ژوب گیریژن پر حملے میں 4 فوجی جوان شہید، 5 شدید زخمی
بلوچستان میں ژوب کے علاقے گیریژن میں دہشت گردوں کے حملے میں 4 فوجی جوان شہید اور دیگر 5 شدید زخمی ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان میں ژوب کے علاقے کینٹ میں آج علی الصبح دہشت گردوں کے ایک گروپ نے حملہ کیا۔ دہشت گردوں نے تنصیب میں گھسنے کی ابتدائی کوشش کی جسے ڈیوٹی پر موجود فوجیوں نے چیک کر لیا۔ اس دوران فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جس نے دہشت گردوں کو چھوٹی جگہ پر محدود کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک 3 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مزید 2 دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ کلیئرنس آپریشن کے دوران 4 فوجی جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ دیگر 5 شدید زخمی ہو گئے۔
سیکیورٹی فورسز بلوچستان اور پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کی ایسی تمام گھناؤنی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
قبل ازیں ژوب کے ڈپٹی کمشنر عظیم کاکڑ نے بتایا کہ نامعلوم شرپسندوں نے کینٹ پر حملہ کر دیا۔ فائرنگ کی زد میں آکر ایک خاتون جاں بحق جبکہ 5 شہری زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق شدید زخمی افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ بھیجا جارہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ڈیرہ اسمٰعیل خان سے آنے والی مسافر بس بھی فائرنگ کی زد میں آگئی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ژوب گیریژن میں دہشت گردوں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 4جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدا قوم کا فخر ہیں۔ وزیراعظم نے شہدا کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ شہدا ہماری قوم کا فخر ہیں، سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جان نچھاور کرکے ملک کو بہت بڑے جانی نقصان سے بچایا، پاکستانی قوم اپنے شہدا کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے جاری بیان میں ژوب گیریژن پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی ہے۔