سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر یورپی یونین کی مذمت
یورپی یونین نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت کی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے اس معاملے پر اگلے ہفتے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔
ترک خبر ایجنسی ’انادولو‘ کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ قرآن پاک یا دیگر مقدس کتابیں جلانے کا عمل ’جارحانہ، بے حرمتی اور مکمل طور پر اشتعال انگیز‘ ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی ترجمان نبیلہ مسارلی نے بیان میں کہا کہ ’منافرت، تفرقہ اور عدم برداشت جیسے مظاہر کی یورپ میں کوئی جگہ نہیں ہے‘۔ یورپی یونین، قرآن پاک جلانے کا عمل یکسر مسترد کرنے کے عمل میں سویڈن کے ساتھ ہے، یہ عمل کسی صورت یورپی یونین کے خیالات کا مظہر نہیں ہے‘۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس لیے بھی انتہائی افسوس ناک ہے کہ اس طرح کا واقعہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر پیش آیا جب مسلمان خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں۔
سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں عیدالاضحیٰ کے پہلے روز چند برس قبل عراق سے سویڈن منتقل ہونے والے شہری نے قرآن پاک کی بے حرمتی اور اوراق جلانے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد پاکستان اور دیگر مسلم ممالک سمیت دنیا بھر سے مذمت کا اظہار کیا گیا تھا۔
ملزم پر سویڈن کی پولیس نے نسلی فسادات پر اکسانے اور آگ لگانے پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد پاکستان، ترکیہ، اردن، فلسطین، سعودی عرب، مراکش، عراق اور ایران کی جانب سے شدید مذمت کی گئی تھی۔
ادھر او آئی سی نے سویڈن میں پیش آنے والے واقعے پر اگلے ہفتے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ او آئی سی نے ایک بیان میں کہا کہ اجلاس سعودی عرب کی جانب سے اسلامک سمٹ کانفرنس کی سربراہی کی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے اور سعودی شہر جدہ میں واقع او آئی سی کے مرکز میں منعقد ہوگا۔ ہنگامی اجلاس میں واقعے کے نتائج سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
او آئی سی نے اس سے قبل بیان میں مذکورہ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کا عمل تحمل، برداشت اور انتہا پسندی کے خلاف کوششوں کے بالکل خلاف ہے۔ بیان میں زور دیا گیا تھا کہ دنیا بھر میں متعلقہ حکومتیں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔