میثاق معیشت کیسے ممکن ہوگا؟
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 02 / جولائی / 2023
پاکستان کی علمی و فکری مجالس میں بنیادی نقطہ معیشت کی بحالی ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ معیشت کی بحالی اور مضبوطی کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں کرسکیں گے۔ اسی خیال کی بنیاد پر ایک نقطہ ’ میثاق معیشت پر مبنی اتفاق رائے ‘ ہے۔
بہت سے سیاسی اور معاشی ماہرین کا خیال کہ تمام فریقین کے ساتھ ساتھ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان دس سے پندہ برس کے درمیان ایک ایسا روڈ میپ اختیار ہونا چاہیے جہاں معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو جاری رکھا جاسکے۔ حکومت ہو یا حزب اختلاف وہ اپنے مخصوص سیاسی مفادات کے لیے معیشت کو بطور ہتھیار استعمال نہ کرے اور نہ ہی جذبات کی بنیاد پر ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے مضبوط معیشت کی منزل کو دور کیا جائے ۔ ایک فکری مغالطہ یہ پھیلایا جاتا ہے کہ ہمیں اپنی تمام ترجیحات کو پس پشت ڈال کر محض معیشت کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا چاہیے اور اس پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے ۔
Advertisement
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں حکمران خود کو معاشی معاملات کا بادشاہ سمجھتے ہیں اور منطق یہ دی جاتی ہے کہ ہمارے پاس فہم بھی ہے اور تدبر بھی اور اسی بنیاد پر معیشت کی مضبوطی کا روڈ میپ بھی ہمارے پاس ہی ہے ۔ خوشنما یا جذباتی نعروں کی بنیاد پر معیشت کی بحالی ہمارا خصوصی بیانیہ ہے ۔ ملک میں موجود جو بڑے بڑے معاشی ماہرین ہیں یا جن کی شہرت کسی بھی لحاظ سے بری نہیں، ان کو قومی معیشت کی بحالی کے ایجنڈے یا ان کے پاس موجود تجاویز یا حل کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
ہم سب سمجھتے ہیں کہ معیشت کی بحالی محض جذباتیت یا شارٹ ٹرم بنیادوں یا ردعمل کی بنیاد پر حل کیا جاسکتا۔ سیاسی تنہائی میں معاشی بحران کے حل کی تلاش ہماری معاشی بحالی کے عمل کو اور پیچھے کی طرف دکھیل دیتی ہے ۔ ہم دنیا میں ہونے والے معاشی تجربات یا معاشی پالیسیوں یا اقدامات سے بھی کچھ سیکھنے کے لیے یا خود سے داخلی محاذ پر معاشی امکانات کو پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں اور ہی ہماری مجموعی ناکامی کا المیہ ہے ۔
معیشت کی بحالی کسی بھی طور پر کسی جادوئی یا کرشماتی عمل سے ممکن نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی مسیحا کی تلاش کی بنیاد پر ہمیں مطلوبہ نتائج دے سکے گا۔ ہمیں ایک مربوط نظام درکار ہے کیونکہ مربوط نظام کی بنیاد پر ہی ہم اپنے مجموعی مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں ۔ معیشت کی بحالی کا ایجنڈا ہم محض غیر ملکی امداد یا برادر اسلامی ملک کی مدد سے تلاش کررہے ہیں، وہ کارگر یا پائیدار پالیسی نہیں ۔ ایک بات ہمارے معاشی اور سیاسی پنڈتوں کو سوچ لینی چاہیے کہ معیشت کی عملاً بحالی ایک مضبوط سیاسی نظام اور سیاسی استحکام سے جڑی ہوا ہے ۔
جو لوگ پاکستان میں میثاق معیشت پر زور دیتے ہیں، ان کی نیت یا دیانت داری پر کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ سیاسی استحکام کو پیدا کیے بغیر کیسے معیشت کو بحال کرسکتے ہیں ۔ ہم معیشت کی بحالی کے لیے سخت گیر پالیسی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس پہلو کو نظرانداز کرکے ہم معیشت کو بحال کرلیں گے۔ یہ ممکن نہیں ہے ۔ ہمارے اداروں کی جو حالت زار ہے جس میں کوئی بڑی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں یا غیر معمولی پالیسی کو اختیار کیے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکے گا۔
معیشت کی بحالی اعتماد سازی سے جڑی ہوتی ہے لیکن یہاں جو بداعتمادی کا ماحول ہے یا جو سیاسی اور معاشی تقسیم ہے اس کی روشنی میں کیسے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے گا، خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ مالی کرپشن ، بدعنوانی اور لوٹ ماراگر ہماری ترجیحات کاحصہ ہے تو اچھی معاشی پالیسیاں بھی نتیجہ خیز نہیں ہوسکیں گی۔ جب اس ملک کا طاقت ور طبقہ چاہے وہ کسی بھی شعبہ یا محکمہ سے ہو، اس کی بنیاد قومی معیشت کے مقابلے میں اپنی ذاتی یا خاندانی معیشت سے جڑی ہوگی تو پھر قومی معیشت کی بحالی کا سوال بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔ بہت سے سیاسی اور سکہ بند معاشی دانشور تو یہ منطق بھی دیتے ہیں کہ کرپشن اور بدعنوانی کو بنیاد بنا کر اسے ترجیحی مسئلہ بنایاجائے گا تو معیشت کی بحالی ممکن نہیں۔ ان کے بقول کرپشن اور بدعنوانی آج کی عالمی معیشت سے جڑے معاملا ت ہیں۔
لیکن اس کے برعکس آج عالمی مالیاتی ادارے ہم پر بنیادی نوعیت کا سوال اٹھارہے ہیں کہ آپ کا قومی سطح پر کرپشن یا بدعنوانی کو روکنے کا کیا نظام ہے اور کیسے اس مرض سے نمٹا جاسکے گا۔ اب تو دنیا میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ جو عالمی امداد آتی ہے اس کا آڈٹ کروایا جائے کہ یہ رقم کہاں خرچ کی گئی ہے ۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا انتظامی ، معاشی اور سیاسی و قانونی ڈھانچہ کمزور ی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسے درست کیے بغیر ہم معاشی امور میں کوئی بڑا غیر معمولی کام نہیں کرسکیں گے ۔
معاشی امور کی بہتر ی کہ لیے ہمارے پاس ماہرین بھی وہ سامنے آتے ہیں یا ہمیں تحفہ کے طور پر عالمی مالیاتی اداروں یا طاقت ور طبقات کی جانب سے دیے جاتے ہیں جو ہماری ریاستی معیشت کی بہتری کی بجائے کسی اور کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کے سامنے بڑا چیلنج معیشت سے جڑے داخلی معاملات نہیں بلکہ روزمرہ سے جڑے معاشی انتظامی معاملات ہوتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سخت گیر اقدامات ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں بن پاتی۔
اسی طرح اعداد وشمار کے دھندے میں قومی معیشت کو الجھائے بغیر ہمارے پاس عام یا کمزور طبقات کی معاشی بحالی یا اسے معاشی بنیادوں پر مضبو ط بنانے کا کوئی روڈ میپ ہی نہیں ہے ۔ ماسوائے چیرٹی یا خیرات کو بنیاد بنا کر ہم قوم میں موجود کمزور لوگوں کو معاشی بنیادوں پر کھڑا کرنے کی بجائے ان کو بھیک کے کھیل میں شامل کررہے ہیں ۔ اربوں روپوں پر مشتمل یہ خیراتی پروگرام اگر اس کے مقابلے میں چھوٹی چھوٹی صنعتوں پر مشتمل ہو جو چاہے گھر کی سطح پر ہی نہ ہو بلکہ لوگوں میں عزت کے ساتھ روزگار کمانے کے مواقع بھی فراہم کرسکے۔
یہاں طاقت ور طبقات کی معیشت ہے اور جہاں کمزور طبقات کے لیے محض استحصالی نظام ہو اور جہاں اربوں روپے محض حکمرانوں سمیت دیگر طاقت ور طبقات کی مراعات یا پروٹوکول پر خرچ ہو اور جہاں غیر ترقیاتی اخراجات ترقیاتی اخراجات سے بڑھ جائیں اورجہاں حکمران یا طاقت ور طبقات خود کاروبار سے منسلک ہوجائیں تو ایسے میں حقیقی معنوں میں معیشت کی بحالی ، میثاق جمہوریت جیسے معاہدے یا حکومتی سطح پر بننے والے مختلف کمیشن ، کمیٹیاں یا جائزہ کمیشن کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔ اس لیے ہمیں معیشت کی بحالی کا علاج مجموعی طرز حکمرانی کی شفافیت، جدیدیت سمیت سیاسی ، معاشی ، انتظامی وقانونی فریم ورک میں تلاش کرنا ہوگا۔