بجلی مہنگی، کیا حکومتی اتحاد نے الیکشن نہیں لڑنا

یوں تو گرمیوں کے مہینوں میں صارفین کے بجلی بل عمومی طور پر زیادہ ہی آتے ہیں لیکن رواں موسم گرما میں دو وجوہات کی بنا پر بلوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

بلوں میں ہوشربا اضافے کی سب سے بڑی وجہ فیول ایڈجسٹمنٹ سمیت دیگر نوعیت کے ایک دو چارجز اور گزشتہ سال مرحلہ وار بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کیے جانے والے اضافے ہیں۔گزشتہ دنوں ’عوام کو ریلیف دینے کا بھی بندوبست کریں‘ کے عنوان سے کالم لکھا تھا لیکن حکومت الٹا پہلے سے مہنگی بجلی کو مزید مہنگا کرنے کا ارادہ کیے بیٹھی ہے۔ گزشتہ دنوں نیپرا نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں قریباً پانچ روپے کا اضافہ کیا تھا۔اگرچہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ہونے والے اضافے کی منظوری ابھی حکومت نے نہیں دی لیکن اطلاعات کے مطابق صارفین کو رواں ماہ کے بل بھی نئے ٹیرف کے مطابق موصول ہوئے ہیں۔

بجلی کی قیمت میں حالیہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ آئی ایم ایف سے ہونے والا معاہدہ ہے تاہم نیپرا کے مطابق روپے کی قدر  اور بجلی کی فروخت میں کمی سمیت کچھ دیگر وجوہات کی بنا پر  بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ ناگزیر تھا۔ نئے ٹیرف کے مطابق اب صارفین کو بجلی کا فی یونٹ24روپے کی بجائے 29 روپے میں پڑے گا جب کہ مختلف نوعیت کے کئی ٹیکسز ملا کر بجلی کی فی یونٹ قیمت اوسطا 50 روپے تک پہنچ جائے گی۔

بجلی صارفین کے لیے ایک اور بری خبر یہ ہے کہ رواں ماہ سے بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسمنٹ کا "ٹیکہ" لگنا بھی شروع ہو گیا ہے جو آنے والے دو ماہ میں بھی لگتا رہے گا۔ ایک ہفتہ قبل جاری ہونے والے نیپرا نوٹیفکیشن کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 1روپے24پیسے مہنگی کر دی گئی تھی اور اس ضافے کا اطلاق جولائی، اگست اور ستمبر کے بلوں پر ہوگا۔ واضح رہے کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیے جانے والے اس اضافے سے صارفین پر46ارب53کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔ حکومت کی جانب سے پہلے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں سبسڈی دی جاتی تھی لیکن اب گزشتہ دو سالوں سے اسے منفی یا مثبت دونوں صورتوں میں بل میں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز دراصل ایکچوئل فیول کاسٹ اور ریفرنس فیول کاسٹ میں فرق کی بنیاد پر ایڈجسٹ ہوتے ہیں۔ ہر مالی سال کے آغاز میں نیپرا ایک ریفرنس فیول کاسٹ دیتا ہے جس کی بنیاد پر ہر ماہ ایندھن پر آنے والی کل لاگت کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ ایک مہینے میں بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی مجموعی لاگت دراصل ملک میں توانائی کے مختلف ذرائع میں استعمال ہونے والے ایندھن پر آنے والی لاگت کے اعتبار سے نکالی جاتی ہے۔ اگر کسی ماہ ایکچوئل فیول کاسٹ اس مہینے کی ریفرنس کاسٹ سے زیادہ ہو تو صارفین کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ دوسری صورت میں صارفین کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ریلیف ملتا ہے۔

روس یوکرین جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن پاکستان میں یہ اضافہ اس لیے کچھ زیادہ ہی شدید محسوس ہوا ہے کہ ہم اپنی بجلی کی کل ضروریات کا 31فیصد قابل تجدید ذرائع سے جبکہ 69فیصد ناقابل تجدید ذرائع سے حاصل کر رہے ہیں۔ قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی کل31فیصد بجلی میں سے 26فیصدپانی سے جبکہ بقیہ 5 فیصدسولر اور ونڈ انرجی سے پیدا کی جا رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں ناقابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی میں سے 15فیصدفرنس آئل، 25فیصد ایل این جی، 12 فیصد نیچرل گیس، 9فیصد کوئلے اور8فیصد نیوکلئیر پاور سے پیدا کی جارہی ہے۔ فرنس آئل، ایل این جی اور نیچرل گیس سمیت کوئلے کی قیمتوں پر عالمی حالات کا براہ راست اثر ہوتا ہے۔

پہلے کرونا اور بعد ازاں روس یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات اور کوئلے کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ ہوا جس کا اثر مہنگائی کے علاوہ بجلی کی پیداواری قیمت میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا رہا۔ پاکستان میں پانی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا پوٹینشل ایک لاکھ میگاواٹ تک ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ڈیمز تعمیر نہ کرنے کی وجہ سے ہم جہاں ایک طرف ہائیڈل پاور سے صرف26فیصد بجلی بنا رہے ہیں وہیں مون سون میں زیادہ بارشوں کی صورت میں ہمارے ہاں سیلاب تباہی مچا دیتے ہیں۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ گزشتہ حکومتوں کے دور میں ماحول دوست قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر فوکس کرنے کی بجائے سارا زور تھرمل پاور پلانٹس لگانے پر رہا جس کا نتیجہ مہنگی بجلی کی صورت میں ساری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ توانائی کے حصول کے لیے معدنی وسائل پر انحصار کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت کو ایک جامع منصوبے کے تحت تیل، گیس اور کوئلے پر چلنے والے بجلی گھروں کو بتدریج ختم کرتے ہوئے ان کی جگہ قابل تجدید توانائی(ہائیڈل، سولر، ونڈ) کے ذرائع پر سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے۔ توانائی کے قابل تجدید ذرائع پر سرمایہ کاری بڑھانے سے نہ صرف مستقبل کی انرجی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے بلکہ صنعتوں اورگھریلو استعمال کے لیے کم قیمت بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

حاصل گفتگو یہی ہے کہ پہلے سے غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ عوام کے ناتواں کندھوں پر مہنگی بجلی کا بوجھ لادنا سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔ حکمران اشرافیہ نہ تو خود کو حاصل مفت بجلی کی سہولت سمیت دیگر نوعیت کی مراعات میں کمی کے لیے تیار ہے اور نہ ہی واپڈا ملازمین سمیت دو لاکھ کے قریب سرکاری ملازمین کو سالانہ بنیادوں پر مفت ملنے والے35کروڑ یونٹس بجلی ختم کرنے کے لیے کچھ کر رہی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے ملک دیوالیہ ہونے کے خطرے سے فی الحال بچ گیا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ معیشت کو سنبھالا دینے کے نام پر کیے جانے والے سخت معاشی فیصلوں کی قیمت غریب عوام اور سفید پوش طبقے نے ادا کی ہے۔

حکمران اتحاد سمیت سیاسی جماعتیں جانتی ہیں کہ عوام مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ کرنے والے حکمرانوں کو مسترد کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ 2018  کے بعد سے ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج کو ہی دیکھ لیا جائے تو سب "چانن" ہو جاتا ہے۔ پی ٹی آئی دور کے ابتدائی دو تین سالوں میں ہونے والی مہنگائی کا ردعمل ضمنی انتخابات میں شکست کی صورت میں پی ٹی آئی کو بھگتنا پڑا اور موجودہ حکومتی اتحاد کے ہاتھوں مہنگائی کا عذاب سہنے والے عوام  نے ضمنی انتخابات میں حکمران اتحاد خاص طور پر ن لیگ کے امیدواروں کو ہرا کے بدلہ لیا۔

حرف آخر یہی کہ بجلی کی قیمت میں کیے جانے والے اضافے کو واپس نہ لیا گیا تو عوام آنے والے انتخابات میں اس فیصلے کے خلاف ردعمل ضرور دیں گے۔