پھرتا ہے فلک برسوں
- تحریر مظہر چوہدری
- اتوار 09 / جولائی / 2023
یوں تو اصغر ندیم سید صاحب کی بنیادی پہچان آج بھی ڈرامہ نگاری اور شاعری ہی ہے لیکن گذشتہ چند سالوں میں انہوں نے ایک ادیب اور ناول نگار کے طور پر بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔
گزشتہ سال ان کی اپنے ہم عصر شاعروں اور ادیبوں کے خاکوں پر مبنی کتاب ’پھرتا ہے فلک برسوں شائع ہوئی جسے علمی و ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ادبی اصطلاح میں خاکہ ایسی صنفِ نثر ہے جو مختصر ہونے کے باوجود کسی شخصیت کا بھرپور تاثر پیش کرے۔ اصغر ندیم سید کے خاکوں کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں پڑھ کر صاحب خاکہ کے ساتھ ساتھ خاکہ لکھنے والے کی بھی شخصیت کھل کر سامنے آتی۔ گہرائی میں جا کر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ نابغہ روزگار شخصیات کی کہانیاں بیان کرتے کرتے صاحب کتاب اپنی خود نوشت بھی قلمبند کر رہے ہیں۔ خاص طور پر کتاب کے آخر میں مسعود اشعر پر لکھا گیا خاکہ اصغر ندیم سید کی نجی اور پیشہ ورانہ زندگی کے اہم پہلوؤں کی بھر پور تصویر پیش کرتا ہے۔
کتاب کا پہلا خاکہ سنگ میل پبلیکیشنز کے روح رواں نیاز احمد کا ہے۔ اس خاکے میں انہوں نے نیاز احمد کے ساتھ کئی دہائیوں پر مشتمل اپنے تعلق کو ایسے دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے کہ سنگ میل پبلیکیشنز کے قیام سے لے کر عروج تک کی ایک تاریخ مرتب ہو گئی ہے۔
’ہندوستان کا داستان گو‘ کے عنوان سے لکھے گئے دوسرے خاکے میں اصغر ندیم سید صاحب اردو زبان کے ممتاز اور بین الاقوامی شہرت کے حامل محقق، نقاد اور ادیب گوپی چند نارنگ کے ساتھ اپنے تعلقات کا تذکرہ ایسے خوب صورت انداز میں کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے ادیبوں اور شاعروں کی سرحد کے دونوں اطراف سجنے والی علمی و ادبی محفلوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔
’ اپنے جیسی ایک عورت‘ کے عنوان سے کشور ناہید کے بارے لکھا گیا کتاب کا تیسرا خاکہ بہت دلچسپ اور جان دار ہے۔ خاکے کے شروع میں صاحب کتاب کہتے ہیں کہ کشور چاہتی ہے کہ کوئی اس کا سچا خاکہ لکھے۔ کئی دہائیوں پر مشتمل کشور ناہید کے ساتھ اپنے تعلقات کو 20 صفحوں میں ایسے دلچسپ پیرائے میں قلمبند کیا ہے کہ اس خاکے کو بار بار پڑھنے کو دل کرتا ہے۔ صاحب کتاب لکھتے ہیں کہ کشور ناہید کی انفرادیت یہ رہی کہ انہوں نے ادیبوں کو مجلسی زندگی میں شامل کرنے کے لیے اپنے گھر کو پیش کیا۔ کشور کے ہاں دنیا بھر سے شاعر اور ادیب آتے تھے تو ان کے ہاں ہر طرح کی محفل سجتی تھی۔ یوں جہاں شاعروں اور ادیبوں نے انٹلیکچوئل فریڈم سے لطف اٹھایا وہیں ضیائی آمریت میں ادیبوں اور شاعروں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کشور ناہید کوثر نیازی کی وزارت میں بھی رہیں اور بعد ازاں کئی ایک سرکاری علمی و ادبی اداروں میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہیں۔ صاحب کتاب لکھتے ہیں کہ لاہور کا ہر دوسرا ادیب اور شاعر کشور کے خلاف بولنا بھی اپنا فرض سمجھتا تھا اور مشکل میں اس کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی اس کے فرائض میں شامل تھا۔ اور کشور بھی ننگے سر ننگے پاؤں ان ظالموں کی مدد کے لئے نکل کھڑی ہوتی تھی۔ کشور نے اپنے شوہر یوسف کامران کی وفات کے بعد بہت جدوجہد کی۔ شوہر کی وفات کے بعد ہر طرح کا مرد کشور کو تر نوالہ سمجھ کر لپکا۔ کشور کے اندر فطری طور پر مضبوط ایسے سنسر لگے ہوئے ہیں کہ وہ مرد کے پہلے قدم اور پہلی آنکھ اٹھنے پر سمجھ جاتی ہے کہ دوسرا قدم اور دوسری نگاہ کس رخ جائے گی۔ اس لیے وہ دوسرا قدم اٹھانے ہی نہیں دیتی۔
چوتھا خاکہ لاہور کی ادبی دنیا کے ایک پراسرار کردار زاہد ڈار بارے ہے۔ اگرچہ زاہد ڈار نے شاعری کی ہے لیکن لاہور کے ادبی حلقوں میں ان کی پہچان لکھاری کی بجائے قاری کی قائم ہوئی۔ اصغر ندیم سید لکھتے ہیں کہ زاہد ڈار چند ادھوری نظمیں اور زیادہ کتابوں کے مطالعے کا ایک گمان اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ لاہور کے ادیبوں نے زاہد ڈار کو فٹ بال کی طرح استعمال کیا۔ زاہد ڈار کا استعمال کرنے والوں میں شمیم حنفی اور انتظار حسین جیسے ادیب بھی شامل تھے لیکن زاہد ڈار کو نہ صرف اس کا علم تھا بل کہ اسے اپنا یہ کردار قبول بھی تھا کہ اس طرح اس کی ہر طرح کے حلقے میں جگہ بھی بن جاتی تھی۔ زاہد ڈار کو علم تھا کہ ادب میں مقام بنانے کے لیے شاعری کا راستہ اس کے لیے کٹھن ہوگا۔ دوسرا راستہ یہی تھا کہ اس کی شہرت ادب کے ایک مخلص قاری کی ہو جائے تاکہ وہ سب سے زیادہ کتابیں پڑھنے والا تسلیم کر لیا جائے اور وہ یہ امیج بنانے میں کامیاب رہا۔ آخر میں اصغر صاحب رقم طراز ہیں کہ ابھی زاہد ڈار کی زندگی کے کئی گوشے پوشیدہ ہیں اور پوشیدہ ہی رہیں گے کہ جتنا وہ دنیا پر کھل سکا، اس سے زیادہ وہ کھل نہیں سکتا تھا۔ وہ ایک واقعے کی طرح لاہور سے گزر گیا ہے۔
پانچواں خاکہ اردو دنیا کے عظیم نقاد، محقق، استاد، فنون لطیفہ کے استاد اور ادبی دنیا کے لیے چراغ کی حیثیت رکھنے والے شمیم حنفی کا ہے۔ سولہ سترہ صفحات پر مشتمل اس خاکے میں صاحب کتاب شمیم حنفی کے ساتھ پاکستان اور بھارت میں گزرے کئی دلچسپ واقعات اور حقائق قلبمند کرنے کے بعد ان الفاظ میں انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ’ ایک یونیورسٹی کے استاد کی جتنی خواہشات ہو سکتی ہیں، شمیم حنفی کو اس سے کئی گنا زیادہ حاصل ہوئیں۔ استاد کی معراج کیا ہو سکتی ہے۔ ڈھیروں جاں نثار شاگرد ہوں۔ لاتعداد کتابوں کے مصنف ہو جائیں۔ تمام قابل ذکر یونیورسٹیوں میں ان کے نام کا ڈنکا بجتا ہو۔ کانفرنسیں اور دنیا بھر کے فیسٹیول ان کے بغیر ادھورے سمجھے جائیں۔ میڈیا تک ایسی رسائی ہو کہ ان کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو جائے، تو یہ سب شمیم حنفی کو نصف صدی تک حاصل رہا۔ وہ چھوٹی ریس کے کھلاڑی نہیں تھے۔ وہ میرا تھن کے لیے میدان میں اترے تھے اور آخر تک دوڑتے دوڑتے ہانپ کے گر گئے اور کوویڈ کی خاموشی میں خاموشی سے چلے گئے‘۔
عبداللہ حسین پر لکھا گیا خاکہ بھی منفرد لیکن قدرے افسردہ کرنے والا خاکہ ہے۔ خاکہ پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ ’اداس نسلیں‘ جیسے مقبول ناول کے مصنف کتنی پیچیدہ شخصیت کے مالک تھے۔ ویسے تو خاکے میں اداس نسلیں کو شائع کرانے کا قصہ بھی خاصا دلچسپ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم چیز عبداللہ حسین کی شخصیت میں پائی جانے والی پیچیدگیوں کا منظر عام پر آنا ہے جنہیں جان کر عبداللہ حسین سے عقیدت رکھنے والے قارئین گہری افسردگی کا شکار ہو جائیں گے۔ عبداللہ حسین کا ایک گلہ تو نقادوں سے یہ رہا کہ انہوں نے اداس نسلیں کے بعد بھی بہت کچھ لکھا لیکن نقادوں کی سوئی اداس نسلیں پر ہی اٹکی رہی۔ خاص طور پر ‘ نادار لوگ‘ سے انہیں بہت امیدیں وابستہ تھیں لیکن نقادوں نے اس پر کم بات کی۔ اصغر ندیم سید کے بقول ادب کی بڑی میراتھن میں بظاہر وہ شامل نہیں تھے لیکن اس ریس میں اپنا مقام انہوں نے متعین کر رکھا تھا۔ اس لیے جب انتظار حسین کے فکشن نے پھریری لے کر اردو دنیا میں اپنی ایک نئی معنویت بنائی اور کئی زبانوں میں ترجمہ ہوتے ہوئے ’ بستی ‘ کو عالمی سطح پر لندن میں ‘ مین بکر ایوارڈ ‘ کی صف میں لا کھڑا کیا۔ انڈیا میں انتظار حسین کے فکشن پر کام ہونے لگا تو عبداللہ حسین کو محسوس ہوا ان کے ساتھ کچھ غلط ہو رہا ہے۔
جب عطا الحق قاسمی الحمراء کے چئیرمین ہوئے اور میں مسلسل تین مرتبہ بورڈ آف گورنر کا ممبر بنا تو ہم نے ادیبوں کی بہبود کے لئے بڑے ادیبوں کی خدمت میں پانچ پانچ لاکھ کے ایوارڈ پیش کیے۔ پہلا ایوارڈ انتظار حسین کو دیا گیا اور اس شان دار تقریب میں عبداللہ حسین کو بھی بلایا۔ انہوں نے وہاں میرے سمیت کچھ قریبی دوستوں سے گلہ کیا کہ ہر ایوارڈ انتظار حسین کو مل جاتا ہے۔ ہمیں تو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ اس کے بعد ہم نے پانچ لاکھ کا ایوارڈ ان کی خدمت میں بھی پیش کیا لیکن ان کی تلخی پھر بھی کم نہ ہوئی۔ خاکے میں شامل کچھ دیگر دلچسپ واقعات پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ حسین غصے کے بھی تیز تھے۔ یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو انٹرویو دینے کے ایک واقعے میں مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ ان کا لہجہ نہایت درشت ہو جاتا ہے جب کہ ایک فیسٹیول میں ’ شام ‘ کا بندوبست نہ ہونے پر صاحب کتاب کو جلی کٹی سنا دیں۔
کتاب میں شامل منیر نیازی کا خاکہ واحد ایسا خاکہ ہے جس میں اصغر صاحب نے صاحب خاکہ کے پنجابی و اردو کے جملے قلمبند کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اشعار بھی وافر تعداد میں لکھے ہیں۔ صاحب کتاب لکھتے ہیں کہ منیر نیازی سے ان کی پہلی ملاقات ایک مداح کے طور پر ہوئی جس میں منیر نیازی نے انہیں خبر دار کیا کہ لاہور میں صرف دو لوگ داتا کی نگری میں بڑے ادیب اور شاعر ہیں، ایک انتظار حسین اور دوسرا منیر نیازی۔ منیر نیازی کے ساتھ اپنے تعلق کی نوعیت بیان کرتے صاحب کتاب لکھتے ہیں کہ ان کے لیے منیر نیازی ایک خیالی ہیرو بھی تھا اور ایک جمالی کردار بھی۔ ان کے مطابق شاعر اور بھی خوب صورت ہوئے ہیں اور قریباً سب کے سکینڈل بھی ہوئے لیکن منیر نیازی جو سب سے خوب صورت تھا اس کا سکینڈل نہ ہوا کہ وہ کسی عورت پر عاشق نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ خود پر عاشق تھا۔
خاکے میں کئی ایک دلچسپ واقعات ہیں جن میں ایک واقعے میں قلعہ کہنہ قاسم باغ سے چودھویں کا چاند دیکھتے دیکھتے اصغر صاحب موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھے منیر نیازی کو گرا دیتے ہیں۔ خاکے میں صاحب کتاب نے منیر نیازی کے ہم عصر شاعروں اور ادیبوں بارے درجن کے قریب طنز و مزاح پر مبنی تیکھے جملے بھی قلمبند کیے ہیں جن میں سے صرف دو یہاں بیان کیے جا رہے ہیں کشور ناہید کے بارے میں کہا :
اس نے کبھی افسر اور فوج کو ناراض نہیں کیا۔
احمد ندیم قاسمی کے بارے میں کہا:
انہوں نے اتنی بہنیں اور بیٹیاں بنا لی ہیں کہ وہ ساری زندگی جہیز جمع کرنے میں لگے رہیں گے۔ جو جمع نہیں ہو گا۔
اصغر ندیم سید کے بقول منیر نیازی نے اپنے زمانے یا گزشتہ زمانوں کے مصنوعی شہرتوں والے کسی شاعر کو درخور اعتنا نہ سمجھا بل کہ جملے بازی بھی کی۔ البتہ فیض، ن م راشد اور ناصر کاظمی کو ہمیشہ عزت سے دیکھتے رہے۔ فیض پر جملے ضرور آزمائے لیکن جانتے تھے کہ فیض میں طاقت ہے جو اثر دکھائے گی۔ منیر نیازی بڑے بڑے ترقی پسندوں سے بڑا ترقی پسند تھا۔ اس نے کسی ناانصافی کو معاف نہ کیا۔ کسی ظلم پر خاموش نہ رہا بل کہ اس کا غصہ سر چڑھ کے بولا۔ آج منیر کے ہی اشعار پاکستان کی سیاسی تاریخ پر سب سے زیادہ موثر طریقے سے تجزیہ نگار استعمال کرتے ہیں۔ محض سیاسی تاریخ ہی نہیں برصغیر کی غلامی کی تاریخ میں بھی ان کے اشعار استعارے میں بولتے تھے۔ منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے/ کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
حبیب جالب پر لکھا گیا خاکہ دلچسپ لیکن قدرے افسردہ کرنے والا ہے۔ جالب صاحب کی رخصتی کے بعد ان کے وارث بننے پر ہونے والے جھگڑے کی کا پس منظر واضح کرتے ہوئے اصغر صاحب لکھتے ہیں کہ حبیب جالب نے اپنے بچوں کو وقت دیا یا نہیں یا انہیں ڈھنگ سے پالا پوسا یا نہیں البتہ اپنے اندر کے بچے کو خوب اچھی طرح پال پوس کے گل گوتھنا، تھن متھنا کیا اور اس کا ہر لاڈ سہا۔ یہ لاڈ جالب صاحب نے سب مداحوں حتی کہ ذوالفقار علی بھٹو سے بھی اٹھوائے۔ سڑک چھاپ مداح جالب صاحب کے آس پاس ضرور رہتے تھے لیکن جالب اونچی سوسائٹی اور فیض صاحب کی طرح ایلیٹ کلاس کے مداحوں میں خود کو محفوظ سمجھتے تھے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے ساری زندگی فیض صاحب کے برعکس سڑکوں اور چائے خانوں میں ہی گزاری۔ ایوب خان کے مارشل لاء میں جالب کی شاعری میں عوامی و انقلابی رنگ نمایاں ہوا جو پھر آخر تک ان کی پہچان بنا رہا۔ خاکے میں جالب صاحب کے مالی حالات بہتر بنانے کے لیے کشور ناہید کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ایک مشاعرے سے حاصل ہونے والی رقم (پانچ لاکھ ) اور پیپلزپارٹی کے رہنما عبد العزیز میمن کی جانب سے ’ کالے چور ‘ نامی فلم سے حاصل ہونے والا کچھ منافع حبیب جالب کو دیا گیا۔ لیکن جالب صاحب کے دن پھر بھی نہ بدلے۔
کشور ناہید نے تو مشاعرے سے حاصل ہونے والی رقم بینک میں جمع کرا دی اور جالب صاحب کی بیوی کو بھی اس اکاؤنٹ میں شامل کیا تاکہ جالب صاحب وہ پیسے کسی اور شوق میں نہ اڑا دیں لیکن جالب صاحب کے اندر کے بچے نے دوسرے دن ہی مچلنا شروع کر دیا اور بیان جاری کیا کہ کشور ناہید وہ رقم خود ہڑپ کر گئی ہے۔ جالب صاحب کے شور مچانے سے سب نے مجبور ہو کر وہ رقم ان کے حوالے کر دی۔ صاحب کتاب کے مطابق بنیادی طور پر جالب ایک نامطمئن اور زود رنج طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے فیض سے لے کر ہر ادیب کو طعنوں سے نوازا۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے غیر جمہوری سیاستدانوں نے جالب صاحب کو بانس پر ایسے چڑھایا کہ وہ پھر اتر نہ سکے۔ جالب استعمال ہو گئے اور انہیں کسی کو استعمال کرنے کا فن نہیں آتا تھا۔
کتاب میں شامل دیگر اہم خاکوں میں ظہیر کاشمیری پر ’انقلاب کے شارٹ کٹ کا مسافر ‘ اور اے حمید پر ’ ایک رومانوی کردار اور سیلون ٹی ‘ کے عنوان سے لکھے گئے خاکے بہت دلچسپ ہیں۔ اپنے کالج دور کے استاد فرخ درانی اور اپنے بھائی ناصر علی سید پر لکھے گئے خاکوں میں اپنے تعلیمی اور بچپن کی یادداشتوں، خاندان کا احوال اور اپنے بھائی (جو پیشے کے لحاظ سے انگریزی کے پروفیسر تھے) کی موسیقی سے جنون کی حد تک عشق کی داستان قلمبند کی ہے۔ 20 صفحات پر مشتمل مسعود اشعر پر لکھا گیا خاکہ بھی بہت دلچسپ اور جان دار ہے جو مسعود اشعر کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کے ساتھ ساتھ ملتان میں گزری اصغر ندیم سید کی نجی و پیشہ ورانہ زندگی کی بھر پور تصویر پیش کرتا ہے۔