عمران خان کو گھیرے میں لانے کا نیا ہتھکنڈا
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 04 / جولائی / 2023
گلگت بلتستان کی چیف کورٹ نے تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ خالد خورشید خان کو جعلی ڈگری کیس میں پانچ سال کے لئے نااہل قرار دیا ہے۔ یوں ملک میں تحریک انصاف کی آخری حکومت بھی ختم ہوگئی ہے۔ اس دوران میں نصف شب کے بعد قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے ایک آرڈی ننس پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت نیب کو ایسے مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا حق ہوگا جو تعاون سے گریز کررہے ہوں۔ اس کے ساتھ ہی نیب کی تحویل میں ملزموں کو 15 دن کی بجائے ایک ماہ تک جسمانی ریمانڈ پر رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
نیب قانون میں تبدیلی کا آرڈی ننس ایک ایسے وقت میں جاری ہؤا ہے جب ملک میں تحریک انصاف کے چئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی دوبارہ گرفتاری کی افواہیں عام ہیں ۔ نیب کے وکیل نے آج اسلام آباد کی احتساب عدالت سے مطالبہ کیا کہ عدالت میں حاضر نہ ہونے کی پاداش میں عمران خان کی ضمانت منسوخ کی جائے۔ نیب پراسکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان تحقیقات میں تعاون نہیں کررہے ، انہیں پانچ بار ے تفتیش کے لئے طلب کیا گیا لیکن وہ دو بار پیش ہوئے۔ واضح رہے موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد نیب قوانین میں ترامیم کا بل منظور کیا تھا جس میں کسی ملزم کو تحویل میں رکھنے کے لئے نیب کے اختیارات محدود کئے گئے تھے۔ پہلے نیب کو کسی ملزم کو 90 دن تک زیر حراست رکھنے کا اختیار حاصل تھا جسے منظور شدہ ترامیم کے بعد 15 دن کردیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ابتدائی تفتیش کے مرحلے میں کسی ملزم کو گرفتار کرنے کی ممانعت کی گئی تھی۔ اب حکومت نے اپنی ہی کی گئی ترمیم کو ایک آرڈی ننس کے ذریعے تبدیل کیا ہے۔ تحریک انصاف نے نیب قانون میں ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہؤا ہے جس پر ابھی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
گلگت بلتستان میں عدالتی حکم کے نتیجہ میں ملک کے کسی بھی حصہ میں پاکستان تحریک انصاف کی آخری حکومت بھی ختم ہوگئی ہے۔ اس سے پہلے اپریل میں آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو توہین عدالت کے ایک مقدمہ میں نااہل کرکے معزول کردیا تھا۔ عمران خان کے حکم پر جنوری میں پنجاب اور خیبر پختون خوا کے وزرائے اعلیٰ نے ان دونوں اسمبلیوں کو توڑنے کا اعلان کیا تھا لیکن وہاں آئینی تقاضے کے مطابق 90 دن کے اندر انتخابات نہیں ہوسکے۔ سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی تک انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا لیکن بعد میں الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کی گئی نظر ثانی کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا۔
9 مئی کو ہونے والے احتجاج اور اس دن رونما ہونے والے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ اس کا آخری مظاہرہ آج گلگت بلتستان کے عدالتی فیصلہ میں سامنے آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خالد خورشید خان کی قانون کی ڈگری کو جعلی کہتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رکن بلتستان اسمبلی غلام شہزاد آغا نے چیف کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ 29 مئی کو گلگت بلتستان چیف کورٹ کے چیف جج علی بیگ نے اس معاملہ پر سماعت کے لئے لارجر بنچ تشکیل دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے 14 روز میں کیس کا فیصلہ کیا جائے۔ معمول کی ایک شکایت پر چیف جج کی یہ پھرتی اپنی جگہ پر سوالیہ نشان تھا۔ خاص طور سے اس حکم کو نو مئی کے بعد ملک بھر میں عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ ساری کارروائی سیاسی انتقام کا سلسلہ دکھائی دیتی ہے۔
نومبر 2020 میں منعقد ہونے والے انتخاب میں تحریک انصاف کو گلگت بلتستان کی 33 رکنی اسمبلی کی 22 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اس طرح اس کے امید وار خالد خورشید واضح اکثریت سے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے تھے۔ ان کے مدمقابل ایڈووکیٹ امجد حسین کو 9 ووٹ ملے تھے۔ عدالتی حکم کے بعد انہی 9 ارکان کے دستخط سے عدم اعتماد کی تحریک گلگت بلتستان اسمبلی میں جمع کروادی گئی ہے۔ تحریک انصاف نے اگرچہ خالد خورشید کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور عمران خان نے اسمبلی کے پارلیمانی گروپ کا اجلاس بھی طلب کیا ہے تاکہ تحریک انصاف وزارت اعلیٰ کے لئے نیا امید وار لاسکے۔ تاہم دیکھنا ہوگا کہ ملک کے تبدیل شدہ سیاسی ماحول میں گلگت بلتستان میں سیاسی جد و جہد کیا رخ اختیار کرتی ہے۔ اگر آزاد کشمیر اسمبلی کی طرح گلگت بلتستان میں بھی تحریک انصاف کی اکثریت، اقلیت میں تبدیل ہوگئی تو ملک کے جمہوری نظام میں ایک نئی افسوسناک مثال دیکھنے میں آئے گی۔
ان حالات میں نیب قانون میں ترمیم کے لئے جاری کیا گیا آرڈی ننس بھی خاص طور سے عمران خان کو گھیرے میں لانے اور ہراساں کرنے کے لئے جاری کیا گیا ہے ۔ یہ آرڈی ننس ایک ایسے وقت جاری ہؤا ہے جب صدر عارف علوی فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب میں ہیں اور چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی ان کی جگہ قائم مقام صدر کے فرائض ادا کررہے ہیں۔ حکومت نے اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نیب قانون میں ترمیم کی ہے اور اس کے لئے اسمبلی کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی ۔ یوں تو سانحہ 9 مئی کے بعد صدر عارف علوی بھی تحریک انصاف اور عمران خان کے مفادات کی ’حفاظت‘ کے مقصد سے پیچھے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کو اندیشہ ہوگا کہ عمران خان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے جو قانونی تبدیلی مطلوب ہے ، صدر عارف علوی اس میں تاخیر کا سبب نہ بن جائیں۔ ورنہ نصف شب کے وقت اس آرڈی ننس پر دستخط کرنے کا کوئی عملی جواز موجود نہیں ہے۔
یوں بھی کوئی قانون سازی عمومی فائدے اور وسیع تر تناظر میں ہونی چاہئے۔ کسی ایک شخص یا پارٹی کو ذہن میں رکھتے ہوئے لایا گیا کوئی قانون تعصب اور سیاسی مفاد پرستی کا نمونہ کہلائے گا اور اسے نیک نیتی پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ موجودہ حکومت میں تجربہ کار سیاست دان موجود ہیں۔ ماضی میں دہائیوں کے سیاسی سفر کے دوران میں انہوں نے خود ان مشکلات کا سامنا کیا ہے جو اس وقت عمران خان کے راستے کا کانٹا بنی ہوئی ہیں۔ موجودہ حکمران پارٹیاں اپوزیشن میں ہوتے ہوئے نیب قانون کی ناانصافی کا رونا روتے نہیں تھکتی تھیں اور ان کا مؤقف تھا کہ حکومت نیب کے ذریعے اپوزیشن کو دبا رہی ہے اور انہیں جھوٹے مقدموں میں الجھایا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں شہباز حکومت نے نیب قانون میں ملزموں کو سہولت دینے کے لئے اقدامات کئے لیکن عمران خان کی طرف سے اس ترمیم کو ’این آر او‘ قرار دیا گیا۔ اسی لئے تحریک انصاف نے ان تبدیلیوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ستم ظریفی ہے کہ نیب کی دسترس سے بچنے کے لئے عمران خان اسی ترمیم شدہ نیب قانون کا سہرا لینے پر مجبور ہوئے جس کے خلاف ان کی پارٹی سپریم کورٹ سے استدعا کررہی ہے کہ انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔
پی ڈی ایم کی حکومت سے توقع تو یہ کی جارہی تھی کہ اقتدار ملنے کے بعد ملک میں احتساب کے نام پر جاری سیاسی انتقام کا طریقہ ختم کرنے کے لئے کوئی مؤثر انتظام کیا جائے گا۔ البتہ اس حکومت نے چند ترامیم کرنے پر اکتفا کیا جس کا زیادہ تر فائدہ بھی حکومت میں شامل جماعتوں کے لیڈروں نے اٹھایا ہے کیوں کہ احتساب عدالتیں ان کے خلاف متعدد مقدمات کو نئی ترامیم کی وجہ سے ناقابل سماعت قرار دینے پر مجبور ہیں۔ تاہم جب یہ محسوس کیا گیا کہ نیب کے ذریعے عمران خان کو قابو کرنا مشکل ہورہا ہے تو ایک نئے آرڈی ننس کے ذریعے اپنی ہی ترامیم کو تبدیل کیا گیا ہے۔ اس طریقہ سے واضح ہورہا ہے اسلام آباد میں چاہے کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو، وہ مخالفین کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا ہر حربہ آزمانا ضروری سمجھتی ہے۔ موجودہ آرڈی ننس اس سیاسی رویہ کی افسوسناک مثال ہے۔ اس سے ملکی سیاسی ماحول میں نرمی یا خیرسگالی کے جذبات پیدا ہونا مزید مشکل ہوجائے گا۔
یہ باتیں حکمرانوں کو شاید سمجھ نہ آتی ہوں کیوں کہ ان کی سیاست’ وہ یا میں ‘ کی بنیاد پر استوار ہوتی ہے۔ اور محبت یا جنگ میں سب کچھ جائز کے اصول کے تحت برسر اقتدار گروہ مخالفین کو پچھاڑنے اور عاجز کرنے کے لئے ہر طریقہ آزمانا ضروری سمجھتا ہے۔حالانکہ وہ خود انہیں ہتھکلنڈوں کا سامنا کرتے ہوئے قید و بند کی صعوبت برداشت کرچکے ہوتے ہیں۔ اب انہیں اس برے تجربہ کی روشنی میں مخالفین کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرکے روشن مثال قائم کرنی چاہئے۔ حیرت ہے کہ چند ماہ پہلے تک مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے تمام نمایاں لیڈر لاتعداد مقدمات کی پیروی کرتے دکھائی دیتے تھے۔ اور اقتدار سے محروم ہونے کے فوری بعد عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو اب اسی طرح نت نئے مقدمات میں الجھایا جارہا ہے۔ ملک کا نظام انصاف اس ناجائز اور افسوسناک طریقہ کار کو روکنے میں بری طرح ناکام ہے۔
حکمرانوں کو سوچنا چاہئے کہ انتقام اور ناجائز ہتھکنڈوں سے سیاسی آواز دبانے کا یہ کھیل آخر کب تک کھیلا جائے گا ؟ ان طریقوں سے ملک و قوم کو جمہوری روایت سے دور کیا جارہا ہے۔ یہ جابرانہ ہتھکنڈے نفرت و عناد میں اضافہ کریں گے ۔ اس وقت سیاسی لیڈروں کو انتقام کے ہتھکنڈے سوچنے کی بجائے ملک کو معاشی ، سیاسی و سفارتی بحران سے نکالنے کے لئے اجتماعی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن حکومت یا اپوزیشن کوئی بھی اس کی ضرورت محسوس کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔