پشاور میں ایف سی کی گاڑی کے قریب دھماکا، 6 اہلکار زخمی
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے میں فرنٹیئر کور کے قافلے کے قریب دھماکے میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے۔
ایس پی کینٹ نے وقوعہ کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں حیات آباد فیز 6 سے گزرنے والے فرنٹیئر کور کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ ٹی وی پر نشر ہونے والی فوٹیج میں لوگوں کو دھماکے کے بعد جائے حادثہ پر جمع ہوتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس سے کچھ قافلے پر حملے کا نشانہ بننے والی فرنٹیئر کور کی گاڑی بھی موجود تھی۔
ایس پی وقاص رفیع نے ڈان ڈاٹ کام کو تصدیق کی کہ حملے میں چھ افراد زخمی ہوئے جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کررہا ہے تاکہ دھماکے کی نوعیت کا پتا چلایا جا سکے۔ وقاص رفیع نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے اور واقعے میں ملوث عناصر کو منظرعام پر لائیں گے۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے میڈیکل ڈائریکٹر پوفیسر شہزاد اکبر نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو تصدیق کی کہ ہسپتال میں دھماکے میں زخمی ہونے والے دو مریضوں کو لایا گیا جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے بقیہ افراد کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال لے جایا گیا۔
دوسری جانب وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دھماکے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اور ان کے منصوبہ ساز قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ ٹوئٹر بیان کے مطابق بلاول بھٹو نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار سزا سے نہیں بچ سکتے۔
سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ پریشان کن ہے۔