12اگست اور اس کے بعد، سیاستدانوں کا امتحان
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- اتوار 16 / جولائی / 2023
آئین پاکستان کے مطابق 12اگست 2023 اسمبلیوں کی مدت قیام ختم ہو جائے گی اور پھر 13اگست کو نگران حکومتیں معرضِ وجود میں آکر 60دنوں کے اندر اندر انتخابات کراکے نئی اسمبلیاں قائم کرانے اور حکومتیں بنوانے کی پابند قرار پائیں گی۔
آئین کے مطابق اگر کوئی بھی اسمبلی اپنی مقررہ مدت سے پہلے تحلیل کی جاتی ہے تو پھر انتخابات کی مدت 90روز ہوتی ہے۔ عمرانی دور حکمرانی میں پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں مقررہ مدت سے پہلے توڑ دی گئیں تو وہاں 90روز میں انتخابات کرانے قرار پائے تھے لیکن آئین کے مطابق قبل از وقت اسمبلی تحلیل کرنے کے لئے ناگزیر حالات کی موجودگی بھی ضروری ہے،۔گو اسمبلی تحلیل کرنا، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کا اختیار ہوتا ہے لیکن وہ اس اختیار کو ڈکٹیٹر کی طرح، من مرضی سے استعمال نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ دو صوبائی اسمبلیاں قبل از وقت تحلیل کرنے کے بعد یہاں ایک ایسا بحران پیدا ہوا جس کی ہماری آئینی، سیاسی و قومی تاریخ میں کہیں بھی مثال نہیں ملتی۔
پنجاب اور کے پی کے میں نہ تو 90روز میں انتخابات کرائے جا سکے اور نہ ہی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل ہو سکا۔ پنجاب میں قائم نگران حکومت، جس کی عمر 90دن تھی، ابھی تک قائم ہے 90دن بھی گزر گئے۔ سپریم کورٹ کی حکم کردہ تاریخ بھی گزر گئی۔ انتخابات نہیں ہو سکے لیکن حکومت ابھی تک قائم ہے۔ 4ماہی بجٹ بھی پیش کر چکی ہے اور اب 13اگست کے بعد 60 دنوں کے اندر اندر انتخابات کرانے کی ذمہ داری بھی یہی حکومت نبھاتی نظر آ رہی ہے۔ جہاں تک کے پی کے نگران حکومت کا تعلق ہے اس کی زندگی یا موت بارے کوئی بحث ہوتی دکھائی نہیں دیتی، حالانکہ وہاں بھی آئین پاکستان لاگو ہوتا ہے۔ 90دنوں میں اس حکومت نے بھی انتخابات کرانے تھے انہوں نے نہیں کرائے، سپریم کورٹ نے کوئی نوٹس نہیں لیا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ اس صوبائی حکومت کی آئینی حیثیت کیا ہے، کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے لیکن وہ چلتی جا رہی ہے۔ اغلب امکان یہی ہے کہ 13اگست کے بعد بھی یہی حکومت چلے گی اور 60دنوں میں انتخابات کرانے کی ایک بار پھر پابند ہوگی۔
اس وقت سب سے اہم سوال جو ہماری قومی سیاست و صحافت میں گردش کر رہا ہے کہ کیا 12اگست کے بعد 60دنوں میں انتخابات کے ذریعے نئی حکومتیں قائم ہو جائیں گی؟جاری حکومت (مرکزی حکومت) 28/27 دنوں بعد 12اگست کی رات 12بجے تک اپنی آئینی مدت پوری کر کے ختم ہو جائے گی اور 13اگست ملک بھر میں عبوری حکومت نافذ العمل ہوگی۔ پھر 60دنوں کے اندر اندر انتخابات کے ذریعے نئی اسمبلی قائم ہو گی اور نئی حکومت قائم ہو چکی ہو گی۔ یہ بات نارمل حالات میں پوری ہو گی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انتخابات کے حوالے سے ابھی تک کسی قسم کی کوئی کارکردگی یا سرگرمی کہیں بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ بادی النظر میں ہر قابل ذکر جماعت، اس وقت شریک اقتدار ہے، کسی کو اقتدار سے علیحدہ ہونے میں دلچسپی نظر نہیں آ رہی۔
اتحادی حکومت نے 15 مہینوں میں ایک اہم کام ضرور کر دکھایا ہے اور وہ ہے آئی ایم ایف سے قرض کا حصول۔ جس آئی ایم ایف کو سابقہ حکومت نے اپنی حرکات کے باعث ناراض کر دیاتھا، اتحادی حکمران اسے منا کر واپس لے آئے ہیں۔ 1.1 ارب ڈالر کی بجائے 3ارب ڈالر کا قرض حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس کا کریڈٹ اتحادی حکمرانوں کو بالعموم اور شہبازشریف کو بالخصوص دینا چاہیے۔ ہم ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچے ہوئے تھے۔ہماری عالمی و علاقائی ساکھ شدید متاثر ہو چکی تھی ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں ہمارے دوست ممالک بشمول چین، سعودی عرب وغیرہ بھی ہمارے سرپر دست شفقت رکھنے سے گریزاں ہو چکے تھے لیکن شہبازشریف و اسحاق ڈار وغیرہ کی چابکدستیوں اور قرض مانگنے اور مانگتے ہی رہنے کی شاندار صلاحیتوں نے کام کر دکھایا اور 1.1 ارب ڈالر کی درخواست کرکے 3ارب ڈالر کا قرض لے اڑے۔ اب ہماری معاشی صورت حال کسی بھی فوری دباؤ اور ڈیفالٹ کے خطرے سے مکمل طور پر باہر ہو گئی ہے۔ عالمی ادارے بھی مثبت خبریں دے رہے ہیں۔ معاشی اشاریے بدستور بہتری کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کو منانے کی قیمت بھاری ٹیکسوں اور ناقابل ِ برداشت مہنگائی کی شکل میں،عوام ادا کر رہے ہیں۔اس حوالے سے کسی قسم کے ریلیف یا صورتحال میں تبدیلی کے امکانات نہیں ہیں کیونکہ جاری آئی ایم ایف، عارضی ریلیف9 ماہی ہے جس کے دوران 3ارب ڈالر کا قرض قسطوں میں جاری کیا جائے گا۔ پہلی قسط کے طور پر 1.2 ارب ڈالر ہمیں مل بھی چکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی ہدایات، بلکہ احکامات بھی سننے میں آ رہے ہیں کہ پاکستان کو کیا کیا کرنا ضروری ہے۔ سخت مانیٹری پالیسی کا مطلب گردش زر میں کمی ہونا ہے جسے بلند شرح سود نافذ کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ سردست ہمارے ہاں شرح سود 22فیصد ہے جو پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس بلند شرح سود پر صنعت کار، سرمایہ حاصل نہیں کر سکتا بلکہ زر، گردش کی بجائے کھاتوں میں رہنا زیادہ بہتر سمجھتا ہے کہ بچتیں کرو، کھاتوں میں پیسے رکھو اور بلند شرح سود کے ساتھ نفع اندوزی کرو۔ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ سرمایہ کاری رک چکی ہے۔ شرح میں مزید بلندی صنعتی و معاشی ترقی کے لئے زہر قاتل ثابت ہوگی۔
بہرحال آنے والے دن، ہماری سیاست کے لئے ہی نہیں بلکہ سیاستدانوں کے لئے انتہائی اہم ہوں گے۔ سردست اسٹیبلشمنٹ کنارے پر کھڑی ہے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کئے ہوئے ہے۔ اب قوم سیاستدانوں کے قول و فعل کو دیکھنا چاہتی ہے کہ وہ کس قدر ذہانت، دیانت اور آئین پروری کا ثبوت دیتے ہیں۔ آئین کی پاسداری میں ہی سب کی بھلائی ہے۔ آئین بنایا بھی سیاستدانوں نے ہے، یہ ہماری بنیاد ہے اس پر عملدرآمد میں ہی ہماری بقاء و فلاح ہے۔ اب بظاہر تو کسی اور عامل کی مداخلت نظر نہیں آ رہی،اس لئے سیاستدانوں کو آئین کے مطابق، انتخابات کرانے کا فیصلہ کرکے اپنے اوپر لگے متفرق الزامات کو دھو ڈالنا چاہیے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)