لاہور ہائیکورٹ نے فوج کو زرعی اراضی دینے سے روکنے کا حکم معطل کردیا

  • سوموار 17 / جولائی / 2023

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کی نگران حکومت کو 3 اضلاع میں پاک فوج کو کارپوریٹ فارمنگ کے لیے زرعی اراضی 20 سال کی لیز پر دینے سے روکنے کا اپنا سابقہ فیصلہ معطل کر دیا۔

 نگران حکومتِ پنجاب نے صوبے کے 3 اضلاع بھکر، خوشاب اور ساہیوال میں کم از کم 45 ہزار 267 ایکٹر اراضی ’کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ‘ کے لیے پاک فوج کے حوالے کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ نے نگران حکومت پنجاب کی جانب سے فوج کو لیز پر زرعی اراضی دینے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا تھا۔ یہ فیصلہ جج عابد حسین چٹھہ نے ’پبلک انٹرسٹ لا ایسوسی ایشن آف پاکستان‘ کی جانب سے احمد رافع عالم کی درخواست پر جاری کیا تھا۔

جسٹس عابد حسین چٹھہ نے تفصیلی فیصلہ میں کہا تھا کہ نگراں حکومت کے پاس الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 230 کے تحت کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ سے متعلق اقدام اور پالیسی کے حوالے سے کسی بھی طرح سے کوئی بھی فیصلہ کرنے کا آئینی اور قانونی اختیار نہیں ہے۔

نگران حکومت پنجاب نے اراضی فوج کو دینے کے خلاف حکم امتناع کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔  جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے عدالتی حکم کو کالعدم قرار دینے کے لیے حکومتِ پنجاب کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں نگران حکومت پنجاب کا مؤقف تھا کہ عدالتی فیصلے میں تضاد ہے۔ زرعی پالیسیوں کو ریگولیٹ کرنا عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ عدالت کا اراضی کی منتقلی روکنے کا سابقہ فیصلہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ یہ منصوبہ نگران حکومت نے نہیں بلکہ اس سے پہلے کی منتخب حکومت نے شروع کیا تھا۔ قانون کے مطابق نگران حکومت سابقہ حکومت کے زیر التوا فیصلے یا پالیسی کو نافذ کرنے یا اسے حتمی شکل دینے کی مجاز ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت زمین فوج کو دینے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے  کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔ عدالت نے درخواست کے مندرجات کا جائزہ لینے کے بعد آج اس معاملے پر اپنے سابقہ فیصلے کو معطل کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔