او آئی سی اجلاس: قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف اجتماعی اقدامات پر زور
اسلامی تعاون تنظیم نے سویڈن میں قرآن پاک نذر آتش کرنے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔ مذہبی بنیادوں پر نفرت روکنے کے لیے بین الاقوامی قانون کا استعمال کیا جانا چاہیے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں ’رائٹرز‘ اور ’اے ایف پی‘ کے مطابق او آئی سی کی طرف سے یہ بیان بدھ کے روز سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے سعودی عرب میں بلائے گئے ایک غیر معمولی اجلاس کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین برہیم طحٰہ نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی قانون کے فوری اطلاق کے حوالے سے عالمی برادری کو مسلسل یاد دہانی کرانی چاہیے، جو واضح طور پر مذہبی منافرت کی کسی بھی حمایت سے روکتا ہے۔ خیال رہے کہ کئی سال قبل عراق سے سویڈن جانے والے ایک شخص نے عیدالاضحیٰ کے روز اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر قرآن پاک کے اوراق پھاڑ کر نذرآتش کر دیے تھے۔ پولیس نے اس کے خلاف نسلی یا قومی گروہ کے خلاف مظاہرے کرنے اور اسٹاک ہوم میں جون کے وسط سے لگی آگ پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔
سویڈن میں پیش آنے والے اس واقعے پر پاکستان، ترکیہ، اردن، فلسطین، سعودی عرب، مراکش، عراق اور ایران سمیت متعدد ممالک کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔
او آئی سی نے واقعے کے ایک دن بعد اس معاملے پر بات چیت کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا تھا۔ ستاون ممالک کی بین الحکومتی تنظیم ’او آئی سی‘ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ اجلاس سعودی عرب نے اسلامی سربراہی کانفرنس کی صدارت کی حیثیت سے طلب کیا تھا اور یہ او آئی سی کے ہیڈکوارٹرز جدہ میں میں ہوگا۔
اس سے قبل ایک بیان میں او آئی سی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کا عمل رواداری، اعتدال پسندی اور انتہا پسندی کو ترک کرنے کے اقدار کو عام کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کے منافی ہے۔
علاوہ ازیں سویڈن کی حکومت نے قرآن پاک کے اوراق نذرآتش کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو ’اسلاموفوبک‘ قرار دیا ہے۔ سویڈن کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’حکومت پوری طرح سمجھتی ہے کہ سویڈن میں مظاہروں کے دوران افراد کی طرف سے کیے جانے والے اسلاموفوبک اعمال مسلمانوں کے لیے ناگوار ہو سکتے ہیں۔ ہم ان کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، جو کسی بھی طرح سے سویڈش حکومت کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ قرآن پاک یا کسی اور مقدس متن کو نذرآتش کرنا ایک جارحانہ اور توہین آمیز فعل اور صریح اشتعال انگیزی ہے۔ سویڈن کی وزارت خارجہ نے کہا کہ نسل پرستی، زینو فوبیا اور عدم برداشت کے اظہار کی سویڈن یا یورپ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔