نو مئی حادثہ نہیں، طویل تمثیل ہے

ماہ مئی کی کیا تخصیص ہے؟ پون صدی پر پھیلی قومی تاریخ میں کون سا مہینہ ہے جس میں کوئی منحوس منظر نہ کھلا ہو؟ ان دنوں نو مئی کا منتر زبان زِد عام ہے تو مئی کی تقویم ندامت پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

3 مئی 1950کو وزیراعظم لیاقت علی خان دورہ امریکا پر روانہ ہوئے تھے۔ اس دورے نے پاکستان کو سرد جنگ میں مغربی بلاک سے وابستہ کر دیا۔ غیر جمہوری قوتیں اور دائیں بازو کی سیاست اس فیصلے کی حامی تھیں جب کہ جمہوریت پسند طبقہ امریکی دریوزہ گری کا مخالف تھا۔ 1989کے بعد تصویر بدل گئی۔ جو تھا ناخوب، وہی خوب ہوا۔ 10 مئی 1955 کو فیڈرل کورٹ نے جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں دستور ساز اسمبلی توڑنے کی توثیق کر دی۔ ہماری عدلیہ اور طاقتور مقتدرہ کا گٹھ جوڑ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ 20 مئی 1956کو مغربی پاکستان اسمبلی میں گالی گلوچ کے شرم ناک مظاہرے میں اسکندر مرزا کی تخلیق ری پبلکن پارٹی کے امیدوار فضل الٰہی چوہدری سردار نشتر کے امیدوار کو ہرا کر اسپیکر بن گئے۔

یکم مئی 1960کو بڈھ بیر(پشاور) سے اڑان بھرنے والا امریکا کا یوٹو جاسوسی طیارہ سوویت یونین کی حدود میں مار گرایا گیا۔ خروشچیف کی دھمکی کے بعد پاکستان کو سوویت یونین سے باقاعدہ معافی مانگنا پڑی۔ 31مئی 1970کو یحییٰ سرکار کی سرپرستی میں شوکتِ اسلام جلوس نکالے گئے۔ مئی 1971 میں مشرقی پاکستان فوجی کارروائی کے نتیجے میں جل رہا تھا لیکن مغربی پاکستان کے اخبارات میں مکمل خاموشی طاری تھی۔ یکم مئی 1973 کو بھٹو مخالف سازش کے الزام میں بارہ فوجی افسر گرفتار کیے گئے۔ 4 مئی 1977 کو ائر مارشل اصغر خان نے کھلا خط لکھ کر مسلح افواج کو فوجی مداخلت کی دعوت دی۔
13 مئی 1978کو فوجی عدالت کی طرف سے صحافیوں کو کوڑے لگائے گئے۔ 29 مئی 1988  کو ضیا الحق نے جونیجو حکومت توڑ دی۔ 26 اور 27 مئی 1990 کو پکا قلعہ حیدر آباد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 70 شہری جاں بحق ہوئے۔ 21 مئی 1992 کو سندھ میں فوجی آپریشن شروع ہوا ۔ مئی 1993 میں قاضی حسین احمد نے اسلامک فرنٹ قائم کیا جس نے عام انتخابات میں تین نشستیں حاصل کیں ۔ 26 مئی 1993 کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حکومت بحال کی لیکن اس فیصلے پر عمل نہیں ہو سکا۔ 28 مئی 1998 کو پاکستان نے چاغی میں ایٹمی دھماکے کیے۔ مئی 1999 میں کارگل کی مہم جوئی شروع ہوئی۔ مئی 2000 میں ایڈمرل (ر) منصور الحق نے آبدوز کرپشن کے الزام میں 25 کروڑ روپے پلی بارگین کی پیشکش کی۔ 12 مئی 2007 کو کراچی فسادات میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ 28مئی 2010کو لاہور میں احمدی عبادت گاہوں پر دہشت گردی میں 93افراد ہلاک ہوئے۔ 2 مئی 2011 کو اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں مارا گیا۔

22 مئی 2011 کو پی این ایس مہران (کراچی) پر حملے میں بحریہ کی قیمتی تنصیبات تباہ ہوئیں نیز 13 جوان شہید ہوئے۔ 31 مئی 2011 کو صحافی سلیم شہزاد قتل کیے گئے۔ 13 مئی 2015  کو صفورہ چورنگی (کراچی) میں فائرنگ سے 45 افراد ہلاک ہوئے۔ 12 مئی 2017  کو مستونگ (بلوچستان) میں خودکش حملے میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔ 8 مئی 2019 کو داتا دربار لاہور پر حملے میں 13 افراد جاں بحق ہوئے۔ 11 مئی 2019 کو گوادر میں فائرنگ سے آٹھ افراد مارے گئے۔ 26 مئی 2019 کو خڑکمر (شمالی وزیرستان) میں سرکاری اہلکاروں کی فائرنگ سے 13 افرادجاں بحق ہوئے۔ 21 مئی 2021 کو چمن دھماکے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

25 مئی 2022 کو عمران خان اسلام آباد کی طرف بڑھتے ہوئے عدالتی احکامات کے باوجود ریڈ زون میں داخل ہو گئے۔ اس موقع پر سیاسی اور عدالتی ردعمل سے شہ پا کر نو مئی 2023 کی منصوبہ بندی کی گئی۔ مئی 2001 میں اسامہ بن لادن کی موت کے بعد کئی روز خاموشی طاری رہی تھی۔ 9 مئی 2023 کے واقعات کو بھی ابتدائی طور پر مشتعل ہجوم کی ہنگامہ آرائی قرار دیا گیا۔ 16 مئی کو آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات کا اعلان ہوا۔ صحافی مخلوق روزِ اول سے جانتی تھی کہ سیاسی عناصر کی آڑ میں دراصل فوجی بغاوت کی ناکام کوشش ہوئی ہے۔ 22 مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے نے اس رائے کی توثیق کر دی۔ 24 مئی سے پی ٹی آئی چھوڑنے کے اعلانات کی تمثیل شروع ہوئی۔ 26 مئی کو یوم تکریم شہدا منایا گیا۔ یہ امر واضح تھا کہ اس دوران داخلی طور پر شورش کے باقی ماندہ آثار پر گرفت کی جا رہی تھی۔

درویش نے 9 مئی کے فوراً بعد ایک ’پریس کانفرنس‘ کا امکان ظاہر کیا تھا۔ بالآخر 26 جون کو پریس کانفرنس سے معلوم ہو گیا کہ عسکری صفوں میں سرکش عناصر پر قابو پا لیا گیا ہے۔ نیز عدلیہ کو واضح اشارے دیے جا چکے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں کچھ مضحکہ خیز ی سے قطع نظر یہ کارروائی تدبر سے عمل میں لائی گئی ہے۔ اب بھی کچھ سوال تشنہ جواب ہیں۔ کیا آئندہ پی ٹی آئی کی تخلیق جیسے تجربات سے اجتناب کیا جائے گا۔ کیا سیاست میں مداخلت سے گریز کا عزم برقرار ہے۔ کیا معیشت کے وجودی بحران کو محض زبانی لیپا پوتی سے حل کر لیا جائے گا۔ سیاست کا آئندہ سفر شاہراہ دستور پر طے ہو گا یا سیاسی فیصلہ سازی میں دستکاری کی مشق جاری رہے گی۔ واضح رہے کہ شفاف سیاسی عمل کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔

سیاسی استحکام محض چند شرپسندوں کو سزائیں دینے کا عمل نہیں بلکہ طویل دورانیے پر پھیلے سیاسی اسکرپٹ میں بنیادی تبدیلیوں کا متقاضی ہے۔ 9 مئی محض ایک واقعہ نہیں، عشروں پر پھیلی ذہنی کجروی کا شاخسانہ ہے۔ ایسا بنیادی بحران بند کمروں میں منعقد ہونے والی نشستوں سے نہیں بلکہ قومی سطح پر Course Correction کا تقاضا کرتا ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)