پنجاب حکومت اور سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک

صوبہ پنجاب کی نگران حکومت صاف شفاف انتخابات منعقد کرانے کے لئے بنائی گئی تھی۔ یہ ایک آئینی ضرورت تھی۔ویسے پنجاب اور کے پی کے کی حکومتوں، اسمبلیوں  کا قبل از وقت خاتمہ آئینی تھا یا نہیں،اس بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

قبل از وقت اسمبلیوں کا خاتمہ، آئین میں درج ہے، اسمبلیوں کے قبل از وقت خاتمے کے لئے مخصوص حالات اور واقعات کی موجودگی ضروری ہے یہ کوئی ڈکٹیٹر شپ نہیں ہے کہ چیف منسٹر جب چاہے اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کر دیے۔بظاہر تو ایسے حالات ہر گز نہیں تھے کہ صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دی جاتیں،لیکن قاسم کے ابو کی ضد تھی کہ دونوں صوبائی اسمبلیوں کو توڑ دیا جائے۔  ابو جی کی خواہش پر اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں اس طرح90 روز کے اندر انتخابات کرانا  لازمی قرار پایا لیکن یہ آئینی مدت گزر چکی ہے۔ عدالتی احکامات کے مطابق طے شدہ تاریخ بھی گزر چکی ہے لیکن انتخابات نہیں ہو سکے۔حکومت، الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کے درمیان کشمکش کے نتیجے میں معاملات تہہ در تہہ بگڑتے ہی چلے جا رہے ہیں۔پنجاب میں قائم عارضی حکومت کی مدت قیام گزر چکی ہے پھر وہ اب کیسے قائم ہے؟ کسی کو پتہ نہیں ہے وہ چار ماہی بجٹ بھی پیش کر چکی ہے،اس کی کیا حیثیت ہو گی؟ کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے،سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں کہ حفاظتی حکومت نے ان کے ساتھ کیا کر دیا ہے۔

حکومت پاکستان نے تنخواہوں میں 35فیصد اور پنشن میں 17.5فیصد اضافے کا اعلان کیا اور اب تک اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔اسی فارمولے کے مطابق تمام صوبوں نے ایسا ہی کرنے کا اعلان کر دیا ہےلیکن پنجاب نے الگ ہی سے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا ڈالی ہے۔ یہاں تنخواہوں میں 30فیصد اور پنشن میں 5فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے اور پھر بجٹ صرف چار مہینے کے لئے پیش کیا ہے شاید یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ بجٹ کسی حکومت نے چار مہینے کے لئے پیش کیا ہو اور اس پر سرکاری ملازمین سراپا احتجاج بھی ہوں۔سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں اور پنشن کو وفاق اور دیگر صوبوں کے برابر کرانے کے لئے تحریک چلا رہے ہیں، ان کا مطالبہ یہ ہے کہ لیو اِن کیشمنٹ کا سابقہ طریقہ بحال کیا جائے۔سالانہ انکریمنٹ اور مالی مراعات میں کمی یا تبدیلی کو فی الفور ختم کیا جائے۔

ان مطالبات کو منوانے کے لئے سرکاری ملازمین متحد بھی ہیں اور تُلے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے مطالبات منوا کر ہی دم لیں گے۔حیران کن بات یہ ہے کہ ایسے دور میں جب حکومت عوام کی مشکلات میں کمی کے مشن پر کام کرتی کہ کم از کم باتیں کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے،حکومت بار بار اِس بات کا اقرار کر رہی ہے کہ عوام مہنگائی میں پس رہے ہیں، ان کی مشکلات بہت شدید ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ عوام کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے گا۔اسی پس منظر میں مرکزی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35فیصد اور پنشن میں 17.5فیصد اضافے کا اعلان کیا۔یہ اضافہ بہت قابل ستائش ہر گز نہیں۔ مہنگائی اور روپے کی قدر میں تاریخی گراوٹ کو دیکھتے ہوئے یہ اضافہ ہر گز ہر گز مستحسن نہیں لیکن حکومتی حالات اور خزانے کی بدحالی دیکھتے ہوئے یہ اضافہ قابل ستائش ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس اعلان کو بحیثیت مجموعی ویلکم کیا گیا۔

تمام صولوں نے اس پر صاد کیا اور اسی اضافے کی شرح کو اختیار کیا لیکن پنجاب حکومت نے انتہائی احمقانہ حرکت کر ڈالی۔ نجانے انہوں نے کن حقائق اور اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے 35 فیصد کو30فیصد اور 17.5کو 5فیصد میں بدل ڈالا۔ نگران  حکمران اب تک اپنی آئینی ذمہ داریوں کے علاوہ دیگر تمام کام کرنے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔تعمیراتی کاموں میں مصروف ہیں، انڈر پاسز بنائے جا رہے ہیں،وزراء دوروں پر دورے کر  رہے ہیں،تصاویر  بنوائی اور کھچوائی جا رہی ہیں۔ چھپوائی بھی جا رہی ہیں۔ اخبارات میں رنگین ایڈیشن شائع کرائے جا رہے ہیں، مزارات کی تزئین و آرائش کروائی جا رہی ہے۔بڑی بڑی باتیں کی جا رہی ہیں لیکن جو ان کا اصل کام ہے اس حوالے سے ایک لفظ بھی ابھی تک حضرات کی زبانوں سے ادا نہیں ہو ا ہے۔ الیکشن کے انعقاد کی تیاریاں کہیں بھی نظر نہیں آ رہی ہیں۔

سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں اپنے جائز حقوق کی بازیابی کے لئے تُلے بیٹھے ہیں۔ جاری مہنگائی اور ہوشربا گراوٹ زر نے پوری قوم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ 90لاکھ سے زائد شہری خط ِ غربت سے نیچے جا چکے ہیں، دو وقت کی روٹی کا حصول خواب بنتا چلا جا رہا ہے۔ٹیکسوں کی بھرمار، روپے کی قدر میں کمی، بجلی، گیس، پٹرول اور پانی کی قیمتوں میں ہوشر با اضافہ ایسے عوامل ہیں جنہوں نے عوام کی ایسی تیسی کر دی ہے۔ اس ساری صورت حال کا سب سے بڑا شکار سرکاری ملازم طبقہ ہے،کیونکہ اس کی آمدنی نپی تلی اور محدود ہے۔ اس کی آمدنی یعنی قوتِ خرید روز بروز گھٹ رہی ہے۔

 اس کی آمدن سال میں صرف دو دفعہ بڑھتی ہے۔ ایک دفعہ جب اس کی تنخواہ میں سالانہ انکریمنٹ لگایا جاتا ہے وہ اتنا محدود اور کم ہوتا ہے کہ اس سے اس کی قوتِ خرید میں ہر گز ہر گز اضافہ نہیں ہوتا،اس لئے یہ موقع یہ دن سرکاری ملازم کے لئے خوشی کا دن نہیں ہوتا۔دوسری دفعہ بجٹ کے موقع پر اس کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے جس سے اس کی قوت خرید میں کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آتی ہے،۔مسلم لیگ(ن) والے حکمران ،سرکاری ملازمین کے ساتھ مل مزدوروں والا سلوک کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔تنخواہوں میں اضافہ اسی قدر کیا جاتا رہا ہے جتنا بہت ضروری ہو لیکن پیپلزپارٹی والے سرکاری ملازمین کو اس حوالے سے خوش کرنے اور خوش رکھنے کی شہرت رکھتے ہیں۔

آج تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا ریکارڈ پیپلزپارٹی کے دورِ حکمرانی کا ہی ہے لیکن اس مرتبہ شہباز شریف حکومت نے 35فیصد اضافہ کر کے اپنے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ لیکن پنجاب حکومت کی ملازم کش سوچ اور رویے نے ملازمین کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ پھر ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشنوں میں 5فیصد اضافے کا اعلان انتہائی شرمناک ہے۔بہرحال ملازمین ڈٹ گئے ہیں،اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج ہیں۔ اللہ کرے ان کی احتجاجی تحریک کامیاب ہو جائے اور حفاظتی/عارضی حکمران عقل کے ناخن لے کر ان کے مطالبات مان لیں۔ اسی میں ملک و قوم کی بھلائی پوشیدہ ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)