اللہ نے کچھ کام بندوں کے لئے بھی چھوڑ رکھے ہیں
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 30 / جون / 2023
پاکستان بالآخر عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ایک اسٹینڈ بائی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے جس کے تحت آئیندہ 9 ماہ کے دوران آئی ایم ایف پاکستان کو تین ارب ڈالر فراہم کرے گا۔ خیال کیاجارہا ہے کہ یہ امداد ملک میں انتقال اقتدار کے دورانیہ میں معاشی استحکام فراہم کرے گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر قوم سے اپیل کی ہے کہ ’دعاکریں کہ آئیندہ کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے‘۔
دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن وزیر اعظم اور ملکی سیاست دانوں کو یہ بھی باور کرنا چاہئے کہ اللہ نے کچھ کاموں کا اختیار انسانوں کو بھی دیا ہؤا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہتر حکمت عملی اختیار کرنے والے ممالک معاشی لحاظ سے مستحکم ہوتے ہیں اور اپنے عوام کا خوشحال مستقبل یقینی بناتے ہیں۔ پاکستان میں یہ ذمہ داری اس وقت شہباز شریف اور ان کے سیاسی و انتظامی معاونین کو ملی ہوئی ہے۔ اب ان پر فرض عائد ہوتا ہے کہ صرف ماضی کی غلطیوں کا راگ الاپ کر اور سیاسی مخالفین کو زیر کرنے کے لئے بیان بازی سے گریز کریں اور انتظامی، سیاسی اور معاشی امور پر پوری ذمہ داری سے توجہ مبذول کی جائے تاکہ ملکی معاشی استحکام کا خواب پورا کیا جاسکے۔ آئی ایم ایف کے نئے معاہدہ نے پاکستان کو ایک فوری بحران سے ضرور بچایا ہے ۔ اس کے ذریعے پاکستان کو مختصر اور طویل مدت کے متعدد منصوبے شروع کرنے کا موقع بھی مل جائے گا اور اس میں معاونت کے لئے عالمی اداروں ، دوست ممالک اور نجی سرمایہ کاروں کی مدد بھی حاصل ہوسکے گی۔
اب یہ موجودہ حکومت اور ملک کی دیگر سیاسی قوتوں پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ملکی معیشت کی بہتری کے لئے یکسوئی سے کام کرنے پر آمادہ ہوتی ہیں۔ تاہم وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہونے کے بعد لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جو باتیں کی ہیں ، وہ خوش آئیند اور مثبت قائدانہ صلاحیت کا اظہار نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرض لینا اور قرض کی بنیاد پر معیشت کو چلانا کسی بھی ملک کے لئے کامیاب حکمت عملی نہیں ہوسکتی۔ قرض کسی بھی معیشت کے لئے ’بوسٹر ‘کی حیثیت ضرور رکھتے ہیں۔ قرض سے کسی ملک کو معاشی تحرک کے لئے ضروری وسائل بھی فراہم کرتے ہیں ۔ البتہ قرض کو مثبت اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہی کے ذریعے ہی نہ صرف قرض کی رقم چکا ئی جاسکتی ہے بلکہ کوئی ملک عوامی بہبود کے منصوبوں کے لئے وسائل بھی فراہم کرلیتا ہے۔ قرض کی بنیاد پر کامیاب معیشت چلانے کی سب سے قابل ذکر مثال امریکہ کی ہے۔ امریکی حکومت ڈیڑھ سو ٹریلین ڈالر کی مقروض ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق ہر امریکی پر 96 ہزار ڈالر کا بوجھ ہے لیکن امریکی معیشت 25 ٹریلین ڈالر سالانہ ہے جس کی وجہ سے ملک میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں اور حکومت اپنی قومی اور عالمی ذمہ داریاں بھی پوری کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری و معاشی قوت کے طور پر سپر پاور کہلاتا ہے۔
قرض کے ناقص استعمال کی بدترین مثال پاکستان سمیت ان ممالک میں تلاش کی جاسکتی ہے جہاں سیاسی بحران، انتظامی عدم فعالیت، ناقص معاشی منصوبہ بندی اور مالی بدعنوانی کی وجہ سے پیداواری صلاحیت مسلسل اثر انداز ہوتی ہے اور معاشرے میں دولت کی گردش کو یقینی بنانا ممکن نہیں ہوتا۔ سرکاری ادارے غیر ضروری بوجھ بن جاتے ہیں اور عدم استحکام کی وجہ سے قومی پیداوار میں مسلسل کمی واقع ہوتی ہے۔ جب قومی پیداوار میں اضافہ کا اہتمام نہیں کیا جائے گا تو قرض اتارنے کے لئے نئے قرض لینے کا ایک ناگوار سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس سے نکلنا ناممکن ہوتا ہے۔ تاہم قومی معیشت اس طور سے کسی انفرادی معیشت سے علیحدہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی ملک اگر کسی مرحلے پر تبدیلی لانے کا تہیہ کرلے اور اس کے عوام اور قائدین مل کر معاشی احیا کے لئے یک سو ہوجائیں تو معاملات بہتر ہوتے دیر نہیں لگتی۔ لیکن یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے الزام تراشی کی سیاست ترک کرکے تعمیری انداز فکر سے آگے بڑھنا ضروری ہوتا ہے۔
شہباز شریف نے اپنے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ مل کر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کی خوشی منانے کے لئے جو پریس کانفرنس کی ہے اس میں خود ستائی اور تحریک انصاف کی عیب جوئی کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیا۔ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ ایک دوسرے کی تعریف کرتے رہے اور قوم کی خدمت میں سرشاری کے من گھڑت قصے سناتے رہے یا پھر پدرم سلطان بود کی طرح ماضی کے قصے سنا کر یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی گئی گویا موجودہ حکومت بلکہ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ کوئی بھی دوسری سیاسی قوت ٹھوس معاشی منصوبہ شروع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ یہ دعوے ماضی کی ناکامیوں سے میل نہیں کھاتے اور نہ ہی ناک رگڑ کر قرض کا ایک عبوری معاہدہ ایسی کسی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ شہباز شریف کی اس بات سے بھی اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے طویل ملاقاتوں میں اپنی چکنی چپڑی باتوں سے آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹا لینا گیورگیوا کو رام کرلیا اور وہ اسٹاف لیول معاہدہ پر راضی ہوگئیں۔ آئی ایم ایف کی امداد کے متعدد پہلو ہوسکتے ہیں اور ان کے سیاسی اور مالی جواز پر گفتگو بھی کی جاسکتی ہے لیکن اس وقت سب سے اہم یہ پہلو ہے کہ حکومت یا وزارت خزانہ اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی بجائے اب ملک میں انتخابات کے پروگرام کا اعلان کرے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدہ میں ایک شرط تو واضح طور سے سامنے آچکی ہے کہ پاکستان دور رس معاشی اصلاحات کے علاوہ ’موجودہ بین الاقوامی لین دین ، مختلف کرنسیوں میں ادائیگیوں اور منتقلی پر پابندیوں سے پاک غیر ملکی کرنسی کا فریم ورک برقرار رکھے گا‘۔ اس ایک فقرے کا صاف طور سے ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان چینی کرنسی یوآن پر انحصار بڑھانے کی پالیسی اختیار نہیں کرے گا اور مسلسل یا کم از کم جب تک آئی ایم ایف کے ساتھ مالی پرگرام جاری ہے، اس وقت تک ڈالر ہی کو اہم ترین کرنسی کے طور پر قبول کرتے ہوئے اسی میں ادائیگیوں اور لین دین کا طریقہ جاری رکھے گا۔ یہ شرط کسی ملک کے خود مختار فیصلے کرنے کے حق پر سخت پابندی کے مترادف ہے لیکن جب کوئی قوم معاشی لحاظ سے تباہی کی موجودہ سطح پر پہنچ چکی ہے تو قرض دینے والے ادارے اور ممالک ضرور اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں بین السطور یہ یقین دہانی بھی ضرور کروائی گئی ہوگی کہ ملک میں موجودہ آئینی انتظام کو مستحکم کیا جائے گا اور مقررہ مدت میں نئے عام انتخابات منعقد کرواکے نئی حکومت کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا تاکہ ملکی معیشت کے لئے دور رس اور اہم فیصلے کئے جاسکیں۔ موجودہ حکومتی انتظام آئینی لحاظ سے اپنے دن گن رہا ہے ۔ اس کا قابل قبول متبادل انتخابات میں منتخب ہونے والی پارٹی کی بنائی ہوئی حکومت ہی ہوسکتی ہے۔ حکومت اگر آئی ایم ایف اور اس سے رعایت لینے کے لئے بالواسطہ طور سے امریکہ کو یہ یقین دلا چکی ہے کہ ملک میں حکومت سازی کے لئے کوئی ماورائے آئین اقدام نہیں کیا جائے گا تو اسے خوش آئیند کہنا چاہئے۔ ملک کو اس وقت ایسی حکومت کی ضرورت ہے جسے عوام کا اعتماد حاصل ہو اور جس کی عوامی قبولیت کے بارے میں نت نئے سوال نہ اٹھائے جارہے ہوں۔ یہ مقصد انتخابات کے ذریعے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔
تاہم آئی ایم ایف معاہدہ کے تناظر میں اس اہم پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ معاہدہ امریکہ کی طرف سے خیر سگالی کے اشاروں بعد ہی ممکن ہؤا ہے۔ گو کہ اس کی اہم ترین وجہ ملک میں قائم ہونے والی نسبتاً پر امن سیاسی فضا بھی ہے۔ سانحہ9 مئی کے بعد تحریک انصاف کو شدت سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے قانونی اور سیاسی پہلوؤں پر ضرور غور ہونا چاہئے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر ڈونر ممالک و عالمی اداروں کی ہچکچاہٹ کا ایک سبب ملک میں پائی جانے والی سیاسی و سماجی بحران کی کیفیت بھی تھی۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نام نہاد ’حقیقی آزادی‘ کے نام پر معمولات زندگی کو متاثر کرتی رہی تھی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کردی گئی تھی۔ ایسے میں سرمایہ لگانے والے تمام عناصر ضرور یہ سوچنے پر مجبور تھے کہ ایسے ملک میں سرمایہ لگا کر اس کی واپسی کو کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ ملک میں موجودہ سکون کے ماحول اور اب آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کی وجہ سے پاکستان کو ایک ایسا موقع ضرور ملا ہے کہ وہ طویل المدت معاشی احیا کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکے۔
اس حوالے سے سب سے اہم قدم ملک میں فوری عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرنا ہوگا۔ اس بارے میں مزید لیت و لعل سے قومی سطح پربھی بے چینی میں اضافہ ہوگا اور عالمی سطح پر بھی پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھائے جائیں گے۔ شہباز شریف کو چاہئے کہ وہ وزیر اعظم کے طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کو کسی انتخابی جلسے کی تقریر بنانے سے گریز کیاکریں ۔ ورنہ موجودہ حکومت کا رہا سہا اعتبار بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔