اقتدار کے کھیل کی نئی سیاسی بساط

قومی سیاست یا جمہوریت کا بڑا المیہ یہ ہی ہے کہ یہ طاقت کے مراکز کے درمیان گھومتی ہے۔ اور طاقت کے مراکز میں شامل مختلف فریقین ہی مل بیٹھ کو اقتدار کی سیاست میں اپنا رنگ بھرتے ہیں۔

انتخابات کی ساکھ پر بڑا سوال یہ ہی ہے کہ انتخابات سے قبل ہی اقتدار کے کھیل کی بندر بانٹ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر طے ہوجاتی ہے۔ پھر اس کھیل کو حتمی شکل دینے کے لیے انتخابات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست پر تنقید بھی بہت ہوتی ہے اور بہت سے سنجیدہ نوعیت کے افراد کے تحفظات بھی غالب نظر آتے ہیں ۔ کیونکہ اگر ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے ان ہی روایات اور طور طریقوں کو بنیاد بنا کر ہی آگے بڑھنا ہے تو پھر سیاست ، جمہوریت اور آئین و قانون کی حکمرانی کا خواب بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔ اس وقت بنیادی نکتہ قومی سیاست اور اس سے جڑے معاملات کو سیاسی و جمہوری دائرہ کار میں لانا ہے ۔

Advertisement

انتخابات کے وقت کے حوالے سے خبریں غیر یقینی ماحول کو جنم دیتی ہیں۔ اس ابہام میں لندن پلان ہو یا دوبئی میں جاری پلان ، منصوبہ یا سیاسی مشاورت، وہاں حکمران اتحاد کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کا سرجوڑ کر بیٹھنا ظاہر کرتا ہے کہ خود سے اقتدار کے کھیل کو حتمی شکل دی جارہی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کیا سیاسی و جمہوری قوتیں اس حد تک آزاد ہوگئی ہیں کہ وہ اپنے سیاسی فیصلے خود سے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں کی خواہش ہوگی کہ اس حکومت کی مدت کے خاتمہ کے بعد فوری طور پر انتخابات کا راستہ ہی اختیار کیا جائے۔ کیونکہ یہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں کسی بھی طور سے اس پر اتفاق نہیں رکھتیں کہ نگران حکومت کو لمبی مدت تک ہی آگے چلایا جائے۔ اور نگران حکومت کو عبوری حکومت کا درجہ دیا جائے ۔ یہ دونوں جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابات ہوں اور  دونوں جماعتیں کچھ بنیادی شرائط کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو پر اقتدار کے کھیل کو حتمی شکل دیں ۔

جب کہ شہباز شریف کی خواہش یہ ہے کہ اگر نگران حکومت کو لمبا کرکے عبوری حکومت میں تبدیل کرنا ہے تو پھر ان کی حکومت کو ہی آگے چلایا جائے۔ نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی خواہش رکھتے ہیں اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ان کی خواہش ہے کہ ان کی بیٹی مریم نواز کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر قبول کیا جائے ۔ شہباز شریف اپنے لیے لابنگ کررہے ہیں کہ وہ ہی نئے وزیر اعظم ہوں۔ جب کہ آصف علی زرداری بلاول بھٹو کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی خواہش ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ان کو نئے صدر کے طور پر قبول کرلیں ۔ نواز شریف پنجاب کے بغیر مسلم لیگ ن کے اقتدار کے حامی نہیں ۔

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو اگلے انتخابات کے نتیجے میں اقتدار کا یقین ہے ۔ دونوں جماعتیں سمجھتی ہیں کہ جو بھی نئے انتخابات ہوں گے اس میں پی ٹی آئی کا سیاسی جادو نہیں چل سکے گا اور اس کو سیاسی طور پر مفلوج کردیا جائے گا ۔ ان کے بقول امکان ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کو نااہل کیا جاسکتا ہے ، سیاسی جماعت پر پابندی لگائی جاسکتی ہے ، گرفتار کیا جاسکتا ہے اور انتخابی میدان میں مائنس ون فارمولے کے تحت انتخاب لڑنے کی اجازت دی جائے گی ۔ اس لیے پی ٹی آئی کچھ نہیں کرسکے گی ۔ سوال یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کو سیاسی میدان سے باہر نکال کر انتخابات کی سیاسی ساکھ کیا ہوگی اور کس حد تک اس انتخابات کو قبول کیا جائے گا ۔ یہ بھی اہم سوال ہے  کہ مائنس ون فارمولہ کا تجربہ ہم ماضی میں بھی کرچکے ہیں مگر نتیجہ کچھ بھی نہیں نکل سکا۔

یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ پنجاب کے انتخابی منظرنامہ میں جہانگیر ترین اور مسلم لیگ ق کا کیا مستقبل ہوگا ۔ کیا یہ جماعتیں انتخابی میدان میں کسی کی حمایت کے ساتھ میدان میں اتریں گی یا یہ پہلے سے موجود دو بڑی جماعتوں کے ساتھ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر آگے بڑھیں گی ۔ مسلم لیگ سمجھتی ہے کہ ان دونوں جماعتوں کو اگر حمایت بھی مل جائے تب بھی ان کے پاس ووٹ بینک موجود نہیں اور نہ ہی یہ کچھ  بڑا کرسکیں گی ۔

اب سوال یہ ہے کہ اس نئی صورتحال میں پی ٹی آئی کے پاس کیا آپشن رہ جاتے ہیں ۔ کیا پی ٹی آئی کے سربراہ خود کو مائنس کرنے کے لیے تیار ہوں گے جو فی الحال ان کی باتوں سے نہیں لگتا ۔ خیبر پختونخواہ میں بھی پی ٹی آئی کے مقابلے میں پرویز خٹک کو کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کیا وہ مطلوبہ نتائج دے سکیں گے اور کیا ایسا ممکن ہوگا۔

ہم نے خود کو ماضی کی غلطیوں سے باہر نہیں نکالا اور تسلسل کے ساتھ ماضی پر مبنی کھیل کو جاری رکھا ہوا ہے ۔ جب انتخابات یا ووٹ کی بنیاد پر اقتدار کے فیصلے نہیں ہونے تو اس سے جمہوریت آگے نہیں بلکہ پیچھے کی طرف جائے گی۔ ہم سیاست و جمہوریت کو یا آئین و قانون کی بنیاد پر چلاتے تو موجودہ  سیاسی و ادارہ جاتی بحران سے باہر نکل سکتے ہیں ۔