فرانس میں احتجاج چوتھے روز بھی جاری، 45 ہزار اہلکار تعینات

  • ہفتہ 01 / جولائی / 2023

فرانس میں شمالی افریقی نژاد نوجوان کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں مسلسل چار روز سے ہنگاموں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے ہفتے کو 45 ہزار پولیس افسران تعینات کردیے گئے۔ متعدد بکتر بند گاڑیاں سڑکوں پر گشت کر رہی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ان ہنگاموں کے دوران کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا اور دکانوں کو لوٹ لیا گیا۔ پُرتشدد مظاہروں نے صدر ایمانوئل میکرون کو 2018 میں شروع ہونے والے ’یلو ویسٹ‘ احتجاج کے بعد سنگین بحران کا سامنا ہے۔

28 جون کو پیرس میں ٹریفک اسٹاپ کے دوران پولیس نے ایک 17 سالہ نوجوان ناہیل ایم کو گولی مارکرہلاک کردیا تھا۔  اس واقعےکے بعد ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور مشہور شخصیات نے بھی اس قتل پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ نوجوان کی موت نے غریب اور نسلی طور پر مخلوط شہری برادریوں کی پولیس تشدد اور نسل پرستی کی دیرینہ شکایات کو دوبارہ جنم دیا ہے۔

وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمینن نے ہفتے کی صبح بتایا کہ جمعہ کی رات 270 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جس سے بدامنی شروع ہونے کے بعد گرفتاریوں کی مجموعی تعداد 1100 سے تجاوز کر چکی ہے۔ جمعہ کی رات کی گرفتاریوں میں جنوبی شہر مارسیلے کے 80 افراد شامل تھے، جو فرانس کا دوسرا بڑا اور شمالی افریقی نسل کے بہت سے لوگوں کا گھر ہے۔

سوشل میڈیا کی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مارسیلے میں پرانی بندگارہ کے علاقے میں دھماکا ہوا۔ حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے تحقیقات کی جار ہی ہیں لیکن یقین نہیں ہے کہ کوئی جانی نقصان ہوا۔ پولیس نے بتایا کہ وسطی مارسیلے میں فسادیوں نے بندوق کی دکان کو لوٹ لیا اور متعدد شکاری رائفلیں چرا لیں، تاہم کوئی گولہ بارود نہیں لوٹا گیا۔

مارسیلے کے میئر بینوئٹ  نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اضافی فوجیوں کو بھیجا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوٹ مار اور تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ فرانس کے تیسرے سب سے بڑے شہر لیون میں پولیس فورس نے بدامنی پر قابو پانے کے لیے بکتر بند گاڑی اور ایک ہیلی کاپٹر تعینات کیا۔

وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمینن نے پورے فرانس میں مقامی حکام سے بس اور ٹرام ٹریفک کو رات 9 بجے سے روکنے کے احکامات دیتے ہوئے  45 ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے ہیں۔

متاثرہ نوجوان کے خاندان کے ایک دوست  نے کہا کہ انہوں نے ناہیل کو بڑا ہوتے دیکھا۔ اقلیتی نسلی برادریوں کے خلاف پولیس تشدد کے واقعات کے بعد غصے کو ناانصافی کے احساس سے ہوا ملی ہے۔ متاثرین میں  اکثر کا تعلق سابق فرانسیسی کالونیوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تنگ آچکے ہیں، ہم بھی فرانسیسی ہیں، ہم تشدد کے خلاف ہیں، ہم گندے نہیں ہیں۔

صدر ایمانوئل میکرون کا اصرار ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں نظامی نسل پرستی موجود نہیں ہے۔ صدر نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے نو عمر بچوں کو گھروں میں روک کر رکھیں تاکہ پر تشدد احتجاجی مظاہروں کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

جمعے کے روز فرانس کے صدر نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز گڑ بڑ پھیلانے میں خاصا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز چلانے والی کمپنیوں سے کہا کہ وہ حساس نوعیت کا مواد اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دیں۔