عدم ’استحکام پاکستان پارٹی‘
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 08 / جولائی / 2023
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اور پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت13اگست2023 کو اپنی آئینی مدت پوری کر کے انجام پذیر ہو جائے گی۔پی ڈی ایم گیارہ قومی و علاقائی سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ہے جو عمران خان کے خلاف ستمبر2020 میں تشکیل دیا گیا تھا ۔
اس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)،عوامی نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی (ولی)، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) جمعیت اہلحدیث، نیشنل پارٹی(بزنجو) پختونخوا ملی عوامی پارٹی، پشتون تحفظ موومنٹ، قومی وطن پارٹی اور جمعیت علماء اسلام شامل ہیں،منجھے ہوئے سیاستدان مولانا فضل الرحمن اس کے قائد ہیں اور پیپلزپارٹی حکومتی اتحاد میں شامل ہے۔ 9/10 مئی 2022 کی شب پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی نے ایک آئینی شب خون کے ذریعے عمران خان کی فسطائی اور ملک دشمن حکومت کا خاتمہ کیا۔14مہینوں سے یہ 12جماعتی اتحادی حکومت احسن طریقے سے چل رہی ہے،۔مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور دیگر جماعتوں کے درمیان مثالی تعلقات دیکھنے میں آئے ہیں۔حالانکہ اتنا بڑا سیاسی اور حکومتی اتحاد اتنے عرصے تک بخیرو عافیت چلنا، یقینا ً ایک سیاسی معجزہ ہی سمجھا جانا چاہئے۔عمران خان اسی اتحاد کو ’مقتدرہ‘ کی سازش قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ اتحاد ان کی حکومت گرانے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا، لیکن مقتدرہ کبھی جنرل باجوہ بتائے گئے کبھی امریکہ،لیکن سازش کا بیانہ نہیں بدلا۔
سازش کے حوالے سے نواز شریف کا بیانیہ بھی مشہور ہے اور اسے پہلے قبولیت عامہ کا درجہ حاصل تھا، اب تہہ در تہہ کھلتے ہوئے حقائق نے اس بیانیے کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔حال ہی میں پی ٹی آئی کے ایک معتبر رہنما حامد خان نے اپنے ایک انٹرویو میں بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ 2008 کے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کو باہر رکھنے اور عمران خان کو اِن کرنے کی منصوبہ سازی بہت پہلے ہی کی جا چکی تھی۔ ہماری مقتدرہ بشمول جنرل باجوہ، فیض حمید، ثاقب نثار اور عمران خان نے ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق نواز شریف کو نااہل قرار دیا۔آر ٹی ایس کے ذریعے انتخابی نتائج تبدیل کئے اور جہانگیر ترین و علیم خان کا جہاز اور اے ٹی ایم چلا کر عمران خان کو اقتدار میں داخل کیا گیا۔
اب وہی کردار، وہی مہرے،وہی پیادے ایک بار پھر سیاست کو گدلانے کے لئے تیار کیے جا رہے ہیں۔ جہانگیر ترین اور علیم خان استحکام پاکستان کا جال لگا کر بیٹھ گئے ہیں تاکہ لوٹوں کو ایک بار پھر اکٹھا کر کے ’سازش ‘کریں۔ ایسے ہی جیسے قیام پاکستان کے بعد ری پبلکن پارٹی اور کنونشن و کونسل مسلم لیگیں سازشیں کرنے اور کرانے کے لئے استعمال کی جاتی تھیں۔ ایک وقت تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ہونا گالی تھی، سیاست دان و دیگر اپنا ایسا تعلق چھپاتے تھے لیکن آج کل بے شرمی اور بے غیرتی کی انتہا یہ ہے کہ ایسا تعلق رکھنے والے اِتراتے ہیں، اپنی ایسی شہرت کو پسند کرتے ہیں۔ ہماری مقتدرہ کی ایسی حرکات کے باعث سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا۔ دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست کٹ کر دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی لیکن ہماری اسٹیبلشمنٹ باز نہیں آئی۔
جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف نے خوب کھیل کھیلا۔ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ ہی نہیں ہوا انہیں سیاسی منظر سے حرفِ غلط کی طرح مٹانے کی کاوشیں کی گئیں۔پھر جنرل مشرف نے نواز شریف اور ان کی مسلم لیگ کا خاتمہ کرنے کے جتن کئے۔عدلیہ کے ذریعے انہیں نااہل ہی نہیں غداری کا مجرم قرار دلوا کر جلاوطن کر دیا گیا۔ پھر ہماری مقتدرہ یعنی جنرل باجوہ، جنرل فیض حمید، چیف جسٹس اور عمران خان نے مل جل کر ایک بار پھر نواز شریف اور ان کی پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے کی سازش کی۔اب اس حوالے سے حقائق اس قدر واضح ہو چکے ہیں کہ بیان کردہ حقائق کے بارے میں کسی شک و شبہے کی ہر گز ہر گز گنجائش نہیں ہے۔
ایسی حرکات و سکنات کے باعث آج ملک سیاسی و معاشی ہی نہیں معاشرتی بحران کا شکار ہے۔سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی کے بارے میں دو آراء نہیں پائی جاتیں ہیں ہم 1 ارب ڈالر کے حصول کے لئے آئی ایم ایف کی نو مہینے تک منتیں و ترلے کرتے پائے گئے ہیں۔ شرمناکی کی حد یہ ہےکہ وزیراعظم شہباز شریف کے محاسن بیان کرنے والوں کو کہتے سنا گیا کہ ’وہ مانگنے میں ترلے ڈالنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں‘۔ کتنی شرمناک بات ہے کہ ایک قبیح مہارت کو صفت اور حسن قرار دیا جا رہا ہے لیکن ہمارے ملک میں ایسا ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔
معاشرتی حوالے سے ایک پوری نسل بدکلامی، بدتہذیبی اور بداطواری میں پل بڑھ کر تربیت حاصل کر کے میدانِ عمل میں آ چکی ہے اس تربیت یافتہ نسل کو اس انداز میں تربیت دی گئی ہے،ان کی ذہن سازی اس طرح کی گئی ہے کہ انہیں اور کچھ نظر ہی نہیں آتا وہ اپنی ہی تشکیل کردہ دُھن میں مگن ہیں۔ ان کے سامنے ریاست و مملکت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔شہداء کی کوئی عزت نہیں ہے۔ ملکی عسکری اداروں کی پرواہ نہیں ہے وہ اپنے فکر و عمل کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو عبور کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔بلکہ اسے تباہ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔9 مئی 2023کو پورے ملک میں جو کچھ ہوا وہ اسی تربیت اور سوچ کا نتیجہ ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کی دشمنی میں عمران خان کو شہہ دی،انہیں سہولیات فراہم کیں،میدان فراہم کیا،انہیں مانسٹر بننے میں رہنمائی کی،سہولت کاری کی، اقتدار میں لایا گیا۔
نواز شریف کو آسمان سیاست سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔عمران خان کو سیاست سے آؤٹ کرنے کی کاوشیں بھی کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔استحکام پاکستان پارٹی اسی سوچ و فکر کا نتیجہ ہے۔ اسی کھیل کا حصہ ہے۔ اس طرح کی حرکات نے پہلے بھی سیاست کو گدلا کیا تھا،آج بھی ایسا ہی ہو گا۔ اس طرح کی چالیں پہلے بھی سیاست میں عدم استحکام لاتی رہی ہیں،عوام میں بے اطمینانی کا باعث بنتی رہی ہیں،ابھی بھی ایسا ہی ہو گا۔استحکام پاکستان پارٹی دراصل عدم استحکام پاکستان کا ایک بندوبست ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)