر میں پرتشدد احتجاج

  • بدھ 28 / جون / 2023

فرانس میں پولیس کی جانب سے نوجوان کو گولی مارنے کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ ’ا ایف پی‘ کے مطابق پیرس میں ٹریفک اسٹاپ کے دوران پولیس کی طرف سے ایک نوجوان کو گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔

اس واقعہ کے بعد ملک کے مضافاتی علاقوں کو راتوں رات ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مشہور شخصیات نے بھی قتل پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ پولیس نے اس قتل کے بارے میں ابتدائی طور پر جھوٹ بولا تھا۔ پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ 17 سالہ نوجوان نیل ایم کو دو پولیس اہلکاروں نے منگل کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر پکڑا۔

پولیس نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ ایک افسر نے نوجوان پر گولی چلائی کیونکہ وہ اپنی گاڑی پولیس افسر پر چڑھا رہا تھا۔ لیکن سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں واقعات کی بالکل مختلف تصویر سامنے آئی ۔ فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو پولیس اہلکار رکی ہوئی کار کے پاس کھڑے ہیں۔ ان میں سے ایک ڈرائیور کی طرف ہتھیاراٹھائے ہوئے ہے۔ ویڈیو میں آواز سنائی دیتی ہے کہ ’تمہیں سر میں گولی لگنے والی ہے‘۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کار کے چلتے ہی پولیس افسر پوائنٹ بلیک فائر کرتا ہے جس کے فوراً بعد کار حادثے کا شکار ہوجاتی ہے اور کچھ ہی دیر میں کار سوار کی موت ہوگئی۔ کار سوار کی موت نے پیرس کے مغربی مضافاتی علاقے نانٹیرے میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا ہے۔

پرتشدد مظاہروں کے دوراں ڈبوں کو آگ لگا دی گئی اور ایک میوزک اسکول میں بھی آگ لگائی گئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکنے کی کوشش کی جس کے بعد کچھ مضافاتی علاقوں میں بھی احتجاج ہونے لگا۔

وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینین نے کہا ہے کہ رات بھر 31 افراد کو گرفتار کیا گیا، 24 پولیس افسرمعمولی زخمی ہوئے اور 40 کے قریب کاروں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔

ویڈیو میں جس پولیس اہلکار کو گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا، اسے  حراست میں لے لیا گیا ہے اور قتل کی تفتیش جاری ہے۔ مقتول نوجوان نیل ایم کے وکیل یاسین بوزرو نے کہا ہے کہ وہ پولیس اہلکار کے خلاف قتل عام اور اس کے ساتھی کے خلاف شوٹنگ میں ملوث ہونے پر قانونی شکایت درج کرائیں گے۔

وکیل نے یہ بھی کہا کہ وہ پولیس اہلکاروں کے خلاف جھوٹی گواہی کے لیے مزید شکایت درج کرائیں گے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ نیل ایم نے ان سے بھاگنے کی کوشش کی تھی اور کار میں دو مسافر تھے جن میں سے ایک بھاگ گیا اور ایک نوعمر کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔

مشہور شخصیات اور کچھ سیاست دانوں نے فائرنگ پر نفرت، تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس واقعے کو ’ناقابل بیان‘ اور ’ناقابل معافی‘ قرار دیا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ ایک نوجوان مارا گیا ہے، یہ ناقابل فہم اور ناقابل معافی ہے۔ اس کیس نے پوری قوم کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کے لیے احترام اور پیار کا اظہار کیا۔

فرانسیسی مردوں کی قومی فٹ بال ٹیم کے کپتان اور پیرس سینٹ جرمین کلب کے اسٹار کھلاڑی کائیلین ایمباپے نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’میں اپنے فرانس کے لیے تکلیف محسوس کر رہا ہوں‘۔ فٹ بال ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ایک ناقابل قبول صورتحال، میرے تمام احساسات نیل کے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ ہیں، ایک ایسا ننھا فرشتہ جو ہمیں بہت جلد چھوڑ کر چلا گیا۔