قومی مقدسات میں اضافہ نہ کیا جائے!
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 09 / جولائی / 2023
وزیر اعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے پر قاتلانہ حملہ کی سوشل میڈیا مہم کے محرک ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ اسی قسم کی مہم جوئی ہے جو 9 مئی کے واقعات سے پہلے شروع کی گئی تھی اور جس کے نتیجے میں عسکری تنصیبات اور شہدا کی یاد گاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے تمام سرکاری اداروں کو حکم دیا ہے کہ آرمی چیف کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے عناصر کا سراغ لگا کر انہیں عدالتی کٹہرے تک لایا جائے۔
آرمی چیف پر قاتلانہ حملہ کی مہم کے خلاف سخت بیان وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہؤاتھا لیکن اس میں عمران خان یا تحریک انصاف کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ البتہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بیان کے فوری بعد ایک ٹوئٹ میں اس افسوسناک مہم کا ذکر کرتے ہوئے براہ راست عمران خان پر اس کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس مہم کا مقصد بھی اسی طرح لوگوں کی ذہن سازی کرنا ہے جیسے 9 مئی کے احتجاج سے پہلے کی گئی تھی۔ وزیر اعظم کا دعویٰ تھا کہ عمران خان حصول اقتدار کے پاگل پن میں اب سوشل میڈیا پر آرمی چیف کے خلاف مہم جوئی کا حصہ ہیں اور اپنے چیلوں کے ذریعے جنرل عاصم منیر کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے لیکن اب اس کا پردہ فاش ہوگیا ہے۔
تحریک انصاف نے ایک بیان میں وزیر اعظم کے بیان کو شرمناک ، غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کا شخص وزارت عظمی کے عہدے کے قابل نہیں ہے۔ وہ صرف بے چینی اور انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف نے اس بیان میں فوجی قیادت کی آڑ میں اشتعال انگیز بیانیہ ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔ پارٹی نے متنبہ کیا کہ’ اس قسم کی حرکتوں کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں‘۔ پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے سانحہ 9 مئی کی تحقیقات کروائی ہیں اور کیا ان واقعات کا سبب بنے والے عناصر کا سراغ لگایا ہے؟ کوئی ملک جھوٹے بیانیے یا عوام کے خلاف طاقت کے اندھادھند استعمال سے ترقی نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے سچ بیان کرنے اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
حیرت انگیز طور پر تحریک انصاف نے وزیر اعظم کے الزام کی براہ راست تردید کرنے کی بجائے اپنے جوابی بیان میں سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کی ہے۔ اگرچہ پارٹی کا یہ مؤقف درست ہے کہ کسی وزیر اعظم کو کسی سیاسی لیڈر یا شہری کا نام لے کر ایک گھناؤنے جرم کا الزام عائد نہیں کرنا چاہئے۔ اگر حکومت کے پاس اس قسم کے کسی جرم کے ثبوت و شواہد موجود ہیں تو ان کی بنیاد پر بیان جاری کرنے کی بجائے، عملی اقدام کرتے ہوئے متعلقہ افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمے چلانے چاہئیں۔ البتہ اگر تحریک انصاف اس بیان کو محض سیاسی پیغام رسانی تک محدود نہ رکھتی بلکہ وزیر اعظم کی طرف سے عمران خان پر عائد کئے گئے الزام کو دو ٹوک اور واضح الفاظ میں مسترد کیا جاتا تو اس سے وزیر اعظم کے بیان کی کمزوری زیادہ بہتر طور سے ظاہر کی جاسکتی تھی۔ نہ جانے وہ کون سی وجوہات ہیں کہ تحریک انصاف نے تردیدی بیان میں عمران خان پر لگائے گئے الزام کا براہ ارست جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔
البتہ تحریک انصاف کے اس مؤقف سے انکار ممکن نہیں ہے کہ وزیر اعظم کا بیان افسوسناک ہے اور اس ذمہ دار پوزیشن پر فائز ہوتے ہوئے انہیں سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے خطرناک اور اشتعال انگیز بیان نہیں دینے چاہئیں۔ یوں بھی سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے سرکاری اداروں کو سوشل میڈیا پر آرمی چیف پر قاتلانہ حملہ کی مہم چلانے والے عناصر کا سراغ لگانے کا حکم دیا ہے۔ بیان کے اس پہلو سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی تو حکومت نے ایسی مہم کا صرف نوٹس لیا ہے اور اس پر نہ تو تحقیقات ہوئی ہیں اور نہ ہی یہ پتہ چلایا جاسکا ہے کہ اس میں کون لوگ یا عناصر ملوث ہیں۔ یہ مہم ملک کے اندر سے چلائی جارہی ہے یا کچھ لوگ بیرون ملک سے اس قسم کی مہم چلاکر پاکستان میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
اس مہم کے بارے میں ملکی میڈیا پر کوئی خاص معلومات بھی سامنے نہیں آئیں بلکہ وزیر اعظم کے بیان سے یہ انکشاف ہؤا ہے کہ سوشل میڈیا پر آرمی چیف کے خلاف ایسی کوئی مہم چلائی جارہی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت کو خود ہی پتہ نہیں ہے کہ اس مہم کے درپردہ کون سے لوگ ملوث ہیں تو انہوں نے کس بنیاد پر عمران خان کا نام لے کر اس مہم کو عمران خان کے سیاسی عزائم سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اگر شہباز شریف کے پاس اس بارے میں واقعی ایسی معلومات ہیں جو ابھی حکومت کو بھی دستیاب نہیں ہیں تو انہیں پہلے سرکاری اداروں کو وہ معلومات فراہم کرنی چاہئیں تھیں۔ اس کے بعد بیان بازی سے سیاسی مقاصد بھی حاصل کئے جاسکتے تھے۔ لیکن ایک مجرمانہ مہم اور سیاسی بیان بازی کو ملانے سے خطرناک الجھن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا حکومت یا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔
اس حوالے سے یہ پہلو بھی باعث حیرت ہے کہ آرمی چیف کی جان یا شہرت کی حفاظت کا بیڑا براہ راست وزیر اعظم کیوں اٹھانے پر مجبور ہوگئے۔ جنرل عاصم منیر طاقت ور عسکری ادارے کے سربراہ ہیں۔ ان کے زیر نگرانی متعدد باوسیلہ ایجنسیاں آرمی چیف کی حفاظت کے لئے مستعد رہتی ہیں۔ ایسی کسی بھی مہم جوئی کا سب سے پہلے نوٹس ان ہی ایجنسیوں کو لینا چاہئے اور ان کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔ بلاشبہ متعلقہ اداروں کو اگر کوئی خطرناک صورت حال یا سوشل میڈیا مہم کا پتہ چلا ہوگا تو اس کے سدباب کے لئے بھی مؤثر اور ٹھوس اقدامات کئے گئے ہوں گے۔ اگر اس معاملہ میں عوام کو معلومات فراہم کرنا ضروری سمجھا جاتا تو پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ پریس ریلیز یا پریس کانفرنس کے ذریعے معلومات دے سکتا تھا۔ لیکن جیسا کہ میڈیا میں اس بارے میں کوئی خبر نہیں آئی بعینہ آئی ایس پی آر نے بھی ایسی خطرناک مہم کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
وزیر اعظم کا بیان نامکمل اور اصل وقوعہ کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ بلکہ اس کی نوعیت ایک سیاسی بیان کی ہے جس کے ذریعے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ تحریک انصاف کا چئیرمین ایک ’مجرمانہ ذہنیت‘ کا شخص ہے جو اپنے حواریوں کے ذریعے سوشل میڈیا پرعوام میں مجرمانہ سرگرمیوں کے بارے میں رائے بنانا چاہتا ہے۔ یہ ایک غیر ذمہ دارانہ بیان ہے جس سے عوام میں ہیجان پیدا ہونا فطری ہے۔ ملک میں اس وقت سیاسی اختلافات کی وجہ سے خطرناک سماجی تقسیم موجود ہے۔ کسی بھی لیڈر کو اس صورت حال کو پیچیدہ کرنے اور اس سے کسی مخالف فریق کو نقصان پہنچانے کی حکمت عملی سے گریز کرنا چاہئے۔
شہباز شریف کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر آرمی چیف کے خلاف قاتلانہ حملے کی مہم مجرمانہ فعل ہے۔ آزادی اظہار کے نام پر اس طریقہ کار کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وزیر اعظم کا یہ تبصرہ چونکہ نامکمل معلومات کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے، اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ آزادی اظہار کو اس معاملہ میں متعلقہ بحث سمجھنا کیوں ضروری سمجھا گیا۔ آرمی چیف یا کسی بھی شہری کے خلاف اگر اقدام قتل کے حوالے سے رائے کا اظہار کیا جاتا ہے یا ایسے مباحث شروع کئے گئے ہیں تو یہ ایک غیر قانونی حرکت ہے۔ متعلقہ قوانین کے تحت ایسے عناصر کے خلاف ضرور کارروائی ہونی چاہئے لیکن اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس مہم کے بارے میں تفصیلی معلومات بھی پیش نظر ہوں اور یہ معلوم ہو کہ وزیر اعظم کو کیوں یہ دلیل دینا پڑی کہ ایسی مہم آزادی اظہار نہیں ہوسکتی۔
پورے پس منظر کے بغیر ایک سیاسی پارٹی اور لیڈر کے خلاف ایک خاص رائے استوار کرنے کی کوشش ملک میں سیاسی استحکام اور باہمی احترام کے رویوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یوں بھی وزیر اعظم یہ بتانے کا مجاز نہیں ہوسکتا کہ کون سی گفتگو آزادی اظہار ہے اور کس بات کو اس آزادی سے متصادم قرار دینا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے صحافی برادری ، میڈیا مالکان اور دیگر متعلقہ ادارے ہی کوئی صائب اور قابل قبول رہنما اصول متعین کرسکتے ہیں۔ تاہم اس مقصد کے لئے ضروری ہوگا کہ حکومت مہم جوئی کے اس تمام متن کو جاری کرے جس کی بنیاد پر نہ صرف ایک پارٹی اور اس کے لیڈر کو مطعون کیا گیا ہے بلکہ آزادی رائے کو محدود کرنے کا فرمان بھی جاری کرنا ضروری سمجھا گیا ہے۔
ملک میں آزادی اظہار کی صورت حال مستحسن نہیں ہے ۔ حکومت صحافیوں کی حفاظت کرنے، میڈیا پر آزادانہ خبروں و تبصروں کی تشہیر کی ضمانت دینے اور رائے کی بنیاد پر ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ کل رات ہی کراچی میں روزنامہ جنگ کے ایک رپورٹر کو پولیس کے ساتھ آنے والے بعض لوگوں نے اٹھا لیا اور پولیس حکام یہ بتانے سے قاصر تھے کہ اس صحافی کو کن عناصر نے کس جرم کی بنیاد پر غائب کیا ہے۔ ان حالات میں وزیر اعظم سوشل میڈیا پر بعض تبصروں کی بنیاد پر اگر آزادی رائے کا موضوع زیر بحث لانا چاہتے ہیں تو انہیں تمام معلومات بھی عوام کے سامنے رکھنی چاہئیں۔ اشتعال انگیز بیانات سے جمہوریت اور سماجی اطمینان کو خراب کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ملک میں اصل طاقت کس کے پاس ہے۔ اب وزیر اعظم اگر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کے بیان کے بغیر آرمی چیف ’غیر محفوظ ‘ ہیں تو یا تو وہ غلط فہمی کا شکار ہیں یا وہ جان بوجھ کر آرمی چیف کی آڑ میں کوئی سیاسی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یوں بھی آرمی چیف ملک کے کروڑوں لوگوں کی طرح ایک شہری ہیں گوکہ وہ ایک اہم عہدہ پر فائز ہیں اور اس حیثیت میں انہیں مناسب تحفظ بھی حاصل ہے۔ وزیر اعظم کا بیان آرمی چیف کو ایک نئی ’مقدس گائے‘ قرار دینے کے مترادف ہے، یعنی حکومت اظہار رائے کے حوالے سے ایک نیا نو گو ایریا متعین کرنا چاہتی ہے۔ یہ خطرناک رویہ ہے۔ بہتر ہوگا کہ ملک کی مقدسات میں اضافہ نہ کیا جائے اور آرمی چیف کو بھی اپنی پوزیشن سے باوصف ایک عام انسان ہی رہنے دیا جائے۔ شہریوں کو ان کے اقدامات پر رائے دینے اور ان کے بارے میں اپنا تصور قائم کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔