اگر میثاق جمہوریت پر عمل ہوجاتا
- تحریر مظہر عباس
- بدھ 12 / جولائی / 2023
سال2023 الیکشن کا سال ہے مگر آج بھی بہت سے لوگوں کو یقین نہیں کہ عام انتخابات اکتوبر یا نومبر میں ہوجائیں گے ۔ بدقسمتی سے خود ان کو بھی یقین نہیں جنہیں الیکشن کرانے ہیں۔
1073 کے آئین کو پورے 50سال اور جمہوری تسلسل کو15سال مکمل ہوگئے ہیں پھر بھی ہم مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوئے ہیں۔ اور جن قوتوں کو سیاسی عمل سے دور رکھنے کیلئےتاریخی دستاویز’میثاق جمہوری‘‘ پر2006 میں دوسابق وزرائے اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف نے دستخط کئے تھے، وہ آج پہلے سے زیادہ مضبوط نظر آتی ہیں جس کی بڑی وجہ اس پر عمل درآمد نہ کرنا ہے۔
اس میثاق کے تحت ایک ’قومی جمہوری کمیشن‘ بننا تھا جو معاشرے میں جمہوری کلچر کو فروغ دیتا۔ اگر ایسا کوئی کمیشن بنتا تو شاید ان 15برسوں میں جمہوریت کے ساتھ جو مذاق ہوا وہ نہ ہوتا۔ اس کے صرف چند نکات آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں جن پر عمل سے مسائل کا حل نکلتا ہے۔ مثلاً اس میں لکھا ہے کہ ایک وفاقی آئینی کورٹ تشکیل دیا جائے گا جو صرف آئینی معاملات کے مقدمات سنے گا۔ ان15سال میں اور کچھ نہیں تو یہی کام ہوجاتا۔ اسی میثاق میں بلدیاتی نظام کے بارے میں واضح طور پرلکھا ہے کہ ملک میں بلدیاتی الیکشن ٹرم پوری ہونے کے90روز کے اندر ہوں گے اور بلدیاتی اداروں کو مکمل طور پرخودمختار اور بااختیار بنایا جائے گا۔ یہ بھی اس میں موجود ہے کہ انتخابات تک ایک غیر جانبدار ایڈمنسٹریٹر کا تقرر ہوگا۔
اس دستاویز کا ایک اہم نکتہ ایک ایسے کمیشن کا قیام تھا جو ’حقائق‘ جاننے کیلئے بننا تھا، ان واقعات پرجہاں ریاستی پشت پناہی میں ٹارچر ، غیر قانونی گرفتاری اور نظر بندی شامل ہو اور سیاسی بنیادوں پر قائم احتساب ہو۔
قومی سلامتی کونسل کو ختم کرکے کابینہ کو دفاعی کمیٹی بنانے کی بات بھی کی گئی تھی جس کی سربراہی وزیر اعظم کے پاس ہو۔ اس پر کچھ پیش رفت ہوئی بھی۔ 18ویں ترمیم ایک بہتر اقدام تھا جس سے خاصی حد تک صوبائی خود مختاری کا مسئلہ حل ہوگیا۔ مگر صوبوں سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونے کی بات عملی شکل میں سامنے نہ آئی جس سے نہ صرف سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا بلکہ ایک مضبوط سیاسی نرسری قائم نہ ہوسکی۔
میثاق جمہوریت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں قائد حزب اختلاف کو دیے جانے کی بات تھی مگر قومی اور پنجاب اسمبلی کے سوایہ عہدہ اپوزیشن کو نہ دیا گیا ۔ میں نے ایک بارجب یہ سوال سندھ کے وزیر اعلیٰ سے کیا تو ان کے جواب سے مایوسی ہوئی: ’ یہ میثاق تو دو جماعتوں کے درمیان ہوا تھا یہاں اپوزیشن لیڈر دوسری جماعت سے ہے‘۔ میں نے کہا شاہ صاحب یہ میثاق دو جماعتوں کیلئے نہیں ملک میں جمہوریت مستحکم کرنے کیلئے ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے دور رکھنے کیلئے یہ بھی طے ہواتھا کہ آئندہ نہ کسی فوجی حکومت کا حصہ بنا جائےگا نہ ہی ان کی پشت پناہی سے کوئی حکومت بنائی یا گرائی جائے گی ۔ اب ’ آپ خود اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں …. ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی‘۔ بہتر ہوتا اگر اس میثاق جمہوریت پر نہ صرف عمل درآمدہوتا بلکہ دیگر جماعتوں بشمول تحریک انصاف کو2008میں ہی اس میثاق کا حصہ بنانا چاہئے تھا۔ بدقسمتی سے ہوا اس کے برخلاف چند شقوں کو چھوڑ کر اس میثاق کو ایک طرف رکھ کرسیاسی تلخیوں کو مزید بڑھایا گیا۔ پہلے ججوں کی بحالی کے معاملے پر اختلافات اتنے بڑھے کہ میاں صاحب کو لانگ مارچ کرنا پڑا اور جب دباؤ بڑھا تو جومسئلہ میاں صاحب اور زرداری صاحب خود حل کرسکتے تھے اس میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کی گارنٹی لی گئی ۔ یوں2009 کے بعد ان کے راستے جدا ہوگئے۔
18ویں ترمیم سیاسی جماعتوں کا بڑا کارنامہ ہے مگر اختیارات مرکز سے صوبوں تک منتقل توہوئے مگر اس کی اصل روح کے مطابق صوبوں سے بلدیات تک منتقل نہ کئے گئے۔ یہ وہ عوامل ہیں جن کی بنا پر 15سال جمہوری تسلسل ہونے کے باوجود جمہوریت کمزور ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2008سے 2014 تک ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سیاسی جماعتوں خاص طور پر عوامی نیشنل پارٹی، پی پی پی اور ایم کیو ایم کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔
ان 15 برسوں میں ہم نے دو حکومتوں پی پی پی (2008-2013) اورمسلم لیگ ن (2013-2018) کو مدت پوری کرتے تو دیکھا مگر جمہوریت مستحکم نہ ہوئی جس کی بڑی وجہ ادارہ جاتی ریفارمز کا نہ ہونا ہے۔ ہم اس حد تک تو آگئے کہ حکومت اور اپوزیشن اتفاق رائے سے چیئرمین الیکشن کمیشن کا تقرر کرتےہیں، چیئرمین نیب کے تقرر کیلئے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی منظوری دیتی ہے، ججوں کے تقرر میں بھی جو ڈیشل کمیشن کا رول ہے تو پھر اگر کوئی بہتر کارکردگی نہیں دکھتی ، چاہے معاملہ الیکشن کا ہو یا احتساب کا ، ذمہ داری تو تقرر کرنے والے کی بھی بنتی ہے۔ اب تو الیکشن بھی ایک نگران حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں جو حکومت اور اپوزیشن مل کر بناتی ہیں ورنہ تو ہمارے پڑوس میں ایسا طاقتور الیکشن کمیشن ہے کہ نگران کی ضرورت ہی نہیں۔
اسی میثاق کی شق(21)میں درج ہے کہ انتخابات کے نتائج کا احترام کیا جائے گا اور ساتھ میں اپوزیشن کے رول کا بھی۔ اور یہ بھی واضح طور پرلکھا ہے کہ سیاستدانوں سمیت تمام فوجی افسران اور عدلیہ کے ججرز اور افسران اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں گے۔ لکھا تو یہ بھی گیا ہے کہ سول ملٹری تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی۔ میثاق میں ملک میںاسٹیبلشمنٹ کی بے جا مداخلت کے سیاست اور معیشت پر منفی اثرات کی بھی بات کی گئی ہے اور کہاگیا ہے کہ اس کی سمت کا تعین کیا جائے۔ یہ میثاق جمہوریت2006میں تیار ہوا آج 2023 ہے۔ اس دوران ان دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے پانچ سال پورے کئے اور15ماہ سے مشترکہ حکومت ہے، جوخود ہی جائزہ لے لے اس سے پہلے کہ کسی اور میثاق پر بات کی جائے۔ اب میں میثاق جمہوریت ہونے کا جشن مناؤں یا اسے دفنانے کا غم۔
پچھلے 15برسوں میں ہم نے ایک قدم آگے بڑھایا تو دوقدم پیچھے گئے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ پارلیمنٹ وہ اقدام کررہی ہے جس پر آگے جاکراسے شرمندہ ہونا پڑے گا۔ سیاست میں بھی خلا پیدا ہورہا ہے اور صحافت میں بھی۔ آج صحافی بھی لاپتہ ہیں اور صحافت بھی۔ جنگ کے رپورٹر محمد عسکری کوکون لےگیا اور عمران ریاض کب اپنے گھر واپس آئے گا۔ وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے ان کے قاتل کہاں ہیں؟ اگر آج بھی یہی حال ہے تو کیسی جمہوریت اور کیسا میثاق ؟۔ ٓپ کو شاید یقین نہ آئے مگر اب صحافت صرف ’ پانچ منٹ‘ کی مار ہے۔ قصر شاہی سے حکم صادر ہوتا ہے یا دربار میں حاضری لگتی ہے، بس اتنی سی بات ہوتی ہے : ’یہ نہیں چلے گا اور وہ نہیں چلے گا‘۔ جواب کی اجازت نہیں بس خاموشی سے حکم بجالایا جاتا ہے۔ جمہوریت زندہ باد،آزادی صحافت زندہ باد!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)