فوج کے ترجمان کی دو ٹوک باتیں
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 01 / جولائی / 2023
سانحہ9 مئی کے کرداروں کو کیفردار تک پہنچانے کا عزم بالجزم، ڈائریکٹر جنرل، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز میجر جنرل احمد شریف کا پریس کانفرنس میں اظہارِ خیال فوج کے ترجمان نے بڑی صراحت اور وضاحت کے ساتھ قوم کو بتا دیا ہے کہ 9مئی کو جنہوں نے جو کچھ کیا، ریاستی املاک پر حملہ آور ہونے والوں،انہیں شہہ دینے والوں،ان کی سہولت کاری کرنے والوں اور اس کے ماسٹر مائنڈ سمیت سب سازشیوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔
ناقابلِ تردید شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین فوجی افسر برطرف اور 15 کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا چکی ہے،ایک ریٹائرڈ فور سٹار جنرل کی نواسی، ایک کا داماد، ریٹائرڈ تھری سٹار جنرل کی بیگم، ریٹائرڈ فور سٹار جنرل کی بیگم اور داماد احتسابی عمل سے گزر رہے ہیں۔ایسے حقائق بیان کر کے فوج کے ترجمان نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا واویلا کر کے9مئی سانحہ کے سہولت کار اور ماسٹر مائنڈ چھپ نہیں سکتے ہیں،منصوبہ بندی کئی ماہ سے چل رہی تھی، لوگوں کو فوج کے خلاف اُکسایا جا رہا تھا، افواجِ پاکستان کی عزت و وقار اور املاک پر حملہ طے شدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا۔شہداء کے ورثاء اور فوج کے رینکس اینڈ فائل پوری قوم اور آرمی چیف سے سوال کر رہے ہیں کہ ان کے پیاروں نے اس لئے قربانیاں دی تھیں کہ ان کی بے حرمتی کی جائے،منصوبہ ساز انصاف کے کٹہرے میں کب لائیں جائیں گے؟
9مئی کے سانحے کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے اور لکھا جاتا بھی رہے گا،لیکن دو باتیں بڑی اہم ہیں ایک تو انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپئن جو واویلا کر رہے ہیں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے،خواتین کو گرفتار کر کے نجانے کہاں رکھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہوتے ہیں، سزا و جزا صنفی تفریق کی بنیاد پر نہیں آئین اور قانون کے مطابق دی جاتی ہے اور پھر نام نہاد ماڈرن ٹولا تو صنفی تفریق کے ویسے بھی خلاف ہے۔ ان کے ہاں لڑکے لڑکی یا مرد اور عورت کے درمیان قطعاً فرق نہیں پایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی صفوں میں اختلاط مرد و زن کی آزاد روی کے باعث اخلاق باختگی اور اخلاق سوزی کے واقعات کی بہتات پائی جاتی ہے،لیکن جب احتساب کی باری آئی ہے تو وہ صنفی تفریق کی باتیں کر رہے ہیں اس طرح کی دوغلی پالیسی اس ٹولے کا طرہئ امتیاز رہا ہے اِس لئے ہمیں اس بارے میں زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسرا مسئلہ سہولت کاروں،منصوبہ سازوں اور اس سارے سانحے کے ماسٹر مائنڈ بلکہ ہیڈ ماسٹر مائنڈ کو انصاف کے کٹہرے میں لائے جانے کا ہے۔اس وقوع کو دہ ماہ سے کچھ ہی کم وقت گزرا ہے لیکن اصلی مجرم کی طرف ابھی تک قانون کے ہاتھ بڑھتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر اب بھی مغلظات کہہ رہا ہے،اُکسا رہا ہے، جھوٹ اور مکر کی سازش کر رہا ہے۔ ابھی تک کوئی آہنی یا غیر آہنی ہاتھ ان کی طرف بڑھتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔عامتہ الناس میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ جاری پکڑ دھکڑ اور ملک دشمنوں پر کریک ڈاؤن وقت کے ساتھ ساتھ کمزور پڑ جائے گا اور بالآخر قصہ پارینہ بن جائے گا۔بالخصوص13اگست2023 اسمبلی کی مدت ختم ہونے اور عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ معاملات نیا رخ اختیار کر لیں گے،سیاسی جوڑ توڑ شروع ہو جائے گا،انتخابات کا بخار سب کچھ بہا کر لے جائے گا اور پھر ملک دشمن کے ووٹر نکل کھڑے ہوں گے اور جاری معاملہ،یعنی احتساب اور کریک ڈاؤن اپنی طبعی موت مر جائے گا۔بظاہر اس سوچ میں جان نظرآتی ہے،کیونکہ ہماری تاریخ ایسے سانحات و واقعات کا پتہ دیتی ہے۔ایوبی دورِ حکمرانی میں شیخ مجیب الرحمان کی ہندوستانی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازش، جسے اگرتلہ سازش کا نام دیا گیا ایک ثابت شدہ حقیقت تھی اسے جیل میں بھی ڈالا گیا، ٹرائل بھی ہوا لیکن پھر سیاسی عمل کے نتیجے میں، ایوب خان کو نیچا دکھانے کے چکر میں سیاست دانوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے لئے شیخ مجیب کی شرکت کی شرط رکھی تو ایوب خان کو شیخ مجیب کو رہا کرنا پڑا۔ایک مجرم ایک ہیرو کے طور پر ٹھونک بجا کر تمام سیاست دانوں کے ساتھ، جنرل ایوب کے سامنے، برابری کی سطح پر بیٹھا۔ پنڈی سازش کیس کے ملزمان بھی بعد میں ہیرو ٹھہرے۔
علی ہذا القیاس اب بھی کہیں ایسا تو نہیں ہونے جا رہا ہے؟ عوام میں پائی جانے والی سوچ اور فکر بلاوجہ نہیں ہے ابھی تک مرکزی ملزم،9مئی کی سازش کا شر دماغ آزاد نہ گھوم پھر رہا ہے، قتنہ گری میں مصروف ہے اس کے چیلے چانٹے ایسا ہی تاثر دے رہے ہیں کہ اس کی مقبولیت9مئی کے بعد آسمان کو چھونے لگی ہے اور جونہی الیکشن کا اعلان ہو گا تو اس کی مقبولیت کا سیلاب، سیلِ رواں کی طرح ہر ایک کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔ویسے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ9مئی کے بعد پکڑ دھکڑ کے باعث جو ایک خوف کی فضاء قائم ہوئی تھی وہ اپنی قوت و طاقت کھو چکی ہے۔
ڈرے سہمے چیلے چانٹے اب اس طرح خوفزدہ نہیں ہیں،جیسے پہلے تھے اعلیٰ عدالتوں کے ذریعے وہ ریلیف بھی لے رہے ہیں، فوجی عدالتوں کو بھی چیلنج کیا جا چکا ہے، اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ فوجی عدالتوں کے مسئلے کو سپریم کورٹ میں لے جا چکے ہیں اور ہمارے منصف ِ اعلیٰ اسے خوب ہوا دے رہے ہیں اور تاثر پیدا کرنے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں کہ جیسے ملٹری کورٹس ماورائے آئین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کے ترجمان نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ پہلے سے قائم فوجی عدالتوں میں 102 شرپسندوں کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ یہ عدالتیں آرمی ایکٹ کے تحت پہلے ہی سے قائم ہیں جہاں سینکڑوں مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں اور آرمی ایکٹ آئین پاکستان کا حصہ ہے۔
نمٹائے گئے مقدمات کی بین الاقوامی عدالت انصاف نے جانچ پڑتال کے بعد ثوثیق بھی کی تھی۔گویا سارا عمل آئین پاکستان اور قانون کے مطابق کیا جا رہا ہے جسے عالمی عدالت ِ انصاف پہلے ہی درست تسلیم کر چکی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے خلاف9مئی کو انجام پانے والی سازش کے شر دماغ کو بھی فوری طور پر آہنی شکنجے میں لانا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا وقت ِ اجل آ جائے اور پھر محب وطن پاکستانیوں کو مطالبہ کرنا پڑے کہ اسے بعد از مرگ بھی انجام تک پہنچانے کا بندوبست کیا جائے۔