ملک میں انتخابی التوا کے ہتھکنڈے
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 16 / جولائی / 2023
ایک ایسے وقت میں جب ملکی مباحثہ کا اہم ترین موضوع قومی اسمبلی کی تحلیل کے وقت سے متعلق ہے، وزیر اعظم نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی حکومت مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اقتدار نگران حکومت کے حوالے کردے گی۔ شہباز شریف کے اس بیان سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملے گی کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات کروانے کے لئے 60 کی بجائے 90 دن کی مہلت حاصل کرنا چاہتی ہے۔
اب اس میں تو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے موجودہ حکومتی انتظام کو وسعت دینے کے ہر آئینی و سیاسی امکان پر غور کیا ہے۔ دوبئی میں بڑوں کی ملاقات میں بھی یہی موضوع اہم ترین تھا تاہم وہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔ اس حوالے سے جو خبریں سامنے آئی تھیں ، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی صورت موجودہ سیاسی انتظام میں توسیع کی حامی نہیں اور نئے انتخابات پر زور دے رہی تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے براہ راست تو انتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا اشارہ نہیں دیا اور نہ ہی اس کا امکان ہے کہ نواز شریف نے آصف زرداری کے ساتھ بات چیت کے دوران اسے سیاسی مطالبہ بنا کر پیش کیا ہوگا تاہم بالواسطہ طور سے امکانات اور ممکنات کا جائزہ لیتے ہوئے اس پر غور ضرور ہؤا ہوگا۔
مسلم لیگ (ن) کے ثانوی درجے کے متعدد لیڈر انتخابات ملتوی کرنے کا راگ الاپتے رہے ہیں اور اس حوالے سے ماضی کی مثالیں بھی دی جاتی رہی ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے بعد جمیعت علمائے اسلام (ف) نے بھی انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف رائے دی۔ مولانا فضل الرحمان نے دوبئی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات پر خفگی کا اظہار کیا کہ انہیں اس معاملہ میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس بیان کے بعد ان کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں موجودہ حکومت کو مقررہ وقت پر ختم کرنے پر اصرار کیا گیا۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران قوم سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے اگست میں اقتدار نگران حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم انہوں نے انتخابات کے شیڈول کے بارے میں کوئی اشارہ دینے سے گریز کیا۔ اس تقریر کے فوری بعد پیپلز پارٹی کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم 12 اگست کوقومی اسمبلی کی آئینی مدت پوری کرنے پر اسے تحلیل ہونے دیں ۔ چند روز پہلے قومی اسمبلی نہ توڑی جائے۔
پیپلز پارٹی کے اس مطالبہ کا ایک ہی مقصد تھا کہ پارٹی اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد فوری انتخابات کی حامی ہے۔ کیوں کہ اگر قومی اسمبلی 12 اگست کو مدت پوری کرکے تحلیل ہوتی ہے تو آئین کے مطابق 60 روز کے اندر انتخابات کروانا ضروری ہوں گے جبکہ اگر وزیر اعظم چند روز پہلے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے اسمبلی توڑ دیتے ہیں تو انتخابات کروانے کی مدت 90 دن ہوجائے گی۔ آج شہباز شریف نے سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ہماری حکومت آئندہ ماہ اپنی مدت پوری کرے گی اور مدت پوری ہونے سے پہلے ہم چلے جائیں گے۔ نئی عبوری حکومت آئے گی، اس کے بعد الیکشن میں اللہ تعالیٰ جس کو بھی موقع دے‘۔
وزیر اعظم نے وقت سے پہلے چلے جانے کا جو ذکر کیا ہے ، اس کا ایک ہی مقصد ہوسکتا ہے کہ شہباز شریف 12 اگست سے پہلے قومی اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کی مدت ساٹھ دن کی بجائے نوے دن کرنا چاہتے ہیں۔ یہ فالتو ایام خاص طور سے ملکی سیاست میں نواز شریف کے کردار کے حوالے سے اہم سمجھے جارہے ہیں۔ نواز شریف بار بار اعلان کرنے کے باوجود ابھی تک ملک واپس نہیں آئے اور نہ ہی عدالتوں نے انہیں کوئی ریلیف دیا ہے۔ حکومت نے اس حوالے سے متعدد قانونی آپشنز پر غور کیا ہے لیکن لگتا ہے کہ موجودہ چیف جسٹس کی موجودگی میں نوا ز شریف کو اپنے خلاف مقدمات میں سہولت ملنے کا امکان نہیں ہے۔ اسی لئے حکومت کا خیال ہے کہ ستمبر کے وسط میں جسٹس عمر عطابندیال کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی کے چیف جسٹس بننے کے بعد یہ سہولت حاصل کی جاسکے گی۔ اس حساب سے نوا ز شریف اگر ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے شروع میں وطن واپس آپاتے ہیں تو وہ ساٹھ دن کے اندر انتخابات ہونے کی صورت میں نہ انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں اور نہ ہی پارٹی کی انتخابی مہم کی مؤثر انداز میں قیادت کرسکتے ہیں۔
اس پس منظر میں حکومت کے لئے انتخابات کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومت کی اہم اتحادی جماعتیں پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام (ف) اس بارے میں کیا مؤقف اختیار کرتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان تو شاید خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں مناسب سیاسی اثر و رسوخ کے وعدے پر اس التوا پر راضی ہوجائیں لیکن پیپلز پارٹی کیوں مسلم لیگ (ن) کو یہ رعایت دے گی۔ اس کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک مسلم لیگ (ن) جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے آصف زرداری کا مطالبہ پورا کرے یا انتخابات کے بعد کوئی اتحادی حکومت بننے کی صورت میں کوئی دلکش سیاسی پیش کش کی جائے۔ آصف زرداری کو بھی اندازہ ہوگا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اگر غیر معمولی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے لانچ کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ اس صورت میں اسے کسی کم تر سیاسی فائدے پر متفق ہونا پڑے گا۔ ایک امکان یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آصف زرداری خود ایک بار پھر صدر بننے کے لئے جوڑ توڑ کررہے ہوں۔
شہباز شریف نے اگر 12 اگست سے پہلے اسمبلی توڑی تو انہیں نہ صرف حلیف سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنا ہوں گے بلکہ آئینی اور اخلاقی لحاظ سے بھی ان کی پوزیشن کمزور ہوگی۔ انتخابات کے انعقاد میں صرف 30 اضافی دن لینے کے لئے اگر مدت پوری ہونے سے محض دو تین روز پہلے اسمبلی توڑی جاتی ہے تو سب کو دکھائی دے گا کہ یہ فیصلہ کسی وسیع تر قومی مفاد کی بجائے صرف ایک پارٹی کی سہولت کاری کے لئے کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف نے اس سال کے شروع میں جب پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیاں توڑی تھیں تو حکومتی حلقے یہ دلیل دیتے رہے تھے کہ کسی آئینی جواز کے بنا اسمبلیاں نہیں توڑی جاسکتیں۔ اگرچہ اس فیصلہ کو مسلم لیگ (ن) یا کسی دوسرے فریق نے عدالت میں چیلنج نہیں کیا لیکن اس سوال پر سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کی جاتی رہی ہے۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) ہی دونوں صوبوں کی اسمبلیاں توڑے جانے سے پہلے یہ مؤقف اختیار کرتی تھی کہ اگر عمران خان جلد انتخابات چاہتے ہیں تو وہ دونوں صوبوں کی اسمبلیاں توڑ دیں تاکہ عام انتخابات کا راستہ آسان ہوجائے ۔ البتہ پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیاں ٹوٹنےکے بعد حکومتی پارٹیوں نے اپنا سیاسی رویہ تبدیل کرلیا تھا۔
اس پس منظر میں شہباز شریف اگر انتخابات کے انعقاد کی مدت میں ایک ماہ اضافے کے لئے چند دن پہلے قومی اسمبلی توڑنے کا اقدام کرتے ہیں تو اسے ان کی سیاسی بدطینتی کہا جائے گا۔ تھوڑے سے سیاسی فائدے کے لئے چند روز پہلے قومی اسمبلی توڑ کر انتخابات میں التوا مسلم لیگ (ن) کے ان دعوؤں کو کمزور کرے گا کہ وہ انتخابات سے نہیں گھبراتی بلکہ قومی ضرورت کی وجہ سے بہر صورت اسمبلی کی مدت پوری کرنے پر مجبور تھی۔ آئینی لحاظ سے اگرچہ وزیر اعظم کو اسمبلی توڑنے کا حق حاصل ہے لیکن اسمبلی تحلیل ہونے سے چند دن پہلے اس حق کا استعمال آئین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔ صرف ایک شخص کے لئے ایک مشکل وقت میں انتخابات کے ساتھ کھلواڑ اور آئینی تقاضوں کو موم کی ناک بنانے کا رویہ ملکی سیاست پر دیر پا اور منفی اثرات مرتب کرے گا۔
یہ تو قابل فہم ہے کہ شہباز حکومت کے مشکل معاشی فیصلوں کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی قیمت ادا کرنا پڑی ہے اور اسے اندیشہ ہے کہ عوام مہنگائی اور بجلی و پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) سے ناراض ہیں اور اسے شاید حسب توقع کامیابی حاصل نہ ہوسکے۔ تاہم مسلم لیگ (ن) نے سوچ سمجھ کر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی حمایت کی تھی اور اس کے بعد انتخابات منعقد کروانے کی بجائے حکومت سنبھالنے اور اتحادی جماعتوں کی کمزور حکومت کی قیادت پر راضی ہوگئی تھی۔ ہر سیاسی پارٹی کو اپنے سیاسی فیصلوں کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو بھی یہ قیمت دینے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اس کی بجائے متبادل سیاسی ہتھکنڈے اختیار کرکے انتخابات ملتوی کرنے یا ان پر اثر انداز ہونے کا طریقہ غیر سیاسی و غیر جمہوری ہوگا۔ لیکن دریں حالات شاید ملکی سیاسی پارٹیوں کو اس کی زیادہ پرواہ نہیں ہے۔ قومی سیاست میں اصولوں یا قومی مفاد کی بجائے ذاتی فائدے اور مخصوص سیاسی پارٹی کے نقطہ نظر سے فیصلے کئے جاتے ہیں ۔
شہباز شریف نے آج کی تقریر میں نواز شریف کو ملک کے آئیندہ وزیر اعظم کے طور پر پیش کیا ہے اور خطاب میں کہا کہ ’ اگر قوم نے آئندہ الیکشن میں نواز شریف کو موقع دیا تو میں آج آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ نواز شریف، میں اور ہماری پوری ٹیم مل کر پاکستان کا نقشہ بدل دیں گے۔ اور ملک کو ترقی و خوشحالی کے دور میں لے کر جائیں گے‘۔ یادش بخیر شہباز شریف یا ان کی پارٹی پہلی بار یہ وعدہ نہیں کررہی۔ گزشتہ تیس برس کے دوران مسلم لیگ (ن)متعدد بار پنجاب اور مرکز میں اقتدار حاصل کرچکی ہے تاہم ان ادوار میں پاکستان کو جنت نظیر بنادینے کا کوئی وعدہ پورا نہیں ہوسکا۔ اس کا سارا الزام صرف مسلم لیگ (ن) پر تو عائد نہیں کیا جاسکتا لیکن اس سے یہ سبق ضرور سیکھا جاسکتا ہے کہ ملک کو معاشی بحالی کے راستے پر گامزن کرنے کے لئے سیاسی جوڑ توڑ سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے کی بجائے تمام سیاسی فریقوں کو کھلے دل سے جمہوری و آئینی نظام حکومت کے لئے باہمی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔