فرانس میں احتجاج پانچویں روز بھی جاری رہا، دو ہزار افراد گرفتار
فرانس میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں جاری پرتشدد احتجاجوں کے پیش نظر حکومت کی طرف سے اہم شہروں میں مزید نفری تعینات کی ہے۔
فرانسیسی وزارت داخلہ نے کہا کہ 17 سالہ نوجوان ناہیل ایم کی آخری رسومات ادا ہونے کے بعد ملک بھر میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکار تعینات کرنے کے بعد اب مظاہروں کی شدت میں کمی دیکھی گئی ہے۔
حکومت نے 17 سالہ ناہیل ایم کی آخری رسومات کے بعد صورت حال پر قابو پانے کے لئے 45 ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے تھے۔ اس حوالے سے سینکڑوں مزید لوگوں کو بھی گرفتار کیا گی اہے
احتجاج کے دوران مظاہرین نے کاروں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو نذر آتش کرنے کے ساتھ ساتھ دکانوں سے لوٹ مار کی ہے جبکہ ٹاؤن ہالز، پولیس اسٹیشنوں اور اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ ہفتے کی رات 719 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ رات ایک ہزار 311 اور جمعرات کی رات 875 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
وزارت داخلہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ 45 ہزار پولیس افسران اور ہزاروں فائر فائٹرز کو نظم و ضبط کے نفاذ کے لیے متحرک کیا گیا ہے۔ رات کے دوران سب سے بڑا فلیش پوائنٹ مارسیل تھا۔ جہاں پولیس نے آنسو گیس چلائی اور مظاہرین کے ساتھ جھڑپییں ہوئیں۔
فرانسیسی صدر نے بدترین بحران سے نمٹنے کے لیے جرمنی کا سرکاری دورہ ملتوی کر دیا ہے۔
کئی سو لوگوں نانٹیرے کی مسجد میں ناہیل ایم کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ نوجوان پر گولی چلانے والے پولیس اہلکار سے باقاعدہ تفتیش کے لیے حراست میں رکھا گیا ہے۔
فرانس میں احتجاج کا اثر ملک کے سیاحتی شعبے پر بھی پڑ رہا ہے۔ ملک بھر میں ہوٹلز اور ریستورانتس میں لوگ اپنی بکنگ کینسل کر رہے ہیں جب کہ حالیہ بد امنی کے دوران کچھ ہوٹلز کو نقصان بھی پہنچا ہے۔
واضح رہے کہ منگل کو فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مضافات میں پولیس کی فائرنگ سے ایک 17 سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب ایک چیکنگ کے دوران پولیس نے نوجوان کو روکا لیکن اس نے گاڑی دوڑا دی تھی۔