پریم چند کا پھٹا ہوا جوتا

پریم چندکو کون نہیں جانتا، شاید وہ نہیں جانتے جواردو نہیں جانتے ۔ پریم چند کو آپ جدید اردو افسانے کا جد امجد کہہ سکتےہیں۔ اُن کا شمار اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے سب سے بڑے مختصر افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔

ہندی ادب کے ماننے والے اسے ’اپنیاس سمراٹ‘ کہتے ہیں، جو کہ ناول نگاری کا بادشاہ ہے۔ انہوں نے تقریباً پینتیس برس کے ادبی کیریئر میں جو کچھ لکھا ذات، پات اور مذہب کی تفریق سے بالا تر ہوکر لکھا۔ اُن کی تحریروں میں کرب بھی  ہے اور حب الوطنی کا اظہاربھی، غربت کی تصویر کشی بھی ہے اور انسانی نفسیات کا بیان بھی۔ جس زمانے میں انہوں نے اردو افسانے میں یہ رجحانات متعارف کروائے اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ وہ آزادی کی تحریک کے جنون میں مبتلا تھے، انہوں نے اپنی 20 سال کی اچھی خاصی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا جو انہوں نے مہاتما گاندھی کی "عدم تعاون” تحریک کے جواب میں غربت اور تنگدستی کے طویل عرصے کے بعد حاصل کی تھی۔

اِس ملازمت سے پہلےبھی اُن کی پوری زندگی تنگدستی میں ہی گزری تھی جس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ دسویں جماعت میں تھے تو روزانہ دس میل ننگے پاؤں پیدل بنارس جاتے، ٹیوشن پڑھاتے اور رات کو گھر واپس پہنچ کراپنی پڑھائی کرتے۔ انہی حالات میں انہوں نے میں میٹرک کا امتحان پاس کیا، ریاضی میں کم نمبروں کی وجہ سےانہیں کالج میں داخلہ نہیں ملا تاہم ایک اسکول میں ملازمت مل گئی۔ بعد ازاں وہ مدرسوں کے سب انسپکٹر کے طور پر تعینات ہوئے لیکن جب عدم تعاون کی تحریک عروج پر تھی اور جلیانوالہ باغ کا واقعہ پیش آیا توانہوں نے نوکری سے استعفیٰ دینے کے بعد چرخی کی دکان کھولی جونہیں چلی۔ پھر انہیں کانپور کے ایک نجی اسکول میں ملازمت کرلی۔ انہوں نے لکھنؤ میں نیول کشور پریس کے لیے بھی کام کیا، نصابی کتابیں لکھیں، حکومت نے کئی بار ان کی تحریریں ضبط کیں۔ 1934 میں وہ ایک فلم کمپنی کی دعوت پر بمبئی آئے اور ایک فلم مزدور کی کہانی لکھی لیکن بااثر لوگوں نے بمبئی میں اس کی نمائش پر پابندی لگا دی۔ یہ فلم دہلی اور لاہور میں ریلیز ہوئی تھی لیکن بعد میں انڈسٹری میں بدامنی کے خدشے کے باعث وہاں بھی اس پر پابندی لگا دی گئی۔

اِس فلم میں انہوں نے خود ایک مزدور رہنما کا کردار ادا کیا تھا۔ پریم چند کی اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی مسلسل مشکلات اور بیماری کا شکار رہےاور بالآخر وہ 1936 میں وفات پا گئے۔ ذاتی زندگی کی مشکلات کے برعکس، پریم چند کو ادبی دنیا میں جو مقام حاصل ہوا وہ آج تک قائم ہے۔ اُن کی تحریریں بیسویں صدی کے اوائل میں رونما ہونے والی سماجی اور سیاسی تبدیلیوں اور زندگی کی شاندار اور حقیقی عکاسی کرتی ہیں ۔ اُن کی کہانیوں کے کردار عام لوگ تھے جن کی زندگیوں میں کوئی دلکشی نہیں تھی مگر پریم چند کے اندازِ تحریر نے اِن کرداروں کوجاندار بنا دیا۔ اُن کی کہانی پڑھ کر آپ اسے ختم کیے بنا نہیں رہ سکتے ۔ پریم چند اپنے وقت سے بہت آگے تھے جس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُن کی کہانیوں میں اُس وقت عورت کی عظمت اور اُس کے حقوق کے احترام کا جو احساس تھا وہ کسی ادیب کے ہاں نہیں ملتا۔ پریم چند کے افسانوں کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں ہوچکا ہے۔ انہوں نے اپنے بہترین افسانوں کا انتخاب بھی کیا جس میں بارہ کہانیاں شامل ہیں، جن میں ’شطرنج کی بازی‘ بھی ہے جس پر ستیہ جیت رائے نے ایک بہترین فلم بھی بنائی تھی۔

پریم چند کی زندگی سے متعلق یہ معلومات میری کسی کاوش کا نتیجہ نہیں، کوئی بھی گوگل کرکے پریم چند کے حالات زندگی اور اُن کے انداز تحریر کے بارے میں دو چار سطریں لکھ سکتا ہے۔ لیکن جس وجہ سے میں نے پریم چند کو گوگل کیا وہ اُن کی ایک تصویر تھی جو کسی نے مجھے ارسال کی جس میں پریم چند اپنی بیوی کے ساتھ بیٹے تھے۔ اُس تصویر کی خاص بات یہ تھی کہ پریم چند کے پیروں میں جو جوتا تھا وہ پھٹا ہوا تھا۔ یہ تصویر دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ پریم چند نے شہرت اور نام تو کمایا مگر پیسہ نہ بنا سکے ۔ پیسہ بنانا تو دور کی بات اُن کی زندگی باقاعدہ غربت میں گزری ۔ کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ پیروں میں پہننے کے لیے جوتا بھی نہیں خرید سکتے تھے  لیکن اِن حالات میں بھی انہوں نے نہ صرف شاہکار ادب تخلیق کیا بلکہ گاندھی جی کے ساتھ مل کر آزادی کی تحریک میں بھی حصہ لیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پریم چند کو دولت اور نام میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا پڑتا تو وہ کس کا انتخاب کرتے؟

اِس سوال کا جواب دینا مشکل ہے۔ اُن کے حالات ِزندگی پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے خوشحال زندگی کے لیے کوشش ضرور کی مگر کامیاب نہ ہوسکے اور اِس ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہ کیا۔ مثلاً اگر وہ اسکول انسپکٹر کے عہدے سے مستعفیٰ نہ ہوتے تو یقینا اُن کے حالات بہتر ہوتے مگر جلیاں والا باغ کے بعد انہوں نے انگریز سرکارکی نوکری چھوڑ دی ۔ انہوں نے بمبئی جاکر فلم بھی بنائی مگر وہ بھی انقلابی قسم کی جس کی طاقتور حلقوں نے مخالفت کی اور یہ قیمت بھی انہیں چکانی پڑی۔ پھر انہیں بمبئی فلم نگری کے انداز و اطوار بھی پسند نہ آئے تو وہاں سے بھی واپس آگئے ۔ سو یوں لگتاہے جیسے پریم چند نے زندگی میں دولت کو وہ ترجیح نہ دی جو عام لوگ دیتے ہیں۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر پریم چند جیسے عظیم لوگ دنیا میں پیدا نہ ہوتے تو یہ دنیا کیسی ہوتی ؟ اِس دنیا میں تو رنگ ہی ادیبوں، شاعروں، مصوروں ، موسیقاروں اور رقاصوں نے بھرا ہے۔ اِن کے بغیر انسانی اور حیوانی معاشرے میں کیا فرق ہوتا؟فنون لطیفہ سے وابستہ لوگ فطرتاً باغی ہوتے ہیں اور اِس بغاوت کی قیمت انہیں چکانی پڑتی ہے۔ تاہم اِس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر فنکار جب تک غربت کے عالم میں فوت نہیں ہوگا تب تک اُس کی عظمت کو سلام نہیں کیا جائے گا۔ دنیا کے بہت سے ادیب امیر گھرانوں میں پیدا ہوئے یا انہوں نے بعد میں دولت کمائی۔ سوال صرف یہ ہے کہ اگر انہیں بھی دولت اور شہرت (جو کہ انہیں اپنی تحریروں کی بدولت ملی) میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا تو وہ کیا کرتے؟

مثلاً لارڈ رسل سے اگر یہ سوال پوچھا جاتا تو وہ کیا جواب دیتے اور اگر کافکا سے پوچھا جاتا تو وہ کیا کہتا؟ برٹرینڈ رسل نے مرتے وقت جاگیر چھوڑی تھی جبکہ کافکا ایک سینی ٹوریم میں خون تھوکتا ہوا چالیس سال کی عمر میں مر گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ ہم یہ جان سکیں کہ دونوں کا جواب کیا ہوتا لیکن اگر اِن عظیم ادیبوں کی تحریروں کی بنیاد پر اندازہ لگانا ہو تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ادب کو دولت پر ترجیح دیتے۔ سو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ دولت کو ترجیح دیتے ہیں کیا وہ غلط انتخاب کرتے ہیں؟ کیونکہ اگر اِس دنیا کا ہر شخص دولت کو ترجیح دینا شروع کردے تو پھر ہم ایسی دنیا میں رہنے پر مجبور ہوں گے جہاں جوتے اور کپڑے فروخت کرنے والے تاجر تو ہوں مگر کوئی ادیب، شاعر، موسیقار، فلسفی،رقاص یامصور نہیں ہوگا۔ کیا ایسی دنیا کسی ارب پتی کے لیے بھی رہنے کے قابل ہوگی؟

یہ سوا ل میں آپ کے لیے چھوڑ کر جا رہا ہوں کیونکہ یہ موضوع ایسا ہے جس کا احاطہ ہزار بارہ سو الفاظ میں نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اُن سوالات کا حتمی جواب دیا جاسکتا ہے جو اِس کالم میں اٹھائے گئے ہیں۔ دولت ، شہرت، عزت، طاقت اور تخلیقی صلاحیت میں سے کس چیز کو دوسری پر ترجیح دی جائے، یہ بتانا ممکن نہیں۔ اگر دنیا فنکاروں کے بغیر بے رنگ ہوگی تو جوتے بیچنے والوں کے بغیر بھی تکلیف دہ ہوگی ، ہر کوئی پریم چند بننے کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔ دیکھنا صرف یہ ہوتاہے کہ آپ دنیا کو پہلے سے بہتر حالت میں چھوڑ کر گئے یا اسے برباد کرنے میں اپنا حصہ ڈال گئے۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)