عوامی ریلیف کا بندوبست بھی کیجئے
- تحریر مظہر چوہدری
- ہفتہ 15 / جولائی / 2023
اپنے بڑے بوڑھوں کی طرح ہم بھی شروع سے ہی "ملک کے نازک دور"سے گزرنے کی باتیں سنتے آ رہے تھے لیکن گزشتہ دو تین سالوں سے یہ جملہ ترمیم (انتہائی نازک دور) کے ساتھ سنائی دینے لگا تھا جب کہ گذشتہ چند ماہ میں یہاں تک سننے کو ملا کہ 75سالوں سے نازک دور سے گزرنے والا پاکستان اب پل صراط پر پہنچ گیا ہے۔
کہنے والے کہتے رہے اور ہنوز کہہ رہے ہیں کہ اب دو ہی صورتوں میں بہتری کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ ایک یہ کہ حکمران اشرافیہ خود سے حالات کی سنجیدگی کا ادراک کرتے ہوئے نہ صرف خود کو حاصل اربوں ڈالر کی مراعات سے بتدریج دست بردار ہونے کو تیار ہو جائے اور دوسرے نمبر پر ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے امیر و غریب سب کے لیے قانون اور انصاف کے ایک جیسے معیارقائم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ بصورت دیگرغریب عوام اور سفید پوش طبقہ اپنے معاشی استحصال کے خلاف خود اٹھ کھڑا ہو گا۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں طاقت ور اشرافیہ(کارپوریٹ سیکٹر،جاگیر دار، سیاسی طبقہ اورفوج) کو دی جانے والی اقتصادی مراعات کا تخمینہ 17.4ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ رپورٹ "طاقت، عوام اور پالیسی"کے پرزم پر مبنی، عدم مساوات سے متعلق مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے ملک میں آمدنی اور اقتصادی مواقع کے واضح تفاوت کا جائزہ لیتی ہے۔ اس رپورٹ میں ایک اور تشویش ناک حقیقت متوسط طبقے کی شرح میں آنے والا مسلسل سکڑاؤ ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق درمیانی آمدنی والے افراد موجودہ صدی کی دوسری دہائی میں آبادی کے42فیصد سے کم ہو کر 36فیصد رہ گئے جب کہ اب ایک اندازے کے مطابق مڈل انکم رکھنے والے افراد کی شرح 30فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے پانچ مشترکہ اداروں کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یوکرین روس تنازعہ سمیت وبائی امراض،موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور تنازعات کی وجہ سے دنیا میں 2019سے لے کر اب تک مزید بارہ کروڑ بیس لاکھ افراد شدید قسم کی بھوک کا سامنا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال مجموعی طور پر 70سے80کروڑ کے درمیان لوگوں کو بھوک کا سامنا رہا۔۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کو سامنے رکھیں تو پاکستان میں تو بھوک کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہو گی کیوں کہ یہاں 2018سے لے کر اب تک عوام مہنگائی کے پے در پے آنے والے ریلے برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سابقہ حکومت نے متعدد بار پٹرول، بجلی، گیس اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے کیے جس سے سفید پوش طبقے کی ایک بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور ہوئی۔
پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار سنبھالاتو عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں اشیائے خورونوش سمیت بجلی اور گیس کی قیمتوں پر سبسڈی دے رہی تھیں جس کی وجہ سے گردشی قرضوں میں اضافے سمیت معیشت پر ناقابل برداشت حد تک دباؤ بڑھ گیا تھا۔عمران حکومت نے آتے ہی بجلی اور گیس سمیت دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء پر سبسڈیز بتدریج ختم کرنا شروع کر دیں جس سے غریب عوام کے ساتھ ساتھ سفید پوش طبقے کی زندگیاں بھی اجیرن ہوتی گئیں۔
موجودہ حکومت کو اقتدار ملا تو اانہوں نے بھی عوام کو ذہن نشین کرانا شروع کر دیا کہ عمران حکومت کی جانب سے پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں دیا جانے والا ریلیف سیاسی حربہ تھا اور انہیں بہت جلد یہ ریلیف ختم کرتے ہوئے پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھانا پڑیں گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سابقہ حکومت نے جاتے اقتدار کو بھانپتے ہوئے ایک ایسے وقت میں پٹرول کی قیمت میں کمی کی جب عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تسلسل کے ساتھ بڑھ رہی تھیں۔اس کے علاوہ بجلی کی قیمت میں دیا جانے والا ریلیف بھی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا لیکن سابقہ حکومت کی اس پالیسی کو ماننا ہوگا کہ اس نے یوکرین جنگ کے آغاز میں ہی روس سے سستا تیل خریدنے کا اعلان کر دیا تھا ۔ہمارے مقابلے میں بھارت اور چین سمیت بہت سے ممالک سستے روسی تیل سے بہت پہلے سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن تجربہ کار وں کی حکومت آنے کے باوجود ہم سوا سال بعد جا کر کہیں سستے روسی تیل سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آ رہے ہیں۔
مہنگائی کا جو سلسلہ تبدیلی حکومت کے آتے ہی شروع ہوا تھا وہ تجربہ کاروں کی حکومت میں انتہاؤں کو چھوتے چھوتے تاریخ رقم کر چکا ہے۔سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی معیشت کی زبوں حالی اور مہنگائی و بیروزگاری کا سارا ملبہ سابق حکومت پر ڈال رہی ہے۔کوئی شک نہیں کہ حکومت کی کوششوں سے زرمبادلہ کے ذخائر میں قابل ذکربہتری آئی ہے لیکن یہ بہتری چین اور سعودی عرب سمیت دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے ملنے والے "ڈالرز" کی وجہ سے ہوئی ہے۔روس سے سستا تیل ملنے اور حکومتی سطح پر آنے والی معاشی بہتری کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچے۔ماہ رمضان میں مفت آٹا لینے والے غریب عوام کو اب حکومتی سبسڈی پر بھی آٹا دستیاب نہیں۔عوام ایک مہینہ مفت آٹا لے کر اب گزشتہ تین ماہ سے دوگنا سے بھی زیادہ مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔
کہتے ہیں زبان خلق نقارہ خدا ہوتی ہے لیکن ہمارے ارباب اقتدارابھی بھی ہوش کے ناخن نہیں لے رہے۔زبان خلق دہائی دے رہی ہے کہ اب غریبوں میں مزید مہنگائی اور ٹیکسز کا بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رہی۔مہنگائی اور قرضوں کا بوجھ یا تو اشرافیہ پر ڈالا جائے یا پھر اشرافیہ کی تفریح اور آسائش کے لیے بنے 200گولف کلبوں میں سے چند ایک بیچ دیے جائیں۔کوئی شک نہیں کہ کرونا اورروس یوکرین تنازعے کے باعث دنیا کے بیشتر ممالک معاشی مشکلات کا شکار ہوئے ہیں لیکن دنیا کے زیادہ تر ممالک حکومتی و سماجی سطح پر کفایت شعاری مہم کے زریعے اپنی مشکلات پر قابو پا رہے ہیں۔ہمارے ہاں حکمران اشرافیہ اپنے لائف سٹائل میں تبدیلی اور مراعات میں کمی پر تیار نہیں۔ہمارے ہاں ہر آنے والی حکومت سابقہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر کے خود کو بری الزمہ قرار دینے کی کوشش کرتی ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ مقتدر ہ کا اہم کردار ہے جو اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے سیاسی حکومتوں کی کااکھاڑ پچھاڑ میں ملوث رہتی ہے۔
حرف آخر یہی کہ آپ کو ریاستی و حکومتی اداروں اور اثاثوں کی توڑ پھوڑ کرنے والوں کے بندوبست کرنے سے فرصت مل جائے تو عوامی ریلیف کے بندوبست کے لیے بھی کچھ کیجئے۔ ریاستی وحکومتی اداروں کی تقدیس کا بندوبست تو یہاں شروع سے ہوتا آیا ہے، ہاں البتہ عوام کو غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے دیرپا بنیادوں پر نجات دلانے کا یہاں کسی نے بندوبست نہیں کیا۔