لاہور میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری، مزید 17افراد جاں بحق
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مسلسل دوسرے دن بھی موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ دیوار اور چھت گرنے کے دو مختلف واقعات میں کم از کم 17 افراد جاں بحق اور دیگر 49 زخمی ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شدید بارش کی وجہ سے چونگی امرسدھو کے علاقے میں بندی والا پُل کے قریب چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے جس میں 10 سال کی عمر سے کم تین بچے بھی شامل تھے۔ ایک اور 10 سالہ بچے کو لاہور جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ایک علحیدہ حادثے میں سرکاری مزنگ ٹیچنگ ہسپتال اور ساتھ کی عمارت کی دیوار گرنے سے 14 افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق دیوار ہسپتال کی انتظار گاہ پر گری جس کے نتیجے میں 14 افراد زخمی ہوگئے۔ انہیں سر گنگا رام ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
گزشتہ روز پنجاب بھر میں کرنٹ لگنے، چھتیں گرنے، ڈوبنے اور آسمانی بجلی گرنے کے مختلف واقعات میں 9 افراد کی اموات ہو گئی تھیں۔ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے گزشتہ روز ہونے والی 291 ملی میٹر بارش کو ریکارڈ اور غیر متوقع قرار دیا تھا۔
کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا نوٹ کیا کہ اتنے کم وقت میں اتنی زیادہ بارش سے گزشتہ 30 برس کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی (واسا) کے منیجنگ ڈائریکٹر غفران احمد نے مختلف انڈر پاسز پر نکاسی آب کا جائزہ لیا، جس میں کیپٹن مبین شہید انڈر پاس اور مختلف سڑکیں شامل ہیں۔
چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وہ فیلڈ میں موجود ہیں اور نکاسی آب کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ زاہد اختر زمان نے کلمہ چوک انڈرپاس اور دیگر سڑکوں کا دورہ کیا اور تمام افسران کو فیلڈ میں رہنے کی ہدایت جاری کی۔
چیف سیکریٹری نے تمام محکمہ جات کے سیکریٹریز کو انڈرپاس اور ڈسپوزل اسٹیشنز کا جائزہ لینے کے احکامات دیے۔ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ حکام نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کے لیے مزید پمپس کی تنصیب کے احکامات دیں۔
محکمہ موسمیات نے صبح جاری کی گئی رپورٹ میں خبردار کیا کہ اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر، اوکاڑہ، کوہاٹ، پشاور، بنوں، کرک اور ڈیرہ اسمٰعیل خان میں 6 سے 8 جولائی کے دومیان شدید بارشوں کا امکان ہے، جس کے سبب نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
شدید بارشوں کے سبب مری، گلیات، کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ ہوسکتی ہے۔ موسلادھار بارشیں پہاڑی ندی نالوں اور کشمیر کے مقامی نالے، ڈیرہ غازی خان، کوہلو، سبی، بارکھان، ژوب، لورالائی، قلعہ سیف اللہ اور موسیٰ خیل میں سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں۔