اللہ کو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون

ابھی ہم نے عیدالاضحی مبارک منائی۔ اس روز مسلمان سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہیں، دنیا بھرکے مسلمان بارگاہ خداوندی میں ہدیہ قربانی پیش کرتے ہیں۔ لیکن بالعموم فلسفہ قربانی کو فراموش کردیتے ہیں۔

اقبالؒ نے کہا تھا ”رہ گئی رسم اذاں روح بلالیؓ نہ رہی“ سو ہمارے ہاں رسم قربانی تو بلاشبہ حاضر و موجود ہے بلکہ بڑھ چڑھ کر ہر سال منائی جاتی ہے لیکن مقصد قربانی یا اس کی روح بالعموم ناپیدو مفقود ہے۔ حالانکہ پروردگار عالم نے واضح لفظوں میں فرمادیا ہے کہ :

لن ینال اللّٰہ لحو مھاولادمآوھا ولٰکن ینالہ التقویٰ منکم ” اللہ کو نہ اس کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی اس کا خون، مگر اسے تو تمہارے اندر کا تقویٰ ہی پہنچتا ہے۔“ (الحج 37)

ان مقررہ تین دنوں کے اندر خدا کے حضور قربانی کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو تھوڑی دیر کیلئے اپنے من میں جھانک کر یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے خدا اور اس کی پیاری مخلوق کیلئے کس قدر خلوص، درداور احساس رکھتے ہیں۔ ہم اپنی مرغوب اور من پسند چیزوں کو دوسروں کی خوشی کی خاطر کس حد تک ترک کرسکتے ہیں، دوسروں کے آرام کی خاطر ہم کس حد تک بے آرامی قبول کرسکتے ہیں، دوسروں کے دکھ درد اور غم دور کرنے کیلئے ہم کس حد تک اپنی خوشیوں کی قربانی دے سکتے ہیں۔ کیا کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم محلے داروں، رشتے داروں، برادری والوں یا دوستوں کی نظروں میں اپنا سٹیٹس اجاگر کرنے کیلئے بے زبان جانوروں کو قربانی کے بکرے بنا کر اپنے معدے بھرتے ہیں یا پھر بچوں کے دباؤ سے مجبور ہو کر یہ مہنگا کڑوا گھونٹ پیتے ہیں۔

اگر ایسا ہے تو ہمیں اپنے اس دکھاوے والے طرز عمل کو بدلتے ہوئے غریب، ضرورت مند اور دکھی لوگوں کے دکھ بانٹنے کا کوئی اور طریقہ سوچ لینا چاہیے۔ ابراہیمی سنت کا وقار و احترام مجروح کرنے سے اجتناب برتنا چاہیے لیکن اگر انسانی ہمدردی کا جذبہ صادق ہے تو جانوروں کی قربانی کے دیگر ثمرات سے کسی مومن کو کوئی انکار نہیں۔ بشرطیکہ اپنے غریب ہمسایوں کے بچوں کا دل دکھانے سے بھی باز رہیں جن کا غریب باپ اپنے بچوں کی دلجوئی کے لیے اتنا مہنگا بکڑا خریدلانے سے قاصر ہوتا ہے اور وہ اپنے گھر میں بیٹھے احساسِ محرومی محسوس کرتا ہے یہ کیسی اسلامی سوسائٹی ہے جو معصوم بچوں کو معمولی رسم کی وجہ سے ہرٹ کرتے ہوئے ذرا پریشان نہیں ہوتی۔

قربانی کا ایک مثبت پہلو ہے کہ کم از کم سال میں ایک دفعہ اس بہانے، ان لوگوں کو بھی گوشت سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل جاتا ہے جو اپنی معاشی مجبوریوں سے بالعموم گوشت پکانے اور کھانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنے رب تک ان چیزوں کی روح پہنچانی ہے تو اس کا طریقہ وہی ہے جو ایک معروف اور مستند روایت میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کہ قیامت کے دن خدا پوچھے گا کہ اے میرے بندے میں بھوکا پیاسا تھا تو نے مجھے کھانے پینے کو کچھ نہ دیا۔ میں ننگا تھا تو نے مجھے کپڑے نہ دیے، میں بیمار تھا تو نے میری تیماداری نہ کی۔ بندہ عرض کرے گا کہ خداوند تو تو ایسی ضرورتوں اور الائشوں سے قطعی پاک ہے۔ ارشاد ربانی ہوگا کیا تجھے معلوم نہیں کہ تیرے آس پاس میرا فلاں بندہ بھوکا پیاسا تھا تو نے اس کو کچھ نہ کھلایا پلایا۔ میرا فلاں بندہ غربت کے ہاتھوں کپڑے خریدنے کے قابل نہیں تھا تو نے اُس کا کچھ خیال نہ کیا۔ میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو نے اس کی تیماداری کے لیے کچھ نہ کیا۔ اگر تو اس کی ضروریات پوری کرتا تو میرا ہی کام کرتا۔ بس یہ ہے قربانی کی روح۔

اب آتے ہیں اس عظیم الشان واقعہ قربانی کے تاریخی پس منظر کی طرف جو ہماری عیدالاضحی کی بنیاد ہے۔ اسلام میں حج اور قربانی کا باہمی گہرا تعلق ہے لیکن اس وقت ہمارے پیش نظر صرف قربانی ہے۔ قرآن میں ارشاد خداوندی ہے: ”ابراہیم ؑنے کہا میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، وہی میری رہنمائی کرے گا۔ اے پروردگار مجھے ایک بیٹا عطا فرما جو صالحین میں سے ہو۔ ہم نے اس کو ایک حلیم بیٹے کی بشارت دی، وہ لڑکا جب اس کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیم ؑ نے اس سے کہا بیٹا میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں، اب تو بتا تیرا کیا خیال ہے۔ اس نے کہا بابا جان جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے، اسے کرڈالیے، انشاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔ آخر کار جب ان دونوں نے سرتسلیم خم کر دیا تو ابراہیم ؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا تو ہم نے ندا دی ”اے ابراہیم ؑ تو نے اپنا خواب سچ ثابت کر دیا، ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی، ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا اور اس کی توصیف ہمیشہ کیلئے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی۔ سلام ہے ابراہیم پر“ (الصافات 102 تا 9 ،10) ۔

فلسفۂ قربانی سے کسی مومن کو کوئی انکار نہیں بلکہ یہ قابلِ ستائش ہے کہ سوسائٹی کےغریب طبقے کی خدمت ہوجاتی ہے۔ بشطریکہ اس میں دکھاوا نہ ہو۔ جانور کو ذبح کرنے، خون بہانے یا بکرے کو کاٹنے کا عمل عام معصوم انسانوں بالخصوص معصوم بچوں کے سامنے نہ کیا گیا ہو۔ یہ درویش خود اپنی مثال پیش کرنا چاہتا ہے کہ کئی برس قبل عید سے کافی دن پہلے ایک خوبصورت بکرا خرید کر گھرلایا جس سے اس کا بیٹا دانیال ریحان بہت مانوس ہوگیا۔ وہ بڑے شوق سے اس کے سامنے چارہ ڈالتا پانی پلاتا اور اس کو اپنا فرینڈ کہتے ہوئے اس کے ساتھ کھیلتا۔ لیکن عید کے روز جب اس بچے کے اس “دوست” کی گردن کاٹ کر اس کے ٹکڑے کیے گئے تو میرا بیٹا دانیال اس قدر رویا، اتنا رویا کہ پوری فیملی کی عید خراب ہوگئی۔ وہ دن اور آج کا دن اس بچے نے کبھی مٹن نہیں کھایا کہ تم لوگوں نے میرے فرینڈ کو کاٹا تھا، مار ڈالا تھا۔ اس لیے قابلِ غور و فکر و تدبر یہ امر ہے کہ ہم کسی نادیدہ و ماورائی ہستی کا نام لے کر جو پیغام نئی نسلوں تک پہنچانا چاہتے ہیں، کیا عصرِ حاضر میں دنیا کے سامنے اس کی مناسب تفہیم ہورہی ہے۔

آج کےبچے کوئی حضرت اسمعیل یا اسحاق جیسے معصوم تو ہیں نہیں جو کسی خواب میں دیکھے گئے عمل کو غیبی خدائی اشارہ مان لیں۔ اگر کوئی بزرگ یہ کہے گا کہ بیٹا میں نے اس نوع کا خواب دیکھا ہے کہ میں چھری لے کر تمہارا گلا کاٹ رہا ہوں یا تمہیں ذبح کررہا ہوں تو کوئی مومن رہنمائی فرماسکتا ہے کہ آگے سے آج کا ذہین بچہ کیا جواب دے گا؟ اور پھر کوئی بھی باپ بھلا ایسی بات کا تصور ہی کیسے کرسکتا ہے؟ اپنے علما کی خدمت میں یہ بھی سوال ہے کہ سترماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا رحمن و رحیم خدا کیا اپنے کسی بھی پیارے بندے کو اس نوع کا حکم دے سکتا ہے کہ تو اپنے ہاتھوں میں چھڑا پکڑ اور اپنے پیارے بیٹے کا گلا کاٹ دے؟ کیا اس کی تشریح یا اس کو سمجھنے میں کہیں ہم سے کوئی غلطی تو نہیں ہوگئی ہے۔ سیدنا ابراہیم تو اتنی پیاری ہستی تھے کہ مہمان کے بغیر کھانا تک نہیں کھاسکتے تھے اتنے مہربان تھے کہ کسی کا دل نہیں دکھا سکتے تھے تو پھر وہ اتنی مرادوں سے مانگے ہوئے اپنے بڑھاپے کے سہارے لاڈلے بیٹے کے گلے پر چھری پھیرنے کی کوشش بھی کیسے کرسکتے تھے۔ وہ ایسی سوچ کو بھی کیسے قبول کرسکتے تھے؟

ہمارے علما کرام کو جذباتیت سے ہٹ کر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اس بیان کردہ قصے کے ان پہلوؤں پر بھی غور و فکر کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں درویش کے پیرو مرشد سرسید نے اپنی تفیسر القرآن میں کیا رہنمائی فرمائی ہے کچھ اس سے بھی معاونت لے لینی چاہیے۔ سیدنا ابراہیم کی دنیاوی حیثیت ان کی امارت، بھیڑ بکریوں اور گائے اونٹوں کے بڑے بڑے ریوڑوں کے پھیلاؤ کو بھی سامنے رکھ کر صورتحال کا نفسیاتی ادراک کرلینا چاہیے۔ ہمارا قومی شاعر تو کہہ گیا کہ ”آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایماں پیدا آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا“ کیا واقعی آج اگر ویسا ایمان کسی مومن کے سینے میں پیدا ہوجائے تو وہ نذرِ آتش ہوسکتا ہے اور بغیر جلے زندہ بچ کر واپس آسکتا ہے؟ جبکہ ہم دیکھتے ہیں بڑی بڑی جلیل القدر ہستیاں تو بچ نہیں سکیں خود قرآن کہہ رہا ہے وقتل الانبیاء بغیر حق۔

حضرت امام عالی مقام کی ہستی بھی سردارِ شباب جنت ہے لیکن آزمائش کی گھڑی اس کا کیا حشرکرڈالا گیا۔ لاش مبارک کو بھی گھوڑوں کے سموں تلے روند ڈالا گیا۔ آخر اقبال مسلمانوں کو کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟ کیا کامل ایمان والا اپنے بیٹے کو اس طرح کی ترغیب دیتے ہوئے ایسے ذبح ہوجانے والی بات کہہ سکتا ہے؟ ہمارے علما اپنے بیانات میں معصوم قوم پر رحم فرمائیں اور اس مسئلے میں بھی سرسید کی تفسیر القرآن ملاحظہ فرمائیں۔