لاہور میں موسلا دھار بارش سے سیلابی صورتحال، 7 افراد جاں بحق

  • بدھ 05 / جولائی / 2023

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ریکارڈ موسلادھار بارش کے نتیجے میں مختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔ شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے ٹوئٹر پر کہا کہ صبح سے لاہور میں 291 ملی میٹر بارش ہوئی ہے جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ محسن نقوی کے مطابق 3 افراد بجلی کا کرنٹ لگنے سے، دو افراد گھر کی چھت گرنے سے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بچی سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ آج لاہور میں ریکارڈ موسلادھار بارش ہوئی ہے جس کی توقع نہیں تھی۔ ہم نے شہر کی سڑکیں صاف کرنے اور نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔ لاہور کنال میں طغیانی کے باعث مسلم ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن اور گلبرگ زیر آب آگئے ہیں۔

نگراں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رات 9 بجے بارش کا ایک اور مرحلہ متوقع ہے اور متعلقہ حکام اس کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ خود بھی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

قبل ازیں لاہور میں آج صبح سے ریکارڈ موسلادھار بارش کے سبب سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی جبکہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارش اور درخت گرنے کے سبب 3 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی (واسا) کے مطابق بارش کے نتیجے میں لاہور کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔ خاص طور پر لکشمی چوک پر سب سے زیادہ 291 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ نشتر ٹاؤن میں 277، پانی والا تالاب اور گلشن راوی میں 268 ملی میٹر بارش ہوئی۔

لاہور کے کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر شہر کے علاقوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ جمع ہونے والے پانی جیسے مسائل کو حل کیا جاسکے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں میں لاہور میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہنے کی توقع ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم شہبازشریف نے طوفانی بارش پر پنجاب حکومت کو فوری اقدامات کی ہدایت کر دی۔ ایک بیان میں وزیر اعظم نے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کو امدادی ٹیموں کو فوری متحرک کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ضرورت پڑنے پر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور وفاقی اداروں کو پنجاب حکومت کو بھرپور معاونت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارش اور درخت گرنے کے سبب 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا کے مطابق 2 افراد کی اموات شانگلہ جبکہ ایک خاتون کی موت کرک میں ہوئی۔ بارش سے منسلک حادثات کے سبب 7 افراد زخمی بھی ہوئے اور 6 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا تھا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے علاقوں میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے۔ جس سے ارب فلڈنگ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ گزشتہ روز نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے بھی تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ممکنہ طور پر 8 جولائی سے شروع ہونے والے بارش کے سلسلے کے حوالے سے الرٹ رہیں۔

آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، پوٹھوہار ریجن، بالائی اور وسطی پنجاب اور شمال مشرقی بلوچستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران بالائی پنجاب، اسلام آباد، کشمیر اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی موسلادھار بارش بھی ہوسکتی ہے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔