ترکیہ نے نیٹو میں سویڈن کی شمولیت کے سوال پر شرط عائد کردی
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- سوموار 10 / جولائی / 2023
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اگر یورپی ممالک ترکیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کی راہ ہموار کریں تو انقرہ نیٹو میں سویڈن کی شمولیت کی توثیق کرسکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لیتھونیا میں منگل کو مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد نیٹو کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے صدر جو بائیڈن سے ٹیلیفونک رابطے میں صدر اردوان نے سویڈن کی مغربی اتحاد میں شمولیت پر اپنے تحفظات دہرائے تھے۔
ترکیہ کے مطالبات کے بعد سویڈن نے انسدادِ دہشت گردی کے ایک نئے قانون سمیت اصلاحات کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور پیر کو سویڈش وزیرِ خارجہ نے نیٹو میں شمولیت سے متعلق اعتراضات سے دست برداری کی امید ظاہر کی ہے۔
ترکیہ سویڈن پر کرد عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ نرمی برتنے کا الزام عائد کرتا ہے۔ گزشتہ ماہ سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ایک شخص کی جانب سے قرآن نذر آتش کرنے کے بعد ترکیہ نے نیٹو میں شمولیت سے متعلق سویڈن سے بات چیت ایک بار پھر معطل کردی تھی۔
دریں اثنا امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے لتھوینیا کے دارالحکومت ویلنیئس جاتے ہوئے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تاکہ ترکیہ کی جانب سےسویڈن کی نیٹو اتحاد میں شمولیت پر رضامندی کی راہ ہموار ہو سکے۔
وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے لندن جاتے ہوئے ایئر فورس ون میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ (ایسا ہونا) کتنا قریب یا کتنا دورہے، میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سویڈن کو جلد از جلد نیٹو میں شامل کیا جانا چاہیے۔
دوسری طرف ترکیہ نے صدر جو بائیڈن کی ٹیلی کال پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ سویڈن نے درست سمت میں کچھ اقدامات کیے ہیں لیکن اسٹاک ہوم کی نیٹو میں شمولیت کی درخواست کو تقویت دینے کے لیے خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی گئی ۔ترکیہ نے سویڈن پر الزام لگایا ہے کہ وہ عسکریت پسند کرد تنظیموں کے ساتھ بہت نرمی برتتا ہے جنہیں ترکیہ دہشت گرد گروہ قرار دے چکا ہے۔