پاکستان میں گینگ ریپ کے تین شرمناک واقعات
- تحریر ٹونی عثمان
- منگل 18 / جولائی / 2023
پاکستان میں بعض انتہائی ہائی پروفائل اجتماعی ریپ کیسز میں مجرمان پیسے اور اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے عدالتی نظام کا مذاق اُڑاتے ہوئے آزاد گھومتے ہیں۔ ویسے تو ایسے بے شمار کیسز ہیں جو کسی بھی طرح انصاف کے نظام کے لئے مثبت نہیں مگر اس مضمون میں صرف تین کیسز کے متعلق لکھا جارہاہے۔
13 مئی 1978 کو فلمی اداکارہ شبنم کا لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں ان کے گھر میں ان کے شوہر میوزک کمپوزر روبن گھوش اور ان کے بیٹے کے سامنے گینگ ریپ کیاگیا۔ مجرمان وہاں سے نقدی، زیورات اور دیگر گھریلو سامان لے کر فرار ہوگئے۔ اداکارہ شبنم نے مقدمے میں سات افراد کو نامزد کیا جن میں محمد فاروق بندیال، وسیم یعقوب بٹ، جمیل احمد، طاہر تنویر، جمشید اکبر ساہی، آغا عقیل احمد اور محمد مظفر شامل ہیں۔ ان سب کا تعلق بااثر خاندانوں سے تھا۔ اس وقت کے چیف سیکریٹری پنجاب فتح خان بندیال ریپ کرنے والے محمد فاروق بندیال کے ماموں اور موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے والد تھے۔ ملزمان مقامی پولیس پر اثر انداز ہونے میں کامیاب رہے اور ابتدائی رپورٹ میں گینگ ریپ کا ذکر نہ ہونے دیا۔ ملزمان پر خصوصی فوجی عدالت نے دفعہ پی پی سی 412 کے تحت مقدمہ چلایا اور فاروق بندیال اور دیگر چار افراد کو ڈکیتی کے جرم میں سزائے موت سنائی مگر بعد میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاء الحق نے ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا اور کُچھ عرصہ بعد پانچوں مُجرمان کو رہا کر دیاگیا۔
قارئین کو بتاتے چلیں کہ پاکستان کی سب سے بڑی بلاک بسٹر فلم ہدایتکار نذرالاسلام کی “آئینہ ” جو 401 ہفتوں تک سینما گھروں میں متواتر چلتی رہی، اس کی ہیروئن شبنم تھیں اور میوزک ڈائریکٹر اُن کے جیون ساتھی روبن گھوش تھے۔ شبنم نے کُل 170 فلموں میں کام کیا، جن میں 152 اردو ، 14 بنگالی اور 4 پنجابی فلمیں شامل ہیں۔
فاروق بندیال نے 2018 میں عمران خان کی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی، لیکن چند گھنٹوں کے اندر سوشل میڈیا کے باعث مسلح ڈکیتی اور گینگ ریپ میں ملوث ہونے کی خبریں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئیں۔ عوام کے بڑھتے ہوئے غم و غصے نے عمران خان کو مجبور کردیا اور انہوں نے فاروق بندیال کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ پی ٹی آئی کے راہنما نعیم الحق (مرحوم) نے فوری طور پر ٹویٹر پر فیصلے کا اعلان کیا۔ اُنہوں نے ٹویٹ کیا کہ “ہماری پارٹی میں ایسے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بندیال کو کسی بھی سیاسی جماعت میں نہیں ہونا چاہیے۔" فاروق بندیال موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے کزن ہیں۔ اپریل 2022 میں جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں چیف جسٹس نے رات کے بارہ بجے عدالت کھولی اور عمران خان کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تو پی ٹی آئی نے چیف جسٹس پر غم وغُصہ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فاروق بندیال سے رشتہ داری کو بھی ہائی لائٹ کیاتھا۔
دوسرا انتہائی شرمناک کیس 1991 کا ہے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی آئی اے)کے اراکین نے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے داماد عرفان اللہ مروت کی قیادت میں 27 نومبر کو کراچی ڈیفنس میں وینا حیات کے گھر میں گھُس کر ان کے ساتھ گینگ ریپ کیا۔ وینا حیات بزرگ مسلم لیگی راہنما سردار شوکت حیات کی بیٹی تھیں جو قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھی اور پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کے رُکن تھے۔ وینا حیات پیشے کے اعتبار سے ڈریس ڈیزائنر تھیں اور ان کی پیپلز پارٹی کی راہنما بینظیر بھٹو کے ساتھ دیرینہ دوستی تھی۔ اس وقت عرفان اللہ مروت سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی کے مشیر برائے امور داخلہ کے طور پر کام کر رہے تھے اور صوبائی اسمبلی کے رکن تھے۔ پولیس نے ویناحیات کی شکایت پر تب تک ایف آئی آر درج نہ کی جب تک اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز نے مداخلت نہ کی۔ ویناحیات کےوالد شوکت حیات نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عرفان اللہ مروت کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی بیٹی سے اجتماعی ذیادتی کرنے والوں کو عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ سندھ حکومت نے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی عدالتی ٹربیونل قائم کیا۔ 12 دسمبر 1991 کو ٹربیونل نے کراچی میں انکوائری شروع کی۔ چند مشتبہ افراد کو پولیس نے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ وینا اور اُن کے والد شوکت حیات، دونوں نے، ٹریبونل کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیاتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک عرفان اللہ مروت صوبائی حکومت کا حصہ ہے، منصفانہ ٹرائل نہیں ہو سکتا۔ بے نظیربھٹو، جو اس وقت اپوزیشن لیڈر تھیں، اس کیس کو قومی اسمبلی کے فلور پر بحث کے لیے لائی تھیں۔
اسی سال 29 دسمبر کو ٹربیونل نے اپنے انتہائی متوقع فیصلے کا اعلان کیا اور کہا کہ مروت کے خلاف وینا حیات کے الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں۔ اخبارات نے فیصلے پر بہت شور مچایا، انسانی حقوق کی تنظیموں نے انصاف کے لئے آوازیں بلند کیں مگر وینا حیات کو انصاف نہ ملا اور وہ دلبرداشتہ ہو کر ہمیشہ کے لئے بیرون ملک منتقل ہوگئیں۔ صدر غلام اسحاق خان کی اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ تلخی تھی اور کہا جاتا ہے کہ اس واقعہ کے باعث باہمی کشیدگی میں اظافہ ہوا اور 1993 میں دونوں کو اپنے اپنے منصب سے جانا پڑا۔
2013 کے انتخابات میں عرفان اللہ مروت نُون لیگ کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے اور 2017میں آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ مگر بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی دونوں بیٹیوں بختاور اور آصفہ کے طرف سے بے ساختہ اور شدید ردعمل آنے کے بعد وہ پارٹی سے الگ ہوگئے۔ بختاور بھٹو زرداری نے ٹویٹ کیاکہ ایسے آدمی کو جیل کی کوٹھری میں ہوناچاہیے، جس پارٹی کی قیادت ایک خاتون نے کی ہو وہ پارٹی ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کرے گی۔ جبکہ آصفہ بھٹو زرداری نے ٹویٹر پر لکھا کہ مسٹر عرفان اللہ مروت کو پی پی پی میں نہیں ہونا چاہیے۔ پی پی پی کی بنیادی اقدار خواتین کا احترام ہے۔ پاکستان کے معروف صحافی مظہر عباس نے روزنامہ “دی نیوز” میں شائع ہونے والے ایک کالم میں لکھا تھا کہ آصف علی زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن بننے کے بعد پہلی دفعہ اتنی سیاسی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ بقول اُن کے زرداری 1990 سے 1993 تک مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران عرفان اللہ مروت کے انتہائی متنازعہ کردار سے بخوبی واقف تھے۔ عرفان اللہ مروت نے اپنی صفائی میں کہا کہ ویناحیات کیس سے متعلق الزامات غلط ہیں اور آصف زرداری کی بیٹیوں کو ورغلایا گیا ہے۔
قارئین کی معلومات کے لئے بتاتے چلیں کہ پاکستان کے بہترین ہدایتکار نذرالاسلام نے اس ریپ کے واقعہ پر مبنی اردو فلم “خواہش” بناکر 1993 کے آخری مہینے میں ریلیز کی تھی ۔ اسے جزوی طور پر ایک آرٹ مُووی کے طور پر بنایا گیا تھا اور اس میں صرف 2 گانے تھے۔ فلم بینوں نے اسے پسند نہ کیا اور یہ چند روز بعد ہی سینما سے اتار دی گئ تھی۔
تیسرا انتہائی شرمناک اور خوفناک واقعہ پرویز مشرف کے دور میں پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں اُس وقت ہوا جب 12 سالہ عبدالشکور کو تین مرد اغوا کر کے اسے گنے کے کھیت میں لے گئے جہاں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔ جب لڑکے نے اس واقعے کے بارے میں خاموش رہنے سے انکار کیا تو اسے عبدالخالق نامی ایک شخص کے گھر میں قید کر دیا گیا۔ جب پولیس وہاں پہنچی تو عبدالشکور پر الزام لگایا گیا کہ اس کا عبدالخالق کی بہن سلمیٰ نسین، جو اس سے پندرہ سال بڑی تھی، کے ساتھ جنسی تعلقات تھے۔ قبیلےکی پنچائت نے حکم دیاکہ سزا کے طور پر عبدالشکور کی 30 سالہ بہن مختاراں مائی سے اجتماعی زیادتی کی جائے۔ گینگ ریپ کے بعد مختاراں مائی کو عریاں کرکے سارے گاؤں کے سامنے گھمایا گیا۔ جب اس واقعہ کو ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں اٹھایاگیا تو یکم ستمبر 2002 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 6 مردوں (4 ریپ کرنے والوں سمیت) کو زیادتی کے جرم میں سزائے موت سنائی گئ۔ لیکن 2005 میں لاہور ہائی کورٹ نے 6 میں سے 5 کو ناکافی شواہد کی بنا پر بری کر دیا اور چھٹے آدمی کی سزائے موت کو عمر قید کی سزا میں تبدیل کر دیا۔ متاثرہ خاتون مختاراں مائی نے اپیل دائر کی مگر سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ملزمان کو بری کردیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے بہت سے پاکستانیوں خصوصاً انسانی حقوق کے کارکنوں کو حیران اور مایوس کیا۔
19 جون 2005 کو نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ مختاراں مائی جب اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سے اپنے پاسپورٹ پر امریکی ویزا کی مہر لگوا کر آئیں تو مشرف کی حکومت نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا۔ جب پاکستانی اخبارات نے حکومت کے اقدام کو احمقانہ قرار دے کر مشرف کے “لبرل عقائد” کا مذاق اُڑایا تب 27 جون 2005 کو مختاراں مائی کا پاسپورٹ اُنہیں واپس کر دیا گیا۔
2006 میں مختاراں مائی کی سوانح عمری فرانس میں شائع ہوئی جس کا اب تک 23 زبانوں میں تر جمہ شائع ہو چکا ہے۔ فوجی آمر پرویز مشرف نے کہا تھا کہ ان جیسی خواتین مغرب کو خوش کرنے اور پاکستان سے باہر جانے کے لیے اپنے ساتھ زیادتی کرواتی ہیں۔ مُختاراں مائی تو آج بھی پاکستان میں رہ رہی ہیں مگر پرویز مشرف صدارت کے عہدے سے ہاتھ دھونے کے بعد پاکستان چھوڑ گئے تھے اور مرنے کے بعد ہی تابوت میں واپس آئے۔ پرویز مشرف نے اپنے ذاتی بلاگ پر اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے 2005 میں مختاراں مائی کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کیں، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے کام اور نام کی پذیرائی سے پاکستان کے بین الاقوامی امیج کو نقصان پہنچے گا۔