ملک میں ہائبرڈ نظام نہیں چل سکتا، آرمی چیف کے پاس ویٹو پاور ہے: عمران خان

  • سوموار 03 / جولائی / 2023

سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سول اور عسکری قیادت کے میل جول سے چلنے والا ہائبرڈ نظام ملک کو تاریکی کی طرف دھکیل رہا ہے کیونکہ ایک شخص یعنی آرمی چیف کے پاس ’ویٹو پاور‘ ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے امریکی چینل ایم ایس این بی سی کے اینکر مہدی حسن کو انٹرویو میں بتایا کہ ان کے دور حکومتِ میں صحافیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن میں اسٹیبلشمنٹ ملوث تھی۔ اینکر مہدی حسن نے ان سے پوچھا کہ جب آپ حکومت میں تھے تب آپ فوج کے ساتھ ٹھیک تھے، آپ نے بھی اپوزیشن رہنماؤں اور صحافیوں کو گرفتار کیا، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ یہی آپ کے ساتھ ہو رہا ہے۔

عمران خان نے جواب دیا کہ ’آپ میرے دور سے اس کا موازنہ نہیں کر سکتے۔ جنرل مشرف کا مارشل لا اس سے زیادہ لبرل تھا۔ آپ بتائیں میں نے کون سا چینل بند کیا۔ اس دور میں چار صحافی ملک چھوڑ گئے۔ پانچویں نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ اس کی جان خطرے میں ہے، اس کا کینیا میں قتل ہوگیا۔

مہدی حسن نے کہا کہ ’آپ کے دور میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے، رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے آپ کو 2020 میں ’آزاد پریس کا شکاری‘ کہا تھا، آپ پر صحافیوں کو دھمکیاں دینے اور گرفتار کرنے کا الزام لگا۔ حامد میر کو آپ اپنا پسندیدہ صحافی کہتے تھے، مگر آپ کے دور میں انھیں آن ایئر نہیں ہونے دیا گیا۔ آپ کوئی فری پریس کے چیمپیئن نہیں۔ کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ہوا اس لیے یہ بُرا ہے؟

عمران حان نے جواب دیا کہ ’مجھے مطیع اللہ جان کے اغوا کا پتا چلا تو اگلے دن میں اسے واپس لایا۔ مسئلہ یہ تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کا اختتام ہو رہا تھا، اسٹیبلشمنٹ اپنے اوپر تنقید سے پریشان تھی۔ کچھ لوگ کو اٹھانے کے ذمہ دار وہ (اسٹیبلشمنٹ) تھے۔ لیکن یہ اس حد تک نہیں ہوا جو اب ہو رہا ہے۔

اینکر مہدی حسن نے جب ان سے پوچھا کہ آیا انہیں اپنے دور حکومت میں کوئی پچھتاوا رہا تو ان کا کہنا تھا کہ مخلوط اور کمزور حکومت کے ساتھ اقتدار ملنے پر مجھے دوبارہ الیکشن کے لیے جانا چاہیے تھا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا  کہ ’یہ ہائبرڈ نظام نہیں چل سکتا۔ اگر آپ منتخب وزیر اعظم ہیں تو آپ کے پاس اپنی اصلاحات لانے کے اختیارات ہونے چاہییں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کے پاس ذمہ داری ہو کیونکہ آپ منتخب ہیں مگر اختیار بٹا ہوا ہے کیونکہ آرمی چیف کے پاس ویٹو پاور ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اس طرح کے نظام کا مقدر ناکامی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ جب تک قانون کی عملداری سے انتظامی نظام ٹھیک نہیں ہوتا، ملک مزید تاریکی کی طرف جائے گا۔