کیا وفاق کی نگران حکومت 90 دن ہی کے لئے ہوگی؟

وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے ایک جذباتی خطاب میں حکومت چھوڑنے اور اگلے ماہ نگران حکومت  کو اقتدار منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے ایک روز پہلے وہ بتا چکے تھے کہ موجودہ حکومت 14 اگست کو اپنی مدت پوری  کرلے گی۔ آج قوم سے خطاب میں انہوں نے باقاعدہ طور سے  ایک نئے عہد کا اعلان کیا ہے۔ اسے ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کا  پیغام سمجھنا چاہئے اگرچہ اس حوالے سے کوئی شیڈول سامنے نہیں آیا۔

شہباز شریف کا یہ اعلان بہت دیر سے سامنے آیا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے موجودہ حکومت اور اتحادی پارٹیوں کے درمیان اختلافات کی خبروں نے  بے یقینی اور بے چینی کی فضا پیدا کی ۔ یہ تاثر بھی قوی ہونے لگا تھا کہ مسلم لیگ (ن)انتخابات کی بجائے، کسی بھی طرح موجودہ حکومت  کی مدت میں اضافہ کی خواہش رکھتی ہے تاہم پہلے پیپلز پارٹی اور پھر  جمیعت علمائے اسلام (ف) نے اس منصوبہ کی مخالفت کی۔ اسی وجہ سے وزیر اعظم کو مجبوراً  اگست میں حکومت کے خاتمے کا اعلان کرنا پڑا  ہے۔ یہ سب خبریں بے بنیاد قیاس آرائیاں بھی ہوسکتی ہیں لیکن  ملک کے سیاسی بحران کے دوران ایسی افواہوں کی وجہ سے حکومت کے اعتبار اور سیاست دانوں کی نیک نیتی  کے بارے میں شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم اس تکلیف دہ صورت حال سے بچ سکتے تھے۔

حکومت کے خاتمے کا اعلان بہت دیر سے سامنے آیا ہے۔ اس کا سیاسی نقصان بہر حال مسلم لیگ (ن) کو برداشت کرنا پڑے  گا۔ انتخابی شیڈول کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا۔ نئی مردم شماری کی وجہ سے اس بارے میں کچھ بے یقینی ابھی بھی موجود ہے لیکن حکومت نے نئی مردم شماری کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے۔ اس لئے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں پرانی مردم شماری اور حلقہ بندی  کے مطابق ہی انتخابات منعقد ہوں گے۔  شہباز شریف کی طرف سے اپنی حکومت کے خاتمہ کا اعلان اب جمہوری عمل کے ذریعے نئی منتخب  حکومت کے قیام  کا راستہ ہموار کرے گا۔ الیکشن کمیشن پنجاب انتخابات کے حوالے سے اکتوبر کی تاریخ دے کر واضح کرچکا تھا کہ  اکتوبر میں  عام انتخابات منعقد کرنے  میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوگی۔     امید کرنی چاہئے کہ کوئی انہونی اب اس طریقہ کار میں غیر ضروری تاخیر یا التوا کا سبب  نہیں بنے گی۔  اور ملک پر کوئی بھی غیر منتخب حکومت طویل عرصے تک مسلط نہیں کی جائے گی۔

پنجاب اور خیبر پختون خوا میں نگران حکومتوں کے قیام کو 6 ماہ سے زیادہ   عرصہ ہوچکا ہے۔ عام انتخابات اگر اکتوبر میں منعقد ہوتے ہیں تو ان دونوں صوبوں میں    غیر منتخب حکومتوں کی مدت دس گیارہ ماہ ہوجائے گی۔ یہ ایک غیر ضروری اور غیر آئینی طریقہ کار تھا جس کی اصلاح کے لئے کوئی  مناسب راستہ اختیار کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔   یہ سوال اپنی جگہ پر مباحث کا موضوع رہے گا کہ ان دونوں صوبوں میں  وقت سے پہلے اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ کس حد تک درست تھا۔ لیکن یہ ایک سیاسی  معاملہ ہے  جس کی حمایت اور مخالفت میں کوئی بھی  رائے دی جاسکتی ہے۔ تحریک انصاف کے چئیر مین  نے وہی کیا جو انہیں کو اپنی  پارٹی کی سیاست کے لئے مناسب لگا۔ اس کا خمیازہ بھی وہی بھگت رہے ہیں۔ لیکن موجودہ حکومت  ان  دونوں صوبوں میں انتخابات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی تھی۔ اس لئے دوصوبوں میں نگران حکومتوں کی غیر آئینی طوالت موجودہ حکومت  کے ماتھے  کا کلنک ہی  قرار پائے گا۔

 سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود مقررہ آئینی مدت میں  پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات منعقد نہیں کروائے گئے۔   سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر عمل نہیں کروا سکی لیکن قانونی  طور سے ابھی تک اس فیصلے کو تبدیل بھی نہیں کیا گیا۔ اسی طرح   دونوں صوبوں میں نگران حکومتوں کی  غیر ضروری طوالت پر بھی کوئی آئینی وضاحت  سامنے نہیں آئی۔ نہ حکومت نے کسی آئینی ترمیم کے ذریعے 90 دن کی مدت کو بڑھایا اور نہ ہی سپریم کورٹ نے اس بارے میں آئین سے  استثنی کا کوئی حکم صادر کیا۔   یوں  دونوں صوبوں میں نگران حکومتوں کی غیر آئینی طوالت کا معاملہ ایک مشکل آئینی اور سیاسی چیلنج کے طور پر موجود رہے گا۔  اس پس منظر میں اب وفاق میں اگرچہ نگران حکومت قائم کرنے کا اعلان خوش آئیند ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ہی انتخابی شیڈول سامنے نہ آیا تو یہ خدشہ بہرحال  موجود رہے گا کہ کہیں اب ملک بھر میں نگران حکومتوں کے ذریعے ہی  طویل عرصہ تک معاملات نہ چلائے جائیں۔ اس بارے میں جلد وضاحت  سامنے آنی چاہئے اور  انتخابات کا شیڈول اور نئی منتخب حکومتوں کے قیام کے وقت کا تعین ہونا چاہئے۔

ملک میں عام انتخابات کی ضرورت  گزشتہ سال  عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے وقت سے ہی محسوس کی جاتی رہی ہے۔  عمران خان ایک مقبول لیڈر  ہیں لیکن ان کی حکومت کی متعدد پالیسیاں طاقت ور حلقوں  کے لئے قابل قبول نہیں تھیں اور عوام پر  بھی ان کے منفی اثرات مرتب ہورہے تھے۔ ان حالات میں اپوزیشن پارٹیوں نے نئے انتخابات منعقد کروانے کے مطالبے سے  دست بردار ہو کر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اتحادی  حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ آئینی  طور سے درست ہونے کے باوجود  ملک و قوم کے لئے سیاسی طور سے  غلط ثابت ہؤا۔   اس حوالے سے سب سے  تشویشناک پہلو یہ  تھا کہ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی کل سیاست اس ایک نکتہ پر مرکوز تھی کہ عمران خان منتخب نہیں ’نامزد‘ وزیر اعظم ہیں۔ یعنی اسٹبلشمنٹ نے انہیں  چھوٹی پارٹیوں  کی مدد سے وزیر اعظم بننے میں مدد دی  تھی۔  فوج کے اسی کردار کے خلاف مہم جوئی کرتے ہوئے ’ووٹ کو عزت دو‘ اور  ’عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہیں‘ جیسے نعرے بھی ایجاد کئے گئے۔ لیکن جب عدم اعتماد کا موقع ملا تو   مسلم لیگ (ن) سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے انہی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے تعاون سے  عمران خان کا اقتدار ختم کرنا ضروری سمجھا جنہیں اسٹبلشمنٹ   نواز سمجھا اورکہا جاتا ہے۔

اس طرح  سیاست میں اسٹبلشمنٹ کا کردار ختم کرنے کی بجائے اسے مستحکم کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔  عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے دوران اور بعد کے مہینوں میں یہی ثابت کرنے  کی کوشش کی گئی کہ عمران خان اصل مسئلہ  تھا۔ حالانکہ حقیقت تب بھی  یہی تھی اور اس وقت بھی یہی سب سے بڑی سچائی ہے کہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی غیر ضروری مداخلت اور غیر آئینی کردار ہی ملک میں جمہوری نظام  کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا رہا ہے۔ ان حالات میں عدم اعتماد کی بجائے انتخابات کا راستہ اختیار کرکے ملک میں جمہوریت بھی مستحکم ہوسکتی تھی اور فوج کو غیر سیاسی رہنے کا واضح اور  دو ٹوک پیغام بھی دیا جاسکتا تھا۔

بدقسمتی سے عمران خان نے بھی اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سیاسی  کردار ادا کرنے کی بجائے، احتجاج و تخریبی سیاست کے  ذریعے دباؤ میں اضافہ  کرنے  کی حکمت عملی اختیار کی۔  ہیجان کے اسی ماحول میں  9 مئی کا سانحہ ہؤا جو بوجوہ تحریک انصاف کے لئے مہلک ثابت ہؤا۔ جو پارٹی واضح اکثریت سے  انتخاب جیتنے کے خواب دیکھ رہی تھی ، اب اپنا وجود قائم رکھنے کی جد و جہد کررہی ہے۔ عمران خان نے گزشتہ روز ہی ایک امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ  وہ اب طویل عرصہ تک جیل ہی میں رہیں گے۔  یہ کہنا مشکل  ہے کہ عمران خان کے ان دعوؤں میں سچائی اور خوف کا کیا تناسب ہے۔ لیکن  بہرحال   ملک کا کوئی بھی تجزیہ نگار یہ  بتانے سے گریز کرے گا کہ عمران خان کا سیاسی مستقبل کیا ہے۔  انہیں انتخاب لڑنے اور اپنی پارٹی کو دوبارہ منظم کرنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

اس تناظر میں دیکھا  جائے تو گزشتہ سال عدم اعتماد  سے پہلے یا فوری بعد ملک میں عام انتخابات کا  انعقاد  مسئلہ کا سب سے بہتر اور جمہوری حل ثابت ہوسکتا تھا۔  اس صورت میں اس وقت ملک میں منتخب حکومت کام کررہی ہوتی اور اسٹبلشمنٹ کی سیاست گری   بھی محدود ہوتی۔  عدم اعتماد کے بعد  تحریک انصاف کی سیاست اور پھر سانحہ 9 مئی نے ملک میں جمہوری قوتوں کو کمزور کیا اور فوج کی سیاسی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ اب زرعی انقلاب سے  لے کر غیر ملکی امداد کے حوالے سے وزیر اعظم  جیسے آرمی چیف کے بارے میں چاپلوسی کا طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور ہیں، اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ    سیاسی قوتوں کی بجائے عسکری  قیادت کو  ملکی معاملات کے ہر پہلو میں بالادستی حاصل ہے۔  

ممکنہ نئے انتخابات کے نتائج اور ان کے بعد قائم ہونے والی حکومت  کو  صرف دگرگوں  مالی صورت حال ہی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ اسے سیاست میں اسٹبلشمنٹ کے بڑھے ہوئے  اثر و رسوخ کا بھی سامنا ہوگا۔ ماضی کے تجربات  کی روشنی میں دیکھا جائے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ  یہ  مشکل کام ہے ۔ کوئی بھی کمزور حکومت اسٹبلشمنٹ کی منظم  طاقت کو چیلنج کرنے اور اسے اپنے آئینی کردار تک محدود رہنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ خاص طور سے جب ملکی سیاسی لیڈر باہمی  جھگڑے  فوجی لیڈروں کے تعاون سے حل کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے ہوں۔ 

پھر بھی نئے انتخابات ہی بہتری کی طرف مناسب قدم ہے۔ اس لئے فوری طور سے انتخابی شیڈول سامنے  آنا چاہئے تاکہ  نئی قائم ہونے والی نگران حکومت 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کرواکے عوام کے منتخب نمائیندوں کو حکومت سونپ سکے۔