مہنگائی، ہائبرڈ نظام اور آرمی چیف کا ویٹو

نواز شریف ملک میں مہنگائی اور افراط زرختم کرنے کا وعدہ کررہے ہیں۔  جبکہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ  ملک میں ایسا کوئی ہائبرڈ نظام حکومت نہیں چل سکتا جس میں ویٹو کا اختیار آرمی چیف کے پاس ہو۔  حیرت انگیز طور پر یہ  بیانات ملک کے  ایسے دو  لیڈروں کی طرف سے سامنے آئے ہیں  جو براہ راست موجودہ معاشی مشکل اور سیاسی  بے یقینی کا سبب بنے ہیں۔ 

عمران خان اور نواز شریف کے  بیانات کی ’خوبی‘ پر تو کئی شک نہیں ہونا چاہئے لیکن  اس وقت پاکستان میں شہباز شریف کی حکومت ہے اور عملی اختیار نواز شریف کے ہاتھ میں ہے۔  تاہم اس کے باوجود  گزشتہ 12 ماہ کے دوران   ملک  میں افراط زر کی شرح میں11 فیصد اضافہ ہؤا ہے۔ سال بھر پہلے جب اسحاق ڈار مہنگائی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان وارد ہوئے تھے اور براہ راست وزیر خزانہ بنائے گئے  تو افراط زر 27  فیصد پر تھا جو اس سال مئی میں 38 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اب نواز شریف انتخابات میں  اقتدار ملنے کی  امید پر مہنگائی سے نمٹنے کا ’منصوبہ‘ بنا رہے ہیں۔ دوبئی میں پارٹی لیڈروں سے ملاقاتوں میں انہوں نے یقین دلایا ہے کہ اگر  وہ انتخابات میں کامیاب ہوگئے تو مہنگائی  ختم کرنا ان کا پہلا  ہدف ہوگا۔  تاہم اس کے ساتھ ہی اگر وہ یہ بھی  بتا دیتے کہ شہباز شریف کی حکومت کیوں مسلسل مہنگائی میں اضافہ  کا  سبب  بنی ہے تو شاید لوگوں کے لئے  نواز شریف کی بات  سمجھنا آسان ہوتا۔

پاکستان میں مہنگائی کو آئی ایم ایف کی شرائط سے  نتھی کیا جاتا ہے۔ عام طور سے سمجھا جاتا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ   قرض دیتے ہوئے ایسی شرائط عائد کرتا ہے  جس کی وجہ سے لوگوں پر قیمتوں کا دباؤ بڑھتا  ہے، اشیائے صرف مہنگی ہوجاتی ہیں اور  ملکی معیشت  کی بہتری کے نام پر عام شہریوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے۔ کسی دوسرے کی باتیں سننے کی بجائے وزیر خزانہ اسحاق ڈار   کے بیانات دیکھ لئے جائیں  جو خود انہی دلائل کا سہارا لے کر اپنی مالی پالیسی کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ عوام کی  بہبود  کے لئے  آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننے پر تیار نہیں ہوسکتے۔ یادش بخیر جب وہ مفتاح اسماعیل کی جگہ وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالنے کے لئے پاکستان آئے تھے اور  پاکستان میں آئی ایم ایف کی شرط کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا تھا تو انہوں نے بالواسطہ طور سے مفتاح اسماعیل کی ’نالائقی‘ کو  اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں  آئی ایم ایف  جیسے اداروں سے نمٹنے کا فن بخوبی آتا ہے۔

پھر اسحاق ڈار نے اس ’فن‘ کا کچھ یوں مظاہرہ کیا کہ  آئی ایم ایف پروگرام کا نواں جائزہ  مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا  رہا  تاآنکہ  30 جون کو  2019 میں طے پانے والے مالی پروگرام  کی مدت ختم ہوگئی لیکن  پاکستان کو ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ وہ  قسط موصول نہیں ہوسکی جس کی بنیاد پر معیشت کو بحالی کی رتھ پر سوار ہونا تھا۔ البتہ پیرس مذاکرات اور متعدد درپردہ سفارتی کوششوں سے  شہباز شریف آئی ایم ایف کے ساتھ   9 ماہ کا  ایک اسٹینڈ بائی معاہدہ کرنے میں ضرور کامیاب ہوئے ہیں جس کے تحت  عالمی فنڈ پاکستان کو اس مدت میں 3 ارب ڈالر دینے پر راضی ہؤا ہے۔   آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز کی منظوری کے بعد اس  اسٹینڈ بائی معاہدے کے تحت ادائیگی شروع ہوگی۔ تاہم  حصص  اور زرمبادلہ کی منڈیوں میں اس کے مثبت اثرات دیکھنے میں آرہے ہیں ۔  گویا پاکستانی معیشت کے بارے میں پائی جانے والی بے یقینی میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی لئے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ  گزشتہ ہفتے  لاہور میں منعقد ہونے ولی  پریس کانفرنس   میں خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے ۔ اگرچہ اس نئے قرض کو شہباز شریف کے کسی بڑی کامیابی کی  بجائے   ‘لمحہ فکریہ‘ قرار دیا اور قوم سے اپیل کی کہ ’دعا کریں کہ دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے‘۔

یہ پس منظر بیان کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ  بیشتر پاکستانی حکومتیں اپنی ناہلی اور ناکامی کا  الزام آئی ایم ایف پر ڈال کر خود سیاسی طور سے سرخرو ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔  اس رویہ پر عالمی مالیاتی فنڈ کے حکام نہ جانے کس رد عمل کا  اظہار کرتے ہیں لیکن پاکستانی عوام کے ساتھ یہ سراسر دھوکہ دہی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک طرف آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لئے حکومتیں ہر شرط ماننے پر مجبور ہوتی ہیں لیکن دوسری طرف  عوام کو  یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ    ٹیکسوں میں اضافہ آئی ایم ایف کے اصرار پر کیا گیا ہے۔ یعنی  عوام کو جب کسی پریشانی کا سامنا ہو یا وہ کوئی شکایت کریں تو  اس کا نشانہ  حکومت کی بجائے آئی  ایم ایف  ہو۔ یہ حکمت عملی خود کو دھوکہ دینے   کے سوا  کچھ نہیں ہے۔

پاکستان پر حکومت کرنے والے  سیاسی لیڈروں  کویہ جواب تو بہر حال  دینا ہی  ہوگا کہ انہوں نے ملکی معیشت کو کیوں  تباہی کے اس گڑھے تک پہنچایا ہے کہ ملک آئی ایم ایف کے مالی پروگرام کے بغیر دیوالیہ  ہوسکتا ہے۔ شہباز شریف اور اسحاق ڈار نے لاہور کی پریس کانفرنس میں اس کی پوری ذمہ دار تحریک انصاف کی سابقہ حکومت اور عمران خان کی عاقبت نااندیشی پر عائد کی ہے لیکن وہ گزشتہ   دس گیار ہ ماہ کے دوران اسحاق ڈار کی ان پالیسیوں پر بات نہیں کرتے جن کی وجہ سے آئی ایم ایف کی ٹیم  نواں جائزہ مکمل کرنے  پر راضی نہیں ہوئی تھی اور ملکی معیشت  کو  غیر ضروری دباؤ کا سامنا کرنا پڑا  ۔ حتی کہ اسحاق ڈار کسی نام نہاد پلان بی  کی بات کرنے لگے کہ اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہؤا ’تو کچھ نہ کچھ کرہی لیا جائے گا‘۔ بدقسمتی سے ملکوں کی معیشت ایسے ہوائی دعوؤں سے نہیں چلائی جاسکتی۔

اب نواز شریف کا دعویٰ ہے کہ  ان کے بھائی کی حکومت جو کام گزشتہ  ڈیڑھ سال میں نہیں کرسکی،  وہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں اسے پورا کر دکھائیں گے۔ اس دعوے کی حقیقت اسی وقت سامنے آسکتی ہے اگر نواز شریف مہنگائی پر قابو پانے کے کسی  ٹھوس مالی منصوبے   کا  اعلان  کریں۔  ورنہ عام تفہیم کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والا موجودہ اسٹینڈ بائی معاہدہ  آخری نہیں،  عبوری ہوگا۔ کوئی بھی نئی منتخب حکومت ملکی معاشی گاڑی کھینچنے کے لئے آئی ایم ایف سے ایک نیا طویل المدت مالی  معاہدہ کرنے پر مجبور ہوگی۔ اور جب تک کوئی حکومت ملکی اشرافیہ کو ٹیکس   ادا کرنے پر مجبور نہ کرسکے اور مراعات یافتہ طبقہ کو ملنے والی سہولتیں کم یا ختم نہ کی جائیں ، اس وقت تک کسی بھی قرضے کا بوجھ بہر حال ملک کے عام شہریوں کو منتقل ہوتا رہے گا۔ ایسی صورت میں کسی کے پاس جادو کی کوئی ایسی چھڑی نہیں ہے کہ آئی ایم ایف اور دیگر اداروں سے قرض بھی  ملتا رہے لیکن ملک میں افراط زر  بھی قابو میں رکھا جائے۔

نواز شریف کے معاشی اصلاح کے  وعدے کے ساتھ ہی عمران خان کا یہ  دعویٰ سامنے آیا ہے کہ  ملک میں ہائیبرڈ نظام حکومت کام نہیں کرسکتا۔   کیوں کہ اس میں آرمی چیف کو ویٹو اختیار حاصل  ہوتا ہے اور منتخب ہوکر آنے والا وزیر اعظم بے اختیار رہتا ہے۔  عمران خان کی  یہ دلیل اصولی طور سے تو غلط نہیں ہے لیکن ان کی عملی سیاست اس اصولی مؤقف    سے ہم آہنگ نہیں ۔  سب سے پہلے تو یہ  یاد رکھنا چاہئے کہ ’ہائبرڈ نظام حکومت‘ کی اصطلاح تحریک انصاف کی  حکومت کے بارے میں مستعمل رہی ہے کیوں کہ عمران خان فوج کے ساتھ ایک پیج کی سیاست کو اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دیتے تھے۔  اب  وہ اپنے دور حکومت میں ہونے والی سب غلطیوں  اور قانون شکنی کا ذمہ دار اسٹبلشمنٹ یا فوجی قیادت کو قرار دیتے ہیں۔  لیکن اس کے ساتھ ہی  وہ یہ اصرار بھی کرتے ہیں کہ فوج ان سے بات چیت  کرے تاکہ مستقبل کے کسی بہتر منصوبہ پر بات چیت ہوسکے۔ وہ سیاسی لیڈروں کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ عمران خان ان کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کریں اور فوج کو سیاست سے باہر رکھنے کا اصول سب سے پہلے نمبر پر درج کیا جائے۔  اس  دوغلے پن کے ساتھ  سیاسی و حکومتی معاملات میں آرمی چیف کے حتمی اختیار پر نکتہ چینی عوام کو دھوکہ دینے کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

عمران خان اگر ہائیبرڈ نظام کی غلطیوں سے آشنا ہوچکے ہیں تو وہ سب سے پہلے یہ اعتراف کریں کہ فوج  کی اعانت کے ساتھ انتخابی دھاندلی کرکے اقتدار   میں آنا غلط طریقہ تھا  اور  وہ اس پر قوم سے معافی مانگتے ہیں۔  عمران خان کو علم ہونا چاہئے کہ صرف وہی  سیاسی لیڈر اقتدار میں آنے کے بعد   آرمی چیف کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے جو اپنی مقبولیت اور عوام کے ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں نہ آیا ہو۔ جب کوئی لیڈر اقتدار کے لئے فوج سے جائز و ناجائز  امداد لینے پر آمادہ ہوگا تو حکومت سنبھالنے کے بعد وہ اپنے  ’محسن‘  کی  مرضی و منشا کے مطابق ہی کام کرے گا کیوں کہ اسے انتخابی کامیابی کے لئے امداد اسی شرط پر فراہم کی جاتی ہے۔ عمران خان سمیت ملک کے سب سیاست دانوں کو اس سچائی کا علم ہے لیکن    دروغ گوئی اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے طریقہ کو  سیاسی کامیابی کی کنجی بنا لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں  کوئی حقیقی لیڈر موجود نہیں ہے۔ بونوں کے اجتماع میں سب ایک دوسرے کے  کاندھوں پر چڑھنے کے لئے فوج سے مدد مانگتے دکھائی  دیتے ہیں۔  ایسے سیاست دانوں کے ہوتے آرمی چیف اگر ملکی معاملات میں حرف آخر ہے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہے۔

اس تکلیف دہ صورت حال کا حل بھی آسان اور عام فہم ہے لیکن اس کے لئے عمران خان سمیت سب سیاست دانوں کو انا کے خول سے باہر نکلنا پڑے گا اور فوج کی انگلی تھامنے کی بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ  کر ملک کو  معاشی بحالی کی منزل کی طرف گامزن کرنا پڑے گا۔