معاشی بحالی کے لئے ، آئینی عوامی حکومت ضروری ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 01 / جولائی / 2023
پاکستانی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے بعد اطمینان کا سانس لے رہی ہے جبکہ عام شہری اس معاہدہ کے نتیجہ میں رونما ہونے والے اثرات سے نمٹنے کی تیار ی کرہے ہیں۔ اگرچہ وزیر اعظم نے گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں قرار دیا ہے کہ یہ کوئی خوشی کا موقع نہیں ہے بلکہ لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان کو کیوں بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔ البتہ اس لمحہ فکریہ کو پالیسی میں تبدیل کرنے اور عوام کو اس حکمت عملی میں ساتھ لے کرچلنے کا مرحلہ ابھی دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔
وزیر اعظم نے البتہ اس بات پر اصرار کیا تھا کہ ’قوم دعا کرے کہ ہمیں پھر آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے‘۔ اس تناظر میں گزشتہ روز ان سطور میں عرض کیا گیا تھا کہ اللہ نے کچھ کاموں کا اختیار انسان کو بھی دیا ہؤا ہے تاکہ وہ اپنی عقل و شعور کے مطابق درپیش مسائل سے نمٹ سکے۔ اس معاملہ میں مسلم و غیر مسلم کی تخصیص نہیں کی گئی۔ گویا مسلمان اللہ سے کسی خصوصی سلوک کی توقع نہیں کرسکتے۔ اس نے انسانوں کے لئے جو اسکیم تیار کی ہے، اس کے مطابق سب لوگوں کو اپنی بہبود کے لئے خود کوشش کرنا ہوتی ہے۔ اہل پاکستان سے اسی حوالے سے غفلت ہوئی ہے۔ اب وقت ہے کہ وہ اس غلطی کی اصلاح کرلیں۔ اسی لئے وزیر اعظم کی طرف سے صرف دعاؤں کی درخواست کرنا کسی لیڈر کے شایان شان نہیں لگتا۔ اسی طرح جب وزیر خزانہ ٹھو س معاشی منصوبہ سامنے لانے کی بجائے اس تعلی سے کام لیتے ہیں کہ ’پاکستان اللہ نے بنایا تھا ، وہی اس کی حفاظت کرے گا‘ تو یہ اللہ پر بھروسہ اور یقین کی بجائے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا بوجھ اللہ کی طرف منتقل کرنے کی ناروا کوشش لگتی ہے۔
اللہ اسی وقت تک اس ملک کی حفاظت کرے گا جب تک یہاں آباد لوگ اور ان کی حکومت واقعی ملک کی حفاظت میں یک سو ہوں گے اور تن من دھن سے اس کی حفاظت کا بیڑا اٹھائیں گے۔ دفاع پر مصارف بڑھا کر یا پاک فوج کی مدح میں ترانے الاپ کر ملک کی حفاظت نہیں ہوسکتی ۔ بعینہ ملکی معیشت کی بہتری کو قرضوں یا غیر ملکی امداد سے مشروط کرکے مالی حالات کو بہتر نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر اعظم شہباز شریف تو اپنی سیاسی گرمجوشی میں موجودہ معاشی مسائل کی تمام تر ذمہ داری عمران خان یا تحریک انصاف کی حکومت اور اقتدار سے محروم ہونے کے بعد احتجاج کی صورت پیدا کرنے پر ڈالتے ہیں۔ اسی لئے ان کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ 9 مئی کو ہونے والا احتجاج اور توڑ پھوڑ کا منصوبہ درحقیقت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کو ناممکن بنانے کی کوشش تھی ۔ وزیر اعظم کے پاس اس بات کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے لیکن وہ سیاسی دشمنی میں ہر مشکل اور پریشانی کا الزام عمران خان پر عائد کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
پاکستان کے معاشی مسائل سال ہا سال کی معاشی بدنظمی، ناقابل قبول سیاسی پالیسیوں، اسٹریٹیجک ضرورتوں کی غلط تفہیم اور دوست دشمن کی تخصیص کے حوالے سے غلطیوں کے ارتکاب کا نتیجہ ہیں۔ اس میں سب سے بڑی وجہ ملک کے آئینی انتظام کو درپیش چیلنجز ہیں ۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہی ملکی بیوروکریسی کے ایک خاص گروہ نے حکومتی انتظام کو عوام کی مرضی کی بجائے ایک خاص سوچ اورطریقے سے چلانے کی کوشش کی ۔ شروع کے چند سالوں کے بعد فوجی بیوروکریسی نے دیگر حکومتی عناصر پر بالادستی حاصل کرلی جس کا پہلا باقاعدہ اظہار اکتوبر 1958 میں ایوب خان کے مارشل لا سے ہؤا۔ اس کے بعد متعدد فوجی لیڈروں نے سیاست دانوں کو نااہل اور بدعنوان قرار دے کر امور مملکت چلانے کی کوشش کی ۔ پھر اس مقصد کے لئے انہی سیاست دانوں کی مدد لینے پر مجبور ہوئے جن پر ملک دشمنی یا بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کئے جاتے تھے۔
یہ سلسلہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے ’عمران پراجیکٹ‘ تک تسلسل سے چلتا آیا ہے اور ملکی معیشت و سیاست پر اس کے اثرات بھی اب سب پر عیاں ہوچکے ہیں۔ سانحہ9 مئی کے بعد تحریک انصاف کے ’خطرے‘ سے نمٹنے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن یہ طے نہیں ہوسکا کہ کیا اس دن رونما ہونے والے واقعات سے سبق سیکھ کر پاک فوج مستقل طور سے سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ کرے گی اور ملک میں آئینی انتظام کے بارے میں شبہات کا خاتمہ ہوسکے گا۔ اب حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ ملکی سیاستدان اور فوج مستقبل میں واقعی درست فیصلے کرکے ملک کو ماضی میں کی گئی غلطیوں سے نجات دلائیں گے۔ یہ شبہات بنیادی طور پر سیاست دانوں کے رویوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
سیاست دان ہی اپنی اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم سے عوام سے ووٹ مانگتے ہیں اور پھر ان کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد ملک میں حکومت سازی اور اہم پالیسی فیصلے کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ تاہم اگر یہی لیڈر نام تو عوام کا لیں اور دعویٰ کیا جائے کہ ملک میں آئینی حکومت قائم ہوگی اور جمہوریت کا بول بالا ہوگا لیکن ان کا عمل اس سے متصادم ہو تو اس سے آئینی انتظام کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ اور پاکستان کے حوالے سے خدشات سر اٹھانے لگتے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں بھی دیکھا جائے تو عمران خان بظاہر فوج کے خلاف ’حقیقی آزادی‘ کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں اور کسی نہ کسی طریقے سے اس کے خلاف زہر افشانی کو اپنی سیاسی کامیابی کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ گویا عمران خان اینٹی اسٹبلشمنٹ ووٹ پر تکیہ کرتے ہوئے ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس کے نتیجے میں عوام تمام تر مشکل حالات کے باوجود دھڑا دھڑ انہیں ووٹ دیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ سیاسی قوتوں کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن یہ بات چیت فوج کے ساتھ ہوگی کیوں کہ کل اختیار اس کے ہاتھ میں ہے۔ اس طرح عمران خان اینٹی اسٹبلشمنٹ نعرہ لگانے کے باوجود درحقیقت اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز یا مفاہمت سے ہی اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یوں وہ اس طریقہ کو غیر آئینی اور عوامی مفاد کے خلاف قرار دینے اور اسے تبدیل کروانے کی کوشش کرنے کی بجائے، اسے جاری رکھنے اور اسے اپنے مقصد یا سیاسی کامیابی کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ طریقہ آئینی تقاضوں سے متصادم ہے۔
اسی طرح مسلم لیگ (ن) جو ڈیڑھ دو سال پہلے اینٹی اسٹبلشمنٹ پارٹی کی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کررہی تھی اور نواز شریف نے جرنیلوں کا نام لے کر للکارنے کی روایت بھی قائم کی تھی، اب اقتدار ملنے کے بعد مستقبل کے حکومتی انتظام میں بہتر حصہ حال کرنے کے لئے فوج یا اسٹبلشمنٹ کی خدمت گزار بنی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ موجودہ حکومتی انتظام میں شامل پیپلز پارٹی جو ملک کو آئین دینے اور پھر اس میں عوامی مفاد کی ترامیم متعارف کروانے کا کریڈٹ لیتی ہے، بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنوانے کے لئے اسٹبلشمنٹ کی کوئی بھی شرط ماننے پر راضی دکھائی دیتی ہے۔ اب یہ فوجی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ماضی قریب کی شدید سیاسی ناکامی کے بعد مستقبل قریب میں کس حد تک ملکی سیاسی عمل میں حصہ دار بننے کی کوشش کرتی ہے۔
تاہم اس بحث کا مقصد یہ نکتہ واضح کرنا ہے کہ جب تک حکومتیں فوج کو سیاسی طاقت کا سب سے اہم مرکز مانتی رہیں گی اور عوام کو اقتدار کا حقیقی محور تسلیم نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک ملک میں آئین کی روح کے مطابق ایسی عوامی حکومت قائم نہیں ہوسکے گی جو سیاسی، معاشی اور سفارتی امور پر ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لے کر نئی حکمت عملی بنائے۔ تاکہ ملکی معیشت کی بحالی کے علاوہ دنیا بھر میں ملک و قوم کا وقار بلند کیا جاسکے۔ اس حوالے سے جن غلطیوں کی طرف سے اشارہ مطلوب ہے ، ان میں پاکستان کی بقا کے لئے افغانستان کو اسٹریٹیجک اہمیت دینے کا معاملہ سر فہرست ہوگا۔ اسی حکمت عملی کے نتیجے میں ملک میں مذہبی انتہاپسندی کی ثقافت متعارف ہوئی اور جنگجو گروہوں نے منظم ہونا شروع کیا۔ اس پالیسی کے ملکی معیشت کے علاوہ عالمی شہرت پر بھی شدید اور تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔
اس کا دوسرا اہم پہلو بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہیں۔ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے کر ایسے نعرے ایجاد کئے گئے کہ ’ہم گھاس کھا لیں گے لیکن کشمیر پر سودا نہیں کریں گے‘۔ حالانکہ کوئی بھی پاکستان کو کسی بھی معاملہ پر سودے بازی کا مشور نہیں دیتا بلکہ ہوشمندی سے کام لیتے ہوئے، دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو پیش نظر رکھ کر ہمسایہ ملکوں سے تعلقات استوار کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ علاقائی مواصلت و تجارت کے بغیر کوئی بھی ملک طویل المدت معاشی بہتری کا مقصد حاصل نہیں کرسکتا۔ اگر دو ٹوک الفاظ میں کہنے کی اجازت دی جایے تو عرض ہے کہ : پاکستان کا معاشی مستقبل بھارت کے ساتھ دوستی، خیر سگالی اور تجارتی روابط مستحکم کرنے سے منسلک ہے۔ اس کے برعکس کوئی پالیسی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوسکتی۔
البتہ پاکستان کی سفارتی و سیاسی پالیسی مسلسل ’دشمن کے دانت کھٹے کردیں گے اور نئی دہلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرا دیں گے‘ جیسے نعروں کا پرتو ہے۔ اس کی ایک جھلک آج اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کی باتوں میں دکھائی دی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونا، اس کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ جموں و کشمیرمیں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجودبھارت نے اپنا تسلط جمایا ہواہے‘۔ مستقل مندوب کا یہ بیان درحقیقت اسی دیرینہ پالیسی کا آئینہ دار ہے کہ کشمیر پر قبضہ کئے بغیر بھارت کے ساتھ تعلقات بحال نہیں ہوسکتے۔ یہ بیان ان مشکلات کا احاطہ نہیں کرتا ہے جو پاکستان کو موجودہ معاشی و سیاسی صورت حال میں درپیش ہیں۔
پاکستان نعروں کی بنیاد پر غیر حقیقی خارجہ پالیسی اپنانے پر مجبور ہے کیوں کہ اس کی سیاسی پارٹیاں عوام کی بجائے بہر صورت فوجی قیادت کو خوش و مطمئن دیکھنا چاہتی ہیں۔ اسی لئے جب تک ملک میں آئین کی روح کے مطابق ایسی حکومت قائم نہیں ہوگی جو عوام کی ضرورتوں اور مفاد کی روشنی میں فیصلے کرنے کی مجاز ہو، ملکی معیشت کی بحالی محض ایک نعرہ بنی رہے گی اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوتا رہے گا۔