اسٹاک ہولم میں قرآن سوزی اور پیرس میں نوجوان کا قتل: ایک ہی تصویر کے دو رخ
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 29 / جون / 2023
فرانس میں پولیس تشدد میں ایک سترہ سالہ نوجوان کی ہلاکت کے بعد تیسرے روز بھی پر تشدد احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ صدر ایمانوئیل میکرون نے پولیس کے ہاتھوں قتل کی مذمت کی ہے اور اسے ناقابل قبول واقعہ قرار دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے توڑ پھوڑ اور تشدد کو بھی ناقابل قبول کہاہے۔ تاہم ماہرین کو اندیشہ ہے کہ اس واقعہ سے ایک بار پھر 2005 کی طرح احتجاج کاطویل سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر بھی پولیس کے ہاتھوں دو افریقی نژاد نوجوانوں کی ہلاکت پر احتجاج شروع ہؤا تھا۔
اس دوران بدھ کو سویڈن میں ایک عراقی نژاد شخص نے اسٹاک ہولم کی سب سے بڑی مسجد کے باہر قرآن جلایا۔ اس واقعہ کی پاکستان اور ترکی سمیت متعدد مسلمان ممالک کی طرف سے مذمت کی جارہی ہے۔ 37 سالہ سلوان مومیکا نے پولیس کی اجازت سے قرآن جلایاتھا کیوں کہ سویڈن کی ایک انتظامی عدالت قرار دے چکی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مقدس کتاب کو جلا کر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو سویڈن کے قانون کے مطابق اسے روکا نہیں جاسکتا۔ سلوان مومیکا نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب کو نذر آتش کرکے اپنے ’خیالات‘ واضح کرنا آزادی رائے کی ’روح‘ کے عین مطابق ہے۔ اگر اس سے انکار کیا جاتا ہے تو اس آزادی رائے اور جمہوریت کا جنازہ نکل جائے گا۔
اسٹاک ہولم میں قراآن کی توہین کے اس واقعہ کے بعد مختلف مسلمان ممالک کی طرف سے احتجاج ، مذمتی بیانات اور سویڈن کے سفیروں کو احتجاجی مراسلے دینے کے علاوہ مظاہرین نے آج بغداد میں سویڈن کے سفارت خانہ پر حملہ کیا۔ متعدد مظاہرین سفارت خانے میں داخل ہوگئے اور پندرہ منٹ تک اندر موجود رہے ۔ تاہم بعد میں وہ باہر نکل گئے۔ یہ احتجاج شیعہ لیڈر مقتدر الصدر کی اپیل پر کیا گیا تھا۔ انہوں نے سویڈن کو ’اسلام دشمن‘ قرار دیتے ہوئے احتجاج کی کال دی تھی۔ خیال کیا جارہا ہے کہ بغداد میں نماز جمعہ کے بعد زیادہ پرجوش اور بڑا احتجاج دیکھنے میں آسکتا ہے۔
سویڈن میں قرآن سوزی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے ڈنمارک کا انتہاپسند اسلام دشمن لیڈر پالودن اس سال جنوری میں ترک سفارت خانہ کے باہر قرآن جلا چکا ہے۔ اس نے سویڈن اور ڈنمارک میں متعدد مقامات پر بھی یہی حرکت کی تھی۔ تاہم ترکیہ کے سفارت خانہ کے باہر قرآن سوزی پر صدر طیب اردوان نے سخت احتجاج کیا تھا۔ اس وقت ترکیہ نیٹو میں شمولیت کے لئے سویڈن کی درخواست کو روکنے کا سبب بنا ہؤا ہے۔ ترکیہ نے متعدد سفارتی کوششوں کے باوجود اس بارے میں نرمی نہیں دکھائی ہے۔ صدر اردوان سویڈن کی نیٹو میں شمولیت قبول کرنے کے لئے سویڈن میں کرد رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا تقاضہ کرتے ہیں جنہیں وہ ترکیہ کے باغی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا مطالبہ ہے کہ سویڈن قرآن جلانے کے واقعات کا تدارک کرے۔ مغربی ممالک اس گھناؤنے اقدام کو مسلسل آزادی اظہار کی آڑ میں قبول کرنے کی مجبوری ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک سنجیدہ سیاسی مکالمہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس معاملہ پر اگر مغربی ممالک مسلم دنیا کے ساتھ کسی متفقہ حکمت عملی اپنانے پر راضی نہ ہوئے تو یہ معاملہ مستقبل قریب میں افتراق و انتشار کا سبب بنتا رہے گا۔
قرآن جلانے کے واقعات سے مسلمانوں کے جذبات ضرور انگیختہ ہوتے ہیں اور ایسے واقعات کے خلاف شدید رد عمل بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ توہین قرآن کا ارتکاب کرنے والوں کو سویڈن یا دیگر مغربی ممالک میں زیادہ پزیرائی حاصل نہیں ہے۔ یہ مٹھی بھر عناصر ذاتی شہرت اور پبلسٹی کے لئے ایسی حرکت کرتے ہیں تاکہ انہیں پہنچانا جاسکے۔ مقامی یا عالمی سطح پر مسلمانوں کا رد عمل جس قدر شدید ہوتا ہے، یہ شر پسند عناصر اتنا ہی اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس لئے مسلمان لیڈروں اور مذہبی رہنماؤں کے اس معاملہ کوتمام زاویوں سے دیکھ کر کوئی دانشمندانہ پالیسی اختیار کرنی چاہئے۔
اس وقت تو یہی دیکھنے میں آرہا ہے کہ ایسے معاملات چھوٹے انتہاپسند مذہبی گروہوں کے حوالے کردیے گئے ہیں۔ وہ احتجاج کرتے ہیں تو حکومت یا سیاسی لیڈر خود کو ان کی نعرے بازی کا ساتھ دینے پر مجبور پاتے ہیں۔ ایسے میں یہ گروہ غیر ضروری طور سے اہمیت حاصل کرتے ہیں اور حکومت سمیت فیصلہ ساز قوتوں کو دباؤ میں لانے کا سبب بنتے ہیں۔ ایسی ہی حکمت عملی کا اظہار پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے دیکھنے میں آتا رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی حال ہی میں ٹی ایل پی کا ایسا ہی احتجاج ختم کروانے کے لئے اس گروہ کے ساتھ ایک غیر ضروری معاہدہ کیا تھا۔ اس سے پہلے تحریک انصاف کی حکومت بھی اس گروہ کی شرائط مانتی رہی ہے۔
یہ صورت حال پاکستان تک محددود نہیں ہے۔ دنیا کے بیشتر مسلمان ممالک میں ایسی ہی کیفیت دیکھی جاسکتی ہے۔ تاہم یہ بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ جن مسلمان ممالک میں سخت گیر شخصی حکومتیں موجود ہیں ، وہ ایسے واقعات پر احتجاج تو ریکارڈ کرواتی ہیں لیکن عام لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے یا سفارت خانوں پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ البتہ پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایسے ہی دیگر مسلمان ممالک میں اس کے برعکس صورت حال دیکھی جاسکتی ہے۔ البتہ یہ حقیقت بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ یہ گروہ کسی واقعہ پر احتجاج منظم کرتے ہوئے صرف اس واقعہ پر اپنی ناراضی ظاہر نہیں کرتے بلکہ مذہب کی آڑ میں اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں۔ متعدد اوقات یہ عناصر حکومتوں سے مناسب رعائتیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔
توہین قرآن یا مذہب کی بنیاد پر سیاست کرنے والے ان گروہوں کو سیاسی سپیس دینے سے مسلمان معاشروں میں مذہبی انتہاپسندی، تعصب اور نفرت فروغ پارہی ہے جس سے کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی متاثر ہوتی ہے۔ اس معاملہ کو کسی ایک مسلمان معاشرہ کے حوالے سے دیکھنے کی بجائے ، پورے منظر نامہ کو سمجھنے اور کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اس کا سب سے بہتر طریقہ تو یہی ہوگا کہ توہین مذہب کے نام پر ماردھاڑ کے طریقوں کو مسترد کرنے کے لئے ماحول تیار کیاجائے۔ اگر احتجاج مقصود بھی ہے تو اسے مہذب طریقے سے منظم کرنے کا شعور عام کیا جائے تاکہ مسلمانوں کی تہذیب اور ثقافت کو مثبت انداز میں دنیا کے سامنے لایا جائے۔ اس وقت توہین قرآن کے کسی واقعہ کے خلاف جیسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں، ان سے مسلمانوں کو انتہا پسند قرار دینے کے رجحان کو تقویت ملتی ہے۔ سویڈن جیسے ملکوں میں اسلام دشمن ایجنڈے کو مقبول کروانے والے عناصر بھی یہی چاہتے ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کو یہ ضرور غور کرنا چاہئے کہ کہیں وہ اپنے جذباتی طریقوں سے اپنے اور اسلام دشمن عناصر کے ہاتھ ہی تو مضبوط نہیں کررہے۔
فرانس میں سامنے آنے والا احتجاج بھی انتہاپسندی اور سخت گیر سماجی رویوں کی ایک دوسری اور مختلف تصویر سامنے لاتا ہے لیکن اسے بھی وسیع تر تصویر سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ پیرس کے نواح میں منگل کو مبینہ طور پر ٹریفک کے کسی قاعدے کی خلاف ورزی کرنے پر ایک سترہ سالہ نوجوان ناہیل کو ایک پولیس افسر نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ اس واقعہ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پولیس نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے جھوٹ کا سہارا لیا اور دعویٰ کیا کہ یہ نوجون پولیس افسر پر کار چڑھارہا تھا جس پر اپنے دفاع میں گولی چلانا پڑی۔ لیکن فوری طور سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گاڑی کھڑی ہوئی تھی اور پولیس افسر نے نوجوان پر پستول تانی ہوئی تھی۔ جوں ہی گاڑی چلتی ہے پولیس افسر گولی چلاکر نوجوان کو ہلاک کردیتا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک پولیس افسر کی غلطی ، کوتاہی یا نفرت ہی ظاہر نہیں کرتا بلکہ اس سے فرانسیسی پولیس میں پائے جانے والی انتہاپسندی اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کا مزاج ظاہر ہوتا ہے۔ اس لئے صدر میکرون کی طرف سے ایک نوجوان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کافی نہیں ہے۔ احتجاج کے دوران تشدد کی ضرور مذمت ہونی چاہئے لیکن فرانسیسی حکام کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ احتجاج کرنے والے نوجوان کیوں تشدد پر مجبور ہوتے ہیں۔ سال ہا سال سے پولیس خاص طور سے غیر سفید فام آبادی کے ساتھ امتیازی اور پرتشدد طریقے اختیار کرتی رہی ہے۔ جیسا کہ حالیہ واقعہ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس نہ صرف قانون شکنی کی مرتکب ہوتی ہے بلکہ اپنے طریقے کو درست قرار دینے پر اصرار بھی کرتی ہے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اگر ورکنگ کلاس کے نوجوان فوری طور سے اس پولیس تشدد کے خلاف سڑکوں پر نہ نکلتے اور شدت سے اپنی ناپسندیدگی کا اصرار نہ کرتے تو نہ نوجون کو ناجائز طور سے ہلاک کرنے والا پولیس افسر گرفتار ہوتا اور نہ ہی صدر میکرون کی حکومت پولیس کی غلطی تسلیم کرتی۔
دیکھا جائے تو اسٹاک ہولم میں قرآن سوزی کا واقعہ اور اس پر مسلمانوں کا رد عمل اور پیرس میں ناہیل کا قتل اور اس کے خلاف فرانسیسی عوام کا اظہار بے بسی، درحقیقت ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں جس میں سخت گیر رویوں کی وجہ سے تشدد اور لاقانونیت کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ ان دونوں معاملات کو محض ایک وقوعہ پر گفتگو تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔ نہ ہی ایک دوسرے پر الزام تراشی سے معاملہ حل ہوسکتا ہے۔ لیڈروں اور عوام کو یکساں طور سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تشدد و تعصب عوامی حقوق کی جد و جہد کو ناکام بنانے کے ہتھکنڈے ہیں۔ عوام بہتر سیاسی شعور اور ٹھوس سیاسی وعلمی رد عمل سے ہی ان ہتھکنڈوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔