کیا نواز شریف ، شہباز شریف کو شکست دے سکتے ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 10 / جولائی / 2023
وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ نواز شریف پاکستان آنے اور چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے لئے پرتول رہے ہیں۔ اب تو انہوں نے اپنے رفقا کو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ پاکستان واپس آنے کے لئے اگر انہیں گرفتاری بھی دینی پڑی تو وہ اس کے لئے بھی تیار ہیں۔ یہ بیان قومی مقصد کے لئے نوازشریف کے کسی ایثار کی خبر نہیں دیتابلکہ معروضی حالات میں ان کی شدید بے چینی ظاہر کرتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ انتخابات سے پہلے ان کا پاکستان واپس آنا اور کسی بھی طرح عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی گو کہ یہ اعلان تو نہیں کرتی لیکن اس خواہش کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں جارہی کہ آصف علی زرداری کی سیاست کا محور آئیندہ انتخابات کے بعد بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنوانا ہے۔ ملکی سیاسی منظر نامہ میں پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت کے تناظر میں اس کا امکان تو نہیں ہے لیکن آصف زرداری جوڑ توڑ کے بادشاہ ہیں اور وقت آنے پر اگر تحریک انصاف کے ساتھ الحاق کرکے بھی انہیں مخلوط حکومت بنانا پڑی تو وہ اس پر بھی آمادہ ہوں گے۔ دونوں پارٹیوں میں بظاہر شدید اختلافات کے باوجود باہمی روابط موجود رہے ہیں جس سے اس قیاس کو تقویت ملتی ہے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ایسے رابطوں کی خبر سامنے نہیں آئی۔
جیسے پیپلز پارٹی کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری وزارت عظمی کے امید وار ہیں لیکن اس کا اعلان نہیں کیا جاتا ، اسی طرح نواز شریف بھی چوتھی بار وزارت عظمی کی خواہش رکھتے ہیں لیکن وہ بھی اس کا اعلان کرنے سے کترا رہے ہیں۔ البتہ پارٹی میں ان کے وفادار ملکی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے تواتر سے یہ اعلان کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کو صرف نواز شریف ہی معاشی مسائل سے نکال سکتا ہے۔ ملکی سیاسی بیانات میں دلیل اور شواہد فراہم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی بلکہ ایسی بیان بازی کا مقصد عوام اور حامیوں میں ایک خاص طرح کا مزاج تیار کرنا ہوتا ہے۔ نواز شریف ایسے بیانات کے ذریعے یہ مقصد بخوبی حاصل کررہے ہیں۔ تاکہ انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد سیاسی حالات دیکھ کر مناسب موقع پر وہ اپنی پوزیشن واضح کریں تو کسی کو حیرت نہ ہو۔
البتہ حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی آئیندہ مدت کے لئے اس عہدے پر فائز رہنے کی خواہش رکھتے ہیں اور وہ اس کی تیاری بھی کررہے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ نواز شریف کے ساتھ مکالمہ میں کس حد تک اپنی اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں لیکن فوج کے بارے میں شہباز شریف کا مفاہمانہ رویہ انہیں ایک طاقت ور اور شاید دیگر سب لیڈروں سے زیادہ قابل قبول امیدوار کے طور پر سامنے لاتا ہے۔ وہ ہمیشہ اسٹبلشمنٹ کی بالادستی کے حامی رہے ہیں اور اس معاملہ پر نواز شریف کے ساتھ ان کے اختلافات کبھی خفیہ نہیں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں 2018 کے انتخابات کے دوران ایسے ’ہائبرڈ ‘ نظام حکومت کی بنیاد رکھی جارہی تھی جس کی باگ ڈور فوج کے ہاتھ میں ہو تو شہباز شریف کو وزارت عظمی کی پیش کش کی گئی تھی۔ تاہم اس کے لئے شرط یہی تھی کہ وہ نواز شریف سے سیاسی فاصلہ کرلیں۔ شہباز شریف یہ قیمت ادا کرنے پر راضی نہیں ہوئے اور اقتدار کا ہما عمران خان کے سر پر جا بیٹھا۔ بھائی کے ساتھ وفاداری کے نتیجہ میں شہباز شریف کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں اور انہیں عمران حکومت کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
تاہم اب حالات کا پانسہ پلٹ چکا ہے۔ سانحہ 9 مئی نے کسی حد تک تحریک انصاف کو سیاسی میدان سے باہر کردیا ہے۔ عمران خان اور ان کے حامی خواہ کیسے ہی پرجوش اعلانات کرتے رہیں یا امیدوں کے محل تعمیر کریں لیکن دریں حالات یہ امکان نہیں ہے کہ تحریک انصاف کو کسی بھی اسمبلی میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اگلے ماہ کے دوران میں قومی اسمبلی ٹوٹنے اور نگران حکومت قائم ہونے تک کے وقفہ میں شاید یہ طے ہوجائے گا کہ ذاتی طور پر عمران خان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا۔ یعنی انہیں ذاتی حیثیت میں انتخابی مہم چلانے اور انتخاب لڑنے کا موقع ملتا ہے یا کسی قانونی راستے سے انہیں نااہل قرار دے کر سیاست سے باہر کردیاجائے گا۔
عمران خان کو نااہل قرار دینے کی صورت میں شاہ محمود قریشی اور پرویز الہیٰ جیسے لیڈروں کے ذریعے تحریک انصاف کو منظم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ البتہ ایسی صورت میں تحریک انصاف قومی اسمبلی میں شاید دس پندرہ نشستوں سے زیادہ نمائیندگی حاصل نہ کرسکے۔ تاہم اگر عمران خان کو ’فری ہینڈ‘ دینے کا فیصلہ ہوتا ہے تو شاید پی ٹی آئی کو زیادہ تعداد میں نشستیں مل جائیں اور کسی نہ کسی سطح پر وہ بارگیننگ پوزیشن میں بھی آجائے۔ تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی سمجھوتہ کرنے کے لئے آصف زرداری ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں ہوں گے۔ البتہ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا عمران خان اپنے بجائے بلاول بھٹو کی سیادت کو قبول کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ اور اس سے بھی اہم یہ سوال ہوگا کہ کیا اسٹبلشمنٹ 9 مئی کے پس منظر میں عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف پر کسی بھی قسم کا اعتبار کرنے پر آمادہ ہوگی۔ موجودہ حالات میں تو اس کا امکان نہیں ہے۔ اور اگر صورت حال یوں ہی برقرار رہی تو آصف زرداری کے پاس مسلم لیگ (ن) اور نئی قائم شدہ استحکام پاکستان پارٹی کی طرف دیکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
تحریک انصاف کی ٹوٹ پھوٹ اور عمران خان کے سیاسی مستقبل پر چھائے ہوئے گہرے بادلوں کی وجہ سے نواز شریف اس وقت پنجاب کے اہم ترین لیڈر سمجھے جارہے ہیں۔ اگرچہ شہباز حکومت کے دوران کئے گئے مشکل مالی فیصلوں کی وجہ سے عوام پر مہنگائی اور معاشی بدحالی کا بوجھ لادا گیا ہے لیکن اس کے باوجود نواز شریف کو پنجاب کی سیاست میں غیر متعلق نہیں کیا جاسکتا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب سے اتنی تعداد میں نشستیں حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوجائے گی کہ پنجاب کے علاوہ وفاق میں اگلی حکومت بنانے کے لئے وہ سب سے بہتر پوزیشن میں ہو۔ یہ اندیشہ موجود نہیں ہے کہ شہباز شریف انتخابات سے پہلے نواز شریف کے ساتھ سیاسی تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس لئے قیاس ہے کہ مسلم لیگ (ن) متفقہ طور سے انتخابات میں حصہ لے گی تاہم انتخابات کے بعد حکومت سازی کے وقت شہباز شریف اپنے بھائی سے مختلف سیاسی پوزیشن لے سکتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوگی کہ وہ اگلی مدت میں بھی وزیر اعظم بنیں تاکہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے اختلافات کا اندیشہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔
آصف زرداری اور نواز شریف نے اپنے اپنے وقت میں اسٹبلشمنٹ کو للکارا تھا اور پھر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے لئے مل کر اسٹبلشمنٹ کے سہولت کار بھی بنے ہیں۔ تاہم ماضی کے تجربات اور ’محبت و نفرت‘ کی تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو اسٹبلشمنٹ پیپلز پارٹی اور نواز شریف کے بارے میں یکساں طور سے تحفظات رکھتی ہے۔ آئیندہ انتخابی نےنتائج اگر اسٹبلشمنٹ کی خواہش و کوشش کے نتیجہ میں سامنے آئے تو اس کی خواہش ہوگی کہ کوئی ایسا وزیر اعظم منتخب ہو جس کے ساتھ تعاون میں کسی قسم کی کوئی مشکل درپیش نہ ہو۔ نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف میں سے اگر کسی ایک کو اس عہدے کے لئے چننا ہو تو اسٹبلشمنٹ کا وزن بلاشبہ شہباز شریف کے پلڑے میں ہوگا۔ حالیہ دنوں میں شہباز شریف فوج کو رجھانے اور آرمی چیف کے ساتھ قریبی تعلق استوار کرنے میں پوری گرم جوشی سے مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ کل ہی وہ آرمی چیف کے خلاف سوشل میڈیا مہم کے سوال پر عمران خان پر براہ راست حملہ آور ہوئے تھے اور واضح کیا تھا کہ وہ پوری سیاسی قوت کے ساتھ آرمی چیف کی پشت پر ہیں۔
آج اسلام آباد میں منعقدہ غذائی تحفظ قومی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’زرعی انقلاب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کا ویژن ہےجس سے آئندہ پانچ برس میں 50 ارب ڈالرز تک سرمایہ کاری اور چالیس لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے‘۔ اس موقع پر آرمی چیف عاصم منیر بھی موجود تھے ۔ انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سب یہاں پاکستان کو ایک بار پھر سر سبز کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔ پاکستان کو ا للہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ ہم باصلاحیت قوم ہیں۔ ہمیں ملکی ترقی میں حصہ ڈالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے بحیثیت ادارہ مکمل جانفشانی اور قلب و روح کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ کی رحمت سے صرف کافر مایوس ہوتے ہیں‘۔
حالیہ دنوں میں آرمی چیف متعدد مواقع پر وزیر اعظم کے ہمراہ مختلف تقاریب میں دیکھے گئے ہیں اور ان دونوں کے درمیان قریبی ہم آہنگی بھی نوٹ کی گئی ہے۔ سوال ہے کہ ملکی سیاسی جوڑ توڑ میں وزیر اعظم کے چناؤ کے لئے حتمی فیصلہ اگر فوج نے کیا تو کیا نواز شریف ، شہباز شریف کو شکست دے سکیں گے؟ یا وقت سے پہلے ہی وہ صورت حال کو بھانپ کر اپنا سیاسی وزن شہباز شریف کے پلڑے میں ڈال دیں گے؟ موجودہ حالات میں اس کا جواب موجود نہیں ہے لیکن اس امکان کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں ہے کہ ملک کے آئیندہ وزیر اعظم بدستور شہباز شریف ہوں۔