احتساب عدالت سے عمران خان کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا
نیب نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سے چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی ہے۔
نیب پراسکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عدالتی حکم پر ابھی تک پیش نہیں ہوئے اس لیے ان کی ضمانت خارج کی جائے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نیب میں شامل تفتیش بھی نہیں ہو رہے اور نہ ہی کورٹ میں آ رہے ہیں۔ نیب کا کہنا تھا کہ عمران خان کو پانچ نوٹس دیے گئے مگر وہ صرف دو بار شامل تفتیش ہوئے۔ عدالت عدم حاضری پر چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت خارج کرے۔
عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دلائل کے لیے مزید وقت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نے دیگر عدالتوں میں بھی پیش ہونا ہے۔ ضمانتوں کی درخواست پر دلائل آئندہ تاریخ پر دوں گا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کی جائے۔
اس دوران سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے وکیل قتل کیس میں تین رکنی بینچ تشکیل دینے سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ یہ درخواست دو رکنی بنچ کی طرف سے درخواست مسترد ہونے کے بعد دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس میں حکم امتناع جاری کرنے پر بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ دو رکنی بینچ نے تجویز دی کہ تین رکنی بینچ کے لیے چیف جسٹس کو درخواست دی جائے‘۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ معاملہ حساس اور فوری سماعت کا متقاضی ہے اور ان کے مؤکل یعنی عمران خان کے خلاف سخت اقدامات اور گرفتاری کا خدشہ ہے۔ فریقین اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے تو موکل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا لہٰذا معاملے کو دیکھتے ہوئے فوری تین رکنی بینچ تشکیل دے کر آج ہی سماعت کی جائے۔